مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے حملوں سے بحرین میں امریکی بحریہ کے مرکزی لاجسٹک مرکز کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد امریکی بحریہ کو اپنا علاقائی لاجسٹک مرکز بحرین سے منتقل کرکے ڈیگو گارشیا لے جانا پڑا۔ اس اقدام سے خلیج فارس میں موجود سپلائی نیٹ ورک ایک 2200 میل طویل اور نسبتاً غیر محفوظ بحری رسد کے سلسلے میں تبدیل ہو گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی طیارہ بردار جہازوں کی کارروائیاں اور ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ جاری رہا، تاہم "یو ایس ایس ابراہم لنکن" میں رپورٹ ہونے والی مشکلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی انفراسٹرکچر کی تباہی، کسی جوہری طیارہ بردار جہاز پر براہ راست حملہ کیے بغیر بھی، بتدریج اس کی جنگی استقامت کو کم کر سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی فوج کے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے "ابراہم لنکن" کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جہاز 260 روز سے زائد عرصے سے سمندر میں موجود ہے اور اس کے کمانڈر ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو جنگ کے دوران ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث امریکی بحریہ کو زیادہ عرصے تک سمندر میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔
دوسری جانب امریکی بحریہ کے سابق افسر ہارلن اُولمین نے کہا کہ "ابراہم لنکن" کی طویل سمندری تعیناتی اس کی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیتوں کو بتدریج متاثر کرتی ہے، جبکہ اس سے عملے پر بھی شدید دباؤ پڑتا ہے اور ان کے حوصلے متاثر ہوتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ