7 اکتوبر، 2026، 9:42 PM

ایرانی اعلٰی پولیس کمانڈر کی اسپیکر سے ملاقات؛ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال

ایرانی اعلٰی پولیس کمانڈر کی اسپیکر سے ملاقات؛ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ملک کے اعلیٰ پولیس افسر سے ملاقات میں ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ملک کی داخلی سلامتی کے قیام اولین ترجیح قرار دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پولیس کمانڈر سردار احمدرضا رادان اور پولیس کمانڈ کے ارکان نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف سے ملاقات اور گفتگو کی۔

قالیباف نے اس ملاقات میں ملک بھر میں پولیس کمانڈ کے کمانڈروں اور تمام اہلکاروں کی جانب سے عوام کی خدمت اور دشمن کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور جدوجہد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر کوشش ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصاد کے شعبے میں خصوصی طور پر سنجیدہ اقدامات انجام دیں۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف 40 روزہ جنگ میں امریکہ کی جانب سے کی جانے والی شدید اور وسیع فوجی جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے اس جنگ میں سمجھ لیا کہ وہ ان فوجی اقدامات کے ذریعے ایران کو نقصان نہیں پہنچا سکتے؛ اسی لیے انہوں نے ایران کے خلاف سنجیدہ اور بنیادی دباؤ کو اقتصادی مسائل اور ملک کے داخلی امن و سلامتی کو درہم برہم کرنے پر مرکوز کردیا ہے۔

قالیباف نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن کی منصوبہ بندی ملک کے اندر پُرتشدد اقدامات پر مرکوز ہے، کہا کہ دشمن کی یہ منصوبہ بندی اور سازش ظاہر کرتی ہے کہ ہماری اولین ترجیح بھی اقتصادیات کو مضبوط بنانے اور داخلی سلامتی کے قیام کے لیے کوشش ہونی چاہیے۔

قالیباف نے ملک کی پولیس کمانڈ میں اپنی سابقہ ذمہ داری کے دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دور کے بعد، پولیس میں اپنی موجودگی کے دور کو اپنی زندگی کا بہترین دور سمجھتا ہوں۔

ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ پولیس کے اہلکار جن دباؤ کو برداشت کرتے ہیں، وہ جنگ اور امن ہر طرح کے حالات میں موجود رہتا ہے اور اس فورس کے اہلکار معمول کے حالات میں بھی 24 گھنٹے اپنی ذمہ داریاں اور کارروائیاں انجام دیتے رہتے ہیں اور یہ ملک کی پولیس کمانڈ کے اہلکاروں کی خصوصیات میں شامل ہے۔

انہوں نے دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے مشکل حالات میں ملک کی سلامتی برقرار رکھنے اور عوام کو خدمات فراہم کرنے میں اس کمانڈ کے اہلکاروں کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ریاستی ادارے اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ تمام مسلح افواج، بالخصوص پولیس کے مختلف بنیادی ڈھانچے، اقتصادی اور معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کریں اور مختلف شعبوں میں اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

News ID 1941949

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha