مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریکِ جہادِ اسلامی فلسطین کے سیکریٹری جنرل زیاد النخاله نے تحریک کے قیام کی 39ویں سالگرہ اور طوفان الاقصیٰ کو تین سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا کہ ہم اپنی قوم کی مزاحمت کا جشن مناتے ہیں اور ان کی مسلسل قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ طوفان الاقصیٰ فلسطینی عوام کے خلاف غاصب اسرائیلی جارحیت کا فطری ردعمل تھا۔
انہوں نے کہا کہ سخت حالات کے باوجود فلسطینی عوام مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینی عوام تین سال سے غاصب اسرائیل کی مسلسل جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں اور ہم 80 ہزار سے زائد شہداء کے ساتھ جارحیت کے چوتھے سال میں داخل ہو رہے ہیں۔
النخاله نے کہا کہ دشمن نے تمام اقدامات اور کوششوں کو نظرانداز کیا اور فلسطینی عوام کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھی۔ ہم غزہ کی حمایت میں لبنان کے عوام اور ان کی مزاحمت کی مسلسل قربانیوں پر تہہ دل سے قدردانی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمن کے عزیز عوام کو سلام، جو ہمارے شانہ بشانہ لڑے، پیچھے نہیں ہٹے اور ان کے صالح شہداء کو سلام۔
النخاله نے کہا کہ فلسطینی عوام صیہونی-امریکی جارحیت کے مقابلے میں ثابت قدم اور مزاحمت پر قائم ہیں اور فلسطین میں اپنے تاریخی حقوق کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید علی خامنہ ای کی شہادت صیہونی استکبار کے مقابلے میں ایک عظیم علامت کے طور پر باقی رہے گی۔ یہ جنگ دشمن، صیہونی منصوبے اور اس کے اتحادیوں کے خلاف امتِ واحدہ کی جنگ ہے۔ ہزاروں فلسطینیوں نے پختہ عزم اور حوصلے کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا ہے، ان کے اندر ایسی ثقافت موجود ہے جو انہیں اپنی سرزمین پر قابض دشمن کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔
نخاله نے کہا کہ فلسطینی عوام نے مزاحمت ترک نہیں کی اور نہ ہی کریں گے، وہ پُرعزم ہیں اور اپنی سرزمین پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ فلسطینی عوام اپنے بچوں اور مجاہدین کے عزم و ارادے کے ساتھ، ان کے خلاف بے دخلی کے منصوبوں کے نفاذ کے باوجود، اپنی سرزمین کو اپنے قاتلوں اور مجرموں کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ تحریکِ جہادِ اسلامی فلسطین میں اور جہاں کہیں بھی موجود ہوں، مزاحمتی قوتوں کے اتحاد اور فلسطینی قوم کے اتحاد پر زور دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک بار پھر اپنی قوم سے عہد کرتے ہیں کہ جب تک صیہونی منصوبہ ہماری سرزمین میں قائم ہے، ہم ہر ممکن ذریعے کے ساتھ جہاد اور مزاحمت کے عہد پر قائم رہیں گے۔ فلسطین اور خطے میں مزاحمتی قوتوں کا اتحاد تمام چیلنجز کے باوجود برقرار رہے گا۔
انہوں نے تاکید کی کہ یہ سال صیہونی جارحیت اور فلسطینی نصب العین کو تباہ کرنے کے لیے اس کے اتحادیوں کی کوششوں کے مقابلے میں ہماری قوم کی ثابت قدمی اور مزاحمت کا سال ہے۔ مزاحمت نے متعدد اقدامات پیش کیے اور جنگ روکنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ مثبت انداز میں تعاون کیا، لیکن قابضین نے مغربی کنارے کے خلاف اپنی جارحیت میں توسیع جاری رکھی۔
نخاله نے کہا کہ جنگ روکنے اور مزاحمت کی جانب سے دشمن قیدیوں کو آزاد کرنے کے لیے درجنوں اقدامات کے باوجود، قابضین غزہ کے عوام کے قتل عام اور انہیں بے گھر کرنے کا پرچم بدستور بلند کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ ہم لبنان میں اپنے بھائیوں کی قربانیوں اور ان کی مزاحمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جو غزہ کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے، دشمن کے خلاف جنگ کی اور شہادتیں پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین سے ہمیں بے دخل کرنے اور ہماری قوم کو بے گھر کرنے کا سانحہ ایک ایسا جرم ہے جسے دشمن غزہ اور مغربی کنارے میں دہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ