7 اکتوبر، 2026، 8:33 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

صہیونی رژیم بحرانوں کی زد میں، ایک چنگاری اندرونی انہدام کا سبب بن سکتی ہے

صہیونی رژیم بحرانوں کی زد میں، ایک چنگاری اندرونی انہدام کا سبب بن سکتی ہے

طویل جنگ، معاشی دباؤ، سیاسی اختلافات اور بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی نے صہیونی معاشرے کو ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں ایک معمولی واقعہ بھی بڑے سیاسی و سماجی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی حکومت کے وجود کو آج کسی بھی فوجی حملے سے بڑھ کر وہ اندرونی دراڑیں خطرے میں ڈال سکتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ طویل جنگوں، معاشی دباؤ، سیاسی اختلافات اور بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی نے اسرائیلی معاشرے کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے امریکی سکیورٹی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک خفیہ رپورٹ، جسے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے منسوب کیا جا رہا ہے، میں مقبوضہ علاقوں میں خانہ جنگی یا سیاسی انہدام کے امکان کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے۔ اندر سے دراندازی کے عنوان سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو بیک وقت شدت اختیار کرنے کی صورت میں رژیم صہیونی کے سیاسی اور سماجی استحکام کو سنگین بحران سے دوچار کر سکتے ہیں۔

ان عوامل میں فوجی اخراجات میں اضافہ، معاشی دباؤ، جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں کے ذہنی و نفسیاتی مسائل، حریدی یہودیوں کی فوجی خدمت سے متعلق اختلافات اور بنیامین نیتن یاہو کی اقتدار برقرار رکھنے کی کوششیں شامل ہیں۔

جنگ کا معاشی بوجھ

رپورٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے اور ان اخراجات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں اسرائیلی معاشرے کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

مسئلہ صرف اشیا کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ ایسے وقت میں زندگی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جب رژیم کے مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں جنگ محض میدان جنگ کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ براہ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سکیورٹی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اگر معاشرہ یہ محسوس کرنے لگے کہ جنگ طویل ہو چکی ہے، اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اس کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا تو عوام یہ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ اخراجات کیوں برداشت کیے جا رہے ہیں، اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے اور کیا موجودہ پالیسیوں کا تسلسل واقعی زیادہ تحفظ فراہم کر رہا ہے؟

فوجی خدمت پر بڑھتا اختلاف

صہیونی حکومت میں یہ سوالات معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان فوجی اور سکیورٹی منصوبے میں شرکت کے حوالے سے موجود پرانے اختلاف سے بھی جڑ گئے ہیں۔

حریدی یہودیوں کی فوجی خدمت کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ معمول کے حالات میں یہ مسئلہ محض ایک سیاسی یا قانونی تنازع سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب کوئی رژیم طویل جنگ میں مصروف ہو اور اس کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو بار بار محاذ پر بھیجا جا رہا ہو تو جنگ کا بوجھ اٹھانے میں عدم مساوات کا احساس سماجی اختلافات کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

جنگ کے نفسیاتی اثرات

طویل عرصے تک جنگ میں رہنے والے فوجیوں کی واپسی بھی اپنے ساتھ وسیع سماجی اور نفسیاتی اثرات لا سکتی ہے۔ ذہنی دباؤ، تھکن، نفسیاتی صدمات اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی میں مشکلات ایسے مسائل ہیں جو فوجی آپریشن ختم ہوتے ہی ختم نہیں ہو جاتے۔

جنگ کا دائرہ اور دورانیہ جتنا بڑھتا جائے گا، ایسے تجربات کے ساتھ معاشرے میں واپس آنے والے افراد کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس طرح جنگ کی ایک بڑی قیمت اس وقت بھی سامنے آ سکتی ہے جب میدان جنگ دوبارہ میڈیا کی توجہ کا مرکزی موضوع نہ رہے۔

سیاسی بحران اور نیتن یاہو

اس کے ساتھ سیاسی بحران بھی بدستور موجود ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی کارکردگی اور اقتدار میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوششیں رژیم کے اندرونی اختلافات کے اہم محوروں میں شامل ہیں۔

جب کسی سیاست دان کا سیاسی مستقبل کسی سکیورٹی بحران کے تسلسل سے جڑ جائے تو عوامی سطح پر سکیورٹی فیصلوں اور سیاسی مفادات کے درمیان فرق بھی مبہم ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہر نئی فوجی کارروائی کے سکیورٹی نتائج کے ساتھ ساتھ سیاسی معنی بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

انتخابات اور ایک چنگاری

یہ صورتحال انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ مزید اہم ہوجاتی ہے۔ ہر معاشرے میں انتخابات سیاسی اختلافات کو بڑھا سکتے ہیں، لیکن ایسے معاشرے میں جہاں بیک وقت معاشی دباؤ، جانی نقصانات، فوجی تھکن اور سماجی اختلافات موجود ہوں، انتخابی مقابلہ گہری دراڑوں کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسی لیے ایک چنگاری کے امکان سے متعلق انتباہ اہمیت رکھتا ہے۔ بڑے سماجی بحران ہمیشہ کسی ایک بڑے اختلاف سے شروع نہیں ہوتے۔ بعض اوقات چھوٹے اور جمع ہوتے ہوئے اختلافات صرف ایک ایسے واقعے کے منتظر ہوتے ہیں جو انہیں ایک وسیع بحران میں تبدیل کر دے۔

بین الاقوامی تنہائی کا دباؤ

ایک اور اہم مسئلہ رژیم کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی ہے۔ اس رژیم نے گزشتہ دہائیوں میں اپنی طاقت صرف فوجی صلاحیت سے حاصل نہیں کی بلکہ اسے امریکہ کی سیاسی و اقتصادی حمایت اور مغربی ممالک کے ساتھ وسیع تعلقات سے بھی تقویت ملی ہے۔

لہٰذا اس حمایت میں کمی کی کوئی بھی علامت محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں زیادہ وسیع نفسیاتی اور سیاسی اثرات پیدا کرسکتی ہے۔ اگر اسرائیلی معاشرہ یہ محسوس کرے کہ اسے حاصل بیرونی پشت پناہی کم ہورہی ہے تو اس کے رہنماؤں کی مستقبل کے حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔

کیا سیاسی انہدام یقینی ہے؟

تاہم سیاسی انہدام یا خانہ جنگی کے امکان کو یقینی واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رژیم اب بھی مضبوط فوجی، سکیورٹی اور سیاسی ڈھانچوں کی حامل ہے اور بحرانوں سے نمٹنے کی قابل ذکر صلاحیت رکھتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں الگ الگ موجود رہنے والے متعدد دباؤ اب ایک ہی وقت میں شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ معاشی دباؤ، جنگی تھکن، سماجی اختلافات، سیاسی بحران اور بیرونی حمایت میں کمی کا بیک وقت بڑھنا ہی ایک ممکنہ کمزوری کو حقیقی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔

اصل کمزوری کہاں ہے؟

درحقیقت رژیم صہیونی کی بنیادی کمزوری ممکن ہے کہ سرحدوں پر نہیں بلکہ اس کے اپنے معاشرے کے اندر موجود ہو۔ کوئی بھی رژیم میزائل حملے، فوجی کارروائی یا بیرونی دباؤ کا جواب سکیورٹی ذرائع سے دے سکتی ہے، لیکن عوامی عدم اعتماد، سماجی سرمایہ کے زوال، مختلف طبقات کے درمیان اختلاف اور سیاسی کارکردگی سے پیدا ہونے والی بے چینی کا مقابلہ کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں مذکورہ رپورٹ کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ معاملہ صرف کسی ایک فوجی کارروائی کی ناکامی یا کسی مخصوص محاذ پر شکست کا نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کا ہے جو بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر معاشی دباؤ، جنگی تھکن، سماجی اختلافات، سیاسی بحران اور بیرونی حمایت میں کمی ایک ساتھ بڑھتی رہی تو ایک محدود واقعہ بھی کسی بڑے بحران کے آغاز کا نقطہ بن سکتا ہے۔

صہیونی حکومت نے برسوں تک طاقت، اتحاد اور مستقل سکیورٹی کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اگر یہ تصویر خود اسرائیلی معاشرے کے اندر کمزور پڑنے لگے تو ایسا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جس کا حل محض فوجی طاقت سے ممکن نہ ہو۔

شاید اس رژیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ آخرکار بیرونی حملہ نہ ہو بلکہ وہ دراڑ ہو جو خاموشی سے اندر ہی اندر پھیل رہی ہے۔ اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل میدان جنگ میں کتنی فوجی طاقت رکھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسرائیلی معاشرہ موجودہ صورتحال کو مزید کتنی دیر برداشت کرسکتا ہے۔ اگر یہ برداشت اپنی آخری حد تک پہنچ گئی تو ایک معمولی چنگاری ایسے بحران کو بھڑکا سکتی ہے جس پر قابو پانا صہیونی حکومت کے سیاسی ڈھانچے کے لیے انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

News ID 1941928

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha