مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو ایسے معاہدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو جنگ کے خاتمے کے بجائے اسرائیل کی عسکری کامیابیوں کو مستحکم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ لبنان کے قومی اقتدار، مزاحمتی محاذ کی حیثیت اور ملک کے اندر طاقت کے توازن کو ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ لبنان اس مقام تک کیسے پہنچا؟ اس کی وجہ ایک ایسی اسٹریٹجک غلطی کو قرار دیا جا رہا ہے جو مذاکرات کے آغاز ہی سے موجود تھی۔ کہا جاتا ہے کہ لبنانی حکومت نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی 14 نکاتی مفاہمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ حزب اللہ اور ایران سے الگ ہو کر براہِ راست جنگ سے متعلق معاملات سنبھال سکتی ہے۔ یہ حکمتِ عملی نہ تو مطلوبہ خودمختاری دلاسکی اور نہ ہی لبنان کے لیے پائیدار سلامتی کا باعث بنی، بلکہ اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
لبنانی حکومت کا خیال تھا کہ مزاحمتی کردار کو پس پشت ڈال کر براہِ راست مذاکرات کے ذریعے زیادہ رعایتیں حاصل کی جاسکیں گی، تاہم معاہدے کا متن اس کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں اسرائیل کے بیشتر اہم مطالبات شامل کر لیے گئے ہیں، جن میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسلحے کو مکمل طور پر ریاست کے اختیار میں دینے، امریکی حمایت سے مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے، لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے، مستقل امن معاہدے کی بنیاد رکھنے اور بالآخر اسرائیلی قبضے کو عملی طور پر قانونی حیثیت دینے جیسے نکات شامل ہیں۔
اسرائیل کی سیاسی فتح اور قبضے کو قانونی جواز
اسرائیل کئی دہائیوں کی جنگوں اور فوجی جارحیت کے باوجود جو مقاصد حاصل نہیں کر سکا، اب وہ انہیں ایک سیاسی معاہدے کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں صہیونی وزیر اعظم نتن یاہو کا بیان بھی قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے معاہدے کے بعد دعوی کیا کہ یہ پیش رفت اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ پر کیے گئے شدید حملوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول یہ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کو کمزور جبکہ اسرائیل کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اس عمل کو قبول کرنے پر لبنانی حکومت کی "جرأت" کو بھی سراہا۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ تل ابیب اس معاہدے کو کسی باہمی سمجھوتے کے بجائے اپنی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی تصور کرتا ہے۔
اس معاہدے کا سب سے اہم اور متنازع پہلو یہ ہے کہ یہ عملاً اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ معاہدے کو جنگ کے خاتمے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس میں اسرائیلی فوج کے لبنان سے فوری انخلا کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں۔ اس کے برعکس، اسرائیلی انخلا کو مزاحمتی گروہوں کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جب تک اسرائیل لبنان کی تمام شرائط پر عمل درآمد سے مطمئن نہیں ہوتا، اس کی فوجی موجودگی برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی قبضہ اب صرف ایک غیرقانونی فوجی اقدام نہیں رہے گا بلکہ لبنان پر سیاسی اور سکیورٹی دباؤ ڈالنے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
لبنان میں داخلی تصادم کے بڑھتے خدشات
بین الاقوامی قانون کی رو سے کسی علاقے پر قبضہ غیرقانونی عمل ہے، لیکن جب کسی دوطرفہ معاہدے کے تحت قابض قوت کی موجودگی کو قبول کر لیا جائے تو اسے عملا سیاسی جواز مل جاتا ہے۔ حزب اللہ نے بھی اسی خطرے سے خبردار کیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اس معاہدے کو ذلت آمیز اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کو مزاحمت کے اسلحے سے مشروط کرنا تمام سرخ خطوط عبور کرنے کے مترادف ہے اور اس سے جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
اس معاہدے کا ایک اور زیادہ خطرناک پہلو اس کے اندرونی اثرات ہیں۔ اب اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف براہِ راست جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری لبنانی فوج کے سپرد کر دی گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جس ہدف کو اسرائیل برسوں کی جنگ کے باوجود حاصل نہ کرسکا، وہی کام اب لبنانی ریاست کے ذمے ڈال دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی اس امکان کا ذکر کر رہے ہیں کہ لبنانی فوج اور حزب اللہ آمنے سامنے آجائیں جبکہ اسرائیل محض تماشائی بنا رہے۔
اگر یہ صورت حال پیدا ہوئی تو لبنان اپنی جدید تاریخ کے انتہائی خطرناک دور میں داخل ہوسکتا ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی حکومت، فوج اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان اختلافات سکیورٹی تصادم میں تبدیل ہوئے، ملک خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ اب بھی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزاحمت کے اسلحے کے مسئلے پر سیاسی اختلاف فوجی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو پہنچے گا۔
امریکا کا بڑھتا کردار اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا خدشہ
اس معاہدے میں امریکہ صرف ایک غیر جانب دار ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا بلکہ اس کے نفاذ کا مرکزی فریق بن چکا ہے۔ معاہدے کی تقریباً تمام اہم شقیں امریکہ کی نگرانی، حمایت یا ضمانت سے وابستہ ہیں۔ ان میں سکیورٹی انتظامات، لبنان کی تعمیر نو، اقتصادی امداد، مشترکہ ورکنگ گروپس کا قیام اور حتی کہ مالی وسائل کے استعمال کی نگرانی بھی شامل ہے۔
اس وسیع امریکی کردار نے لبنان کی آزادانہ فیصلہ سازی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جس حکومت نے مزاحمتی محور سے خود کو الگ اور آزاد ثابت کرنے کی کوشش کی، وہ اب اپنے تقریباً تمام سکیورٹی اور معاشی معاملات واشنگٹن سے وابستہ کرتی نظر آتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ایک علاقائی فریق سے فاصلے کی کوشش میں لبنان خود کو ایک عالمی طاقت پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے کی پوزیشن میں لے آیا ہے۔
شائع شدہ متن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ فریم ورک مستقبل میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جس عمل کو جنگ کے خاتمے کے عنوان سے پیش کیا جا رہا ہے، وہ کل اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی اور تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، حالانکہ لبنان کے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اب تک ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا آیا ہے۔
معاہدہ یا اسرائیل کی اسٹریٹجک فتح؟
اس معاہدے کے علاقائی اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔ اگر کوئی ملک فوجی جارحیت کا سامنا کرنے کے بعد اپنے علاقے کے ایک حصے پر قبضے کو قبول کر لے، داخلی مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے پر آمادہ ہو جائے اور اپنی سلامتی کے بجائے دشمن کی سلامتی کو ترجیح دے، تو یہ خطے کے لیے ایک خطرناک نظیر بن سکتی ہے۔ ایسی صورت میں فوجی جارحیت مستقبل میں سیاسی کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
لبنانی حکومت اپنی حکمت عملی میں ایک بنیادی غلطی کا شکار ہوئی۔ حکومت کا خیال تھا کہ مزاحمتی محاذ سے فاصلہ اختیار کرکے اور آزادانہ طور پر مذاکرات میں شامل ہو کر وہ لبنان کی پوزیشن کو مضبوط بنا لے گی، لیکن نتائج اس کے برعکس سامنے آئے۔ آج اسرائیل خود اس معاہدے کو اپنی ایک تاریخی کامیابی قرار دے رہا ہے، جبکہ معاہدے کا متن بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تل ابیب کے تقریباً تمام اہم اسٹریٹجک مقاصد، جن میں حزب اللہ کو کمزور کرنا اور لبنان کے سکیورٹی ڈھانچے میں تبدیلی لانا شامل ہے، اس میں جگہ پا چکے ہیں۔
لبنان کے پاس ایک متبادل راستہ بھی موجود تھا، جس کی بنیاد جنگ کے خاتمے، اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا اور مزاحمتی توازن کو برقرار رکھنے پر رکھی جا سکتی تھی۔ تاہم لبنانی حکومت نے سیاسی خودمختاری کا تاثر دینے کی خاطر سابقہ مفاہمت سے ہٹ کر براہِ راست مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف قومی خودمختاری مضبوط نہ ہوسکی بلکہ اسرائیلی قبضے کو سیاسی جواز ملا، مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری لبنانی فوج پر ڈال دی گئی، داخلی معاملات میں امریکہ کا کردار مزید بڑھ گیا اور ملک کے اندر گہرے سیاسی و سماجی اختلافات پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ گیا۔
حاصل سخن
اس پوری صورتحال سے سب سے اہم سبق یہ ملتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں جذباتی یا علامتی فیصلے کبھی بھی اسٹریٹجک سوچ اور حقیقت پسندانہ حساب کتاب کا متبادل نہیں بن سکتے۔ کسی ملک کی خودمختاری صرف ایک اتحادی سے دوری اختیار کرنے کا نام نہیں، بلکہ حقیقی خودمختاری اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ریاست جارح فریق کے مطالبات تسلیم کیے بغیر اپنی سرزمین، قومی حاکمیت اور عوام کی سلامتی کا مؤثر دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اگر کسی معاہدے کا نتیجہ یہ نکلے کہ قابض قوت خود کو فاتح قرار دے، مزاحمتی قوتیں کمزور ہو جائیں، ملک میں خانہ جنگی کے خطرات بڑھ جائیں اور دشمن کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی راہ ہموار ہو جائے، تو ایسے معاہدے کو لبنان کی کامیابی یا قومی مفاد قرار دینا انتہائی مضحکہ خیز اور حقیقت کے منافی ہوگا۔
آپ کا تبصرہ