مہر خبررساں ایجنسی، سیاست ڈیسک، ہادی رضائی: سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں ایک جدید امریکی MQ-1 ڈرون کو مار گرائے جانے کی اطلاع دی۔
اس رپورٹ کے مطابق، اس ڈرون کو سپاہ کی فضائی و خلائی فورس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے ملکی مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے زیرِ کنٹرول رہتے ہوئے ٹریک کیا اور مار گرایا۔
اگرچہ سپاہ پاسداران کی جانب سے اس کاروائی کی فنی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس کاروائی میں ملکی مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے کردار پر زور دینے سے ایک اہم نکتہ واضح ہوتا ہے؛ دشمن کے طیاروں اور ڈرونز کا مقابلہ محض کسی ایک دفاعی نظام کی کارکردگی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے ہدف کی نشاندہی، شناخت، تعاقب، فیصلہ سازی اور ہدف کو نشانہ بنانے کے مراحل پر مشتمل ایک مربوط سلسلہ درکار ہوتا ہے۔

ایم کیو1؛ میدانِ جنگ میں امریکی فضائی آنکھ
ایم کیو1 پریڈیٹر ڈرون، جسے ’’پریڈیٹر‘‘ یا ’’شکاری‘‘ بھی کہا جاتا ہے، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکہ کے معروف ترین فوجی ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔
یہ ڈرون ابتدا میں جاسوسی اور نگرانی کے مشنوں کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے ہتھیاروں سے لیس کرکے حملہ آور کاروائیاں انجام دینے کی صلاحیت بھی حاصل ہوگئی۔ MQ-1 کو بصری اور حرارتی نظاموں سے لیس کیا گیا ہے اور یہ طویل عرصے تک آپریشنل علاقے میں موجود رہ کر زمینی اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق معلومات جمع کرکے کنٹرول مرکز کو منتقل کر سکتا ہے۔
امریکی فوج کے لیے اس ڈرون کا سب سے اہم فائدہ لازمی طور پر اس کی تیز رفتاری یا اعلیٰ نقل و حرکت نہیں، بلکہ فضا میں طویل عرصے تک موجود رہنے، معلومات جمع کرنے اور میدانِ جنگ سے متعلق معلومات کو فوری طور پر منتقل کرنے کی صلاحیت ہے۔

اسی وجہ سے ایسے ڈرون کو اس سے پہلے کہ وہ اپنا جاسوسی مشن مکمل کرسکے، ٹریک کرکے مار گرانا فوجی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز؛ وہ مقام جہاں ایرانی فضائیہ کو چوکس رہنا ہوگا
اس کاروائی کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ مار گرائے جانے والے ڈرون کا مقام آبنائے ہرمز بتایا گیا ہے؛ یہ دنیا کی اہم ترین تزویراتی گزرگاہوں میں سے ایک اور ایسا خطہ ہے جو ہمیشہ خلیج فارس کی سکیورٹی صورتحال کے مرکز میں رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک جغرافیائی آبی گزرگاہ نہیں، بلکہ ملک کی تزویراتی گہرائی اور قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں غیر علاقائی طاقتوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی جاسوسی یا فوجی پرواز کو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایسے علاقے میں MQ-1 کو مار گرائے جانے کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی فضائیہ نیٹ ورک ایران کے اطراف کے حساس ترین علاقوں میں سے ایک میں بغیر پائلٹ طیاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی ڈرونز کا بار بار شکار
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایرانی ذرائع نے امریکی ڈرونز کو نشانہ بنائے جانے کی خبر دی ہو۔
گزشتہ برسوں میں بھی ایران کو امریکی ڈرونز، بشمول MQ-1 اور MQ-9، کو مار گرانے کا تجربہ رہا ہے؛ یہ معاملہ مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظاموں کی ترقی کے ساتھ مل کر شناسائی اور جنگی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی ایران کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی ایک علامت بن گیا ہے۔
ایم کیو-1 کے علاوہ، امریکہ کے MQ-9 ریپر ڈرونز کو بھی نشانہ بنائے جانے کی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں؛ یہ ڈرون نسل اور آپریشن صلاحیتوں کے اعتبار سے MQ-1 سے زیادہ جدید تصور کیا جاتا ہے۔
امریکہ کے لیے جدید شکار کا پیغام
حالیہ کاروائی کی اہمیت کو محض ایک ڈرون کے مار گرائے جانے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ جدید جنگوں میں جاسوسی ڈرونز فوجی دستوں کے اطلاعاتی اور کمانڈ نظام کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات فوجی دستوں کی پوزیشن، دفاعی نظام اور فوجی نقل و حرکت کا پتا لگانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
لہٰذا اس ڈرون کو مار گرایا جانا محض ایک فضائی ذریعے کو ختم کرنا نہیں، بلکہ ایک جاسوسی مشن کو ناکام بنانا اور مدمقابل پر لاگت مسلط کرنا بھی ہے۔
دوسری جانب، اس طرح کی کاروائیوں کا بار بار ہونا ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملکی فضائیہ کی ترقی صرف دفاعی نظاموں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ نیٹ ورکنگ، اہداف کی دریافت، کمانڈ و کنٹرول اور فضائی دفاع کے مختلف اجزا کے درمیان ہم آہنگی جیسے امور پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

ایران کی فضائی حدود؛ دفاعی طاقت کی آزمائش کا میدان
اسلامی جمہوریہ ایران بارہا اعلان کر چکا ہے کہ وہ ملک کی فضائی حدود کو غیر ملکی افواج کی جانب سے معلومات جمع کرنے اور فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
گزشتہ دنوں اور برسوں میں امریکی ڈرونز کو مار گرائے جانے سے لے کر حالیہ کاروائیوں تک، ملکی فضائی دفاع کی کارکردگی میں ایک مشترکہ پیغام نظر آتا ہے: دشمن کا ڈرون جتنی زیادہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہوگا، اس کی نشاندہی اور تعاقب کرنا فضائی دفاعی نیٹ ورک کے لیے اتنا ہی زیادہ اہم ہوگا۔
اسی بنیاد پر، آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں MQ-1 کو مار گرائے جانے کو ایران کی مسلح افواج کی جانب سے ملک کی فضائی حدود اور اردگرد کے پانیوں کی سلامتی برقرار رکھنے اور غیر ملکی جاسوسی و فوجی ڈرونز کی آزادانہ سرگرمیوں کو روکنے کی تازہ ترین کوشش قرار دیا جا سکتا ہے؛ یہ کاروائی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز اور ملک کی اردگرد کی فضائی حدود، غیر علاقائی طاقتوں کی سرگرمیوں کے لیے کوئی آزاد اور محفوظ علاقہ نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ