4 اکتوبر، 2026، 1:56 PM

ایران کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، قالیباف

ایران کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح اور قطعی ہے اور جب تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کی سات شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔

قالیباف نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہفتہ پولیس کی آمد پر ایرانی پولیس فورس کے اہلکاروں کو مبارکباد پیش کی اور پولیس کی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے مضبوط بنانے اور پولیس اہلکاروں سمیت مسلح افواج کے اہلکاروں کے معاشی حالات بہتر بنانے کو پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

انہوں نے ایشین گیمز ناگویا میں ایرانی دستے کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ ایرانی کھلاڑیوں نے 52 مختلف تمغے حاصل کیے ہیں۔ ایرانی خواتین کھلاڑیوں نے تین طلائی تمغے حاصل کرکے تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

قالیباف نے 7 اکتوبر کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسے خطے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ فلسطینی مجاہدین نے اس دن اسرائیلی سلامتی کے تصور کو چیلنج کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس واقعے کے اثرات زیادہ واضح ہوئے ہیں اور اسرائیل کو عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ امریکہ ایرانی عوام کی مزاحمت کے مقابلے میں مشکلات سے دوچار ہے۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ثالثوں کے ذریعے بعض تجاویز پیش کی ہیں، تاہم یک طرفہ مطالبات مسلط کرنے کا دور گزر چکا ہے۔ امریکی حکام ایک طرف مذاکرات اور معاہدے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف فوجی کارروائی اور تباہی کی دھمکیاں دیتے ہیں، جبکہ بعض اوقات ثالثی اور مفاہمت کی بات بھی سامنے آتی ہے۔ ان متضاد بیانات کا مقصد ایرانی معاشرے میں ذہنی انتشار پیدا کرنا اور فیصلہ سازی کو متاثر کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور حکمت عملی کو امریکی حکام کے روزانہ بیانات یا سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر طے نہیں کرتا بلکہ دشمن کے حقیقی اقدامات کو اپنی پالیسی کی بنیاد بناتا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی اقتدار اور عقلانیت پر مبنی ہے، اس لیے نہ ایران جذباتی فیصلے کرے گا اور نہ خوف زدہ ہوگا۔ ایران ایک طرف فوجی میدان میں اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ موجود ہے اور دوسری طرف اپنے حقوق کے حصول اور فوجی میدان میں حاصل برتری کو مستحکم کرنے کے لیے سفارت کاری کے ذرائع سے بھی استفادہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر وہی فریق کامیاب ہوتا ہے جو جنگ کے لیے بھی خود کو تیار رکھتا ہو۔ ایران اور مزاحمتی محاذ اس وقت اپنی طاقت کی بلند سطح پر ہیں اور ملک قومی اتحاد اور دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

News ID 1941853

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha