8 اکتوبر، 2026، 9:05 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

طوفان الاقصی آپریشن اور اسرائیل کے اسٹرٹیجک زوال کا آغاز

طوفان الاقصی آپریشن اور اسرائیل کے اسٹرٹیجک زوال کا آغاز

طوفان الاقصی آپریشن نے نہ صرف اسرائیل کے سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا بلکہ فلسطین کو دوبارہ علاقائی و عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا اور تل ابیب کو طویل جنگ، بڑھتے ہوئے سیاسی و سفارتی دباؤ اور متعدد محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: طوفان الاقصی آپریشن کی اہمیت کو صرف اس کے فوجی پہلو تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ 7 اکتوبر 2023 ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے مغربی ایشیا کے سکیورٹی، سیاسی اور ابلاغی منظرنامے میں کئی بنیادی مساوات کو تبدیل کر دیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب غزہ کے طویل محاصرے، فلسطینی علاقوں پر قبضے، صہیونی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود مسئلہ فلسطین علاقائی اور عالمی سیاست کی ترجیحات میں نسبتاً پس منظر میں جا رہا تھا۔ بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل نے بھی یہ تاثر پیدا کر دیا تھا کہ فلسطین کے بنیادی مسئلے کو حل کیے بغیر بھی اسے علاقائی سیاست سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ طوفان الاقصی آپریشن نے اس عمل کو روک دیا اور مسئلہ فلسطین ایک بار پھر مغربی ایشیا کی سیاسی صورتحال کا مرکزی موضوع بن گیا۔

اسرائیلی سکیورٹی کے دعوے کو دھچکا

اس کارروائی کا پہلا بڑا اثر اسرائیل کے سکیورٹی تصور پر پڑا۔ تل ابیب نے برسوں تک اپنی سلامتی کو انٹیلی جنس برتری، جدید ٹیکنالوجی، حفاظتی دیوار، نگرانی کے نظام اور فوجی طاقت کے مجموعے سے جوڑ رکھا تھا اور اسے مقبوضہ علاقوں میں آباد کاروں اور اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کی ضمانت قرار دیا جاتا تھا۔

7 اکتوبر نے ظاہر کیا کہ وسیع انٹیلی جنس اور نگرانی کے نظام کے باوجود مکمل سکیورٹی یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔ بعد ازاں اسرائیل کے اندر ہونے والی تحقیقات اور رپورٹس نے بھی سکیورٹی اور فوجی ڈھانچے کی متعدد کمزوریوں کو نمایاں کیا۔

یوں مسئلہ صرف فلسطینی جنگجوؤں کا اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں میں داخل ہونا نہیں تھا بلکہ اسرائیلی عوام کے اس اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچا کہ حکومت انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جنگ اور اہداف کا تضاد

اسرائیل نے اس شکست کے جواب میں غزہ کے خلاف ایک وسیع جنگ شروع کی۔ تل ابیب نے حماس کے خاتمے، اسرائیلی قیدیوں کی واپسی اور ایک نئے سکیورٹی ماحول کے قیام جیسے بڑے اہداف کا اعلان کیا۔

تاہم ابتدا ہی سے اعلان کردہ اہداف اور ان کے عملی حصول کے درمیان فاصلہ نمایاں تھا۔ وسیع پیمانے کی فوجی کارروائی اور غزہ میں ہونے والی شدید تباہی کے باوجود فلسطین کا سیاسی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔

حماس بھی فلسطینی سیاسی و مزاحمتی منظرنامے سے ختم نہیں ہوئی اور غزہ کے مستقبل، وہاں کی حکمرانی، مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل کے ساتھ اس علاقے کے مستقبل کے تعلقات جیسے بنیادی سوالات بدستور موجود رہے۔

فوجی فتح یا تزویراتی کامیابی؟

یہاں فوجی فتح اور تزویراتی فتح کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کوئی فوج مخالف فریق کے بڑے حصے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرسکتی ہے، لیکن اگر وہ جنگ کے بعد کی سیاسی صورتحال کو اپنے مطلوبہ اہداف کے مطابق تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہو تو فوجی کامیابی لازماً تزویراتی فتح میں تبدیل نہیں ہوتی۔

غزہ کی جنگ نے اسی تضاد کو نمایاں کیا ہے۔ اسرائیل نے اپنی فوجی طاقت کا ایک بہت بڑا حصہ استعمال کیا، لیکن اب بھی اسی بنیادی سوال کا سامنا کر رہا ہے جو جنگ سے پہلے موجود تھا: کیا مسئلہ فلسطین کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے؟

لبنان اور ایران؛ جنگ کا پھیلتا دائرہ

یہ صورت حال لبنان کے محاذ پر بھی دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن اسے لبنان کے سیاسی اور سکیورٹی نظام سے مکمل طور پر خارج نہیں کر سکا۔ 2026 میں دوبارہ کشیدگی نے بھی ظاہر کیا کہ کسی عسکری فریق کو شدید نقصان پہنچانا لازماً خطرے کے خاتمے یا طاقت کے توازن میں مستقل تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔

ایران کے معاملے میں بھی اسرائیل اور امریکا کے براہ راست حملے تہران کو علاقائی مساوات سے خارج نہیں کرسکے۔ اس کے برعکس براہ راست تصادم نے ایران کی میزائل صلاحیت، تزویراتی گہرائی اور علاقائی استعداد کی اہمیت کو مغربی ایشیا کے سکیورٹی معاملات میں مزید نمایاں کر دیا۔

7 اکتوبر کے بعد اسرائیل نے اپنی ڈیٹرنس بحال کرنے کے لیے جنگ کا راستہ اختیار کیا، لیکن جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اس کے ساتھ فوجی، اقتصادی، سیاسی اور سفارتی اخراجات بھی بڑھتے گئے، جبکہ بنیادی اہداف کے حصول میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔ یعنی ایک سکیورٹی شکست کی تلافی کی کوشش خود متعدد نئے بحرانوں کا سبب بنتی چلی گئی۔

عالمی رائے عامہ میں فلسطین کی واپسی

اس عمل کا ایک اہم نتیجہ مسئلہ فلسطین کا عالمی افکار میں دوبارہ نمایاں ہونا تھا۔ غزہ کی صورتحال کی تصاویر اور رپورٹس، مختلف ممالک میں ہونے والے احتجاج اور اسرائیل پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ نے فلسطین کو دوبارہ عالمی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل کر دیا۔

جن حالات میں 7 اکتوبر سے قبل بعض علاقائی سیاسی عمل مسئلہ فلسطین کو پس منظر میں دھکیل رہے تھے، جنگ کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی۔ متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی پیش رفت اور اسرائیل اور اس کے بعض مغربی اتحادیوں کے درمیان بڑھتے اختلافات نے بھی تل ابیب کے لیے جنگ کی سفارتی قیمت میں اضافہ کیا۔

اسرائیل کے اندر بڑھتا بحران

اسرائیل کے اندر بھی طوفان الاقصیٰ کے اثرات نمایاں ہوئے۔ 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری کے معاملے پر اختلافات بڑھے اور بنیامین نیتن یاہو کی حکومت اور سیاسی ڈھانچے پر تنقید میں اضافہ ہوا۔

اسرائیلی قیدیوں کا مسئلہ، جنگ جاری رکھنے یا روکنے کا سوال، غزہ کا مستقبل، جنگ کے اقتصادی اخراجات اور داخلی سیاسی و سماجی اختلافات نے ان خلیجوں کو مزید نمایاں کیا جو پہلے سے موجود تھیں۔

اس طرح اسرائیل بیرونی محاذ پر اپنی طاقت اور اتحاد کی تصویر بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اندرونی سطح پر اسے اعتماد کے بحران اور بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا رہا۔

علاقائی سیاست میں تبدیلی

7 اکتوبر سے قبل بعض عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنے کے عمل سے یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ مسئلہ فلسطین شاید نئے علاقائی نظم کی تشکیل میں پہلے جیسی رکاوٹ نہیں رہا۔ لیکن غزہ کی جنگ اور اس کے بعد لبنان، شام اور دیگر علاقوں تک پھیلتی کشیدگی نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔ فلسطین ایک بار پھر عرب عوام کی رائے میں اسرائیل کی پالیسیوں کو جانچنے کا ایک اہم معیار بن گیا اور تل ابیب کے ساتھ قربت کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوا۔

تین سال بعد اصل سوال

طوفان الاقصی آپریشن کے تین سال بعد بنیادی سوال یہ نہیں کہ مختلف محاذوں پر اسرائیل نے اپنے مخالفین کو کتنا فوجی نقصان پہنچایا، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا؟ اس زاویے سے دیکھا جائے تو جواب نفی میں ہے۔

7 اکتوبر نے ثابت کیا کہ مسئلہ فلسطین کو علاقائی معاملات سے الگ کر کے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل نے اپنی ڈیٹرنس بحال کرنے کے لیے ایک وسیع جنگ شروع کی، لیکن اس جنگ نے نہ صرف فلسطین کے مسئلے کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا، اسرائیل کی سیاسی و سفارتی لاگت بڑھا دی، داخلی اختلافات کو نمایاں کیا اور تصادم کا دائرہ متعدد محاذوں تک پھیلا دیا۔

تین سال بعد کی صورتحال کو شکست کے ایک چکر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس میں ایک سکیورٹی ناکامی کے جواب میں جنگ شروع ہوئی، جنگ نے اخراجات کو بڑھایا اور مزید بحرانوں کو جنم دیا۔

7 اکتوبر کا سب سے اہم اثر شاید یہی ہے کہ اسرائیل نے وسیع فوجی ضرب لگانے کی صلاحیت تو ظاہر کی، لیکن اس فوجی طاقت کو ایک پائیدار سیاسی فتح میں تبدیل کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ جب تک فوجی طاقت اور سیاسی کامیابی کے درمیان یہ خلا برقرار رہتا ہے، ایک جنگ کا اختتام بھی اگلے بحران کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔

News ID 1941953

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha