7 اکتوبر، 2026، 10:46 PM

فرانس میں طلباء کے احتجاج میں شدت؛ سکیورٹی اقدامات مزید سخت

فرانس میں طلباء کے احتجاج میں شدت؛ سکیورٹی اقدامات مزید سخت

طلباء اپنے مطالبات کی منظوری تک اسکول بند رکھنے پر بضد ہیں، جبکہ فرانسیسی حکومت نے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے پیرس اور دیگر شہروں میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے ہائی اسکولوں کے طلباء کے احتجاج کا سلسلہ منگل کو ہونے والے بڑے مظاہروں کے بعد بھی جاری ہے۔ طلبہ یونینوں نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ بدھ کے روز بھی ہڑتال اور اسکولوں کی بندش جاری رکھیں۔ انہوں نے جمعرات 8 اکتوبر کو چوتھے مرحلے کے عنوان سے احتجاجی اجتماعات کی نئی کال بھی دی ہے۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، منگل کے روز ملک بھر میں 2 لاکھ 66 ہزار افراد نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے شرکا کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بتائی ہے۔

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً 891 ہائی اسکولوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور احتجاج پیرس، مارسی، لیون، اسٹراسبرگ، تولوز اور رین سمیت درجنوں شہروں تک پھیل گیا۔ تاہم طلبہ یونینوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 1800 ہائی اسکول متاثر ہوئے ہیں۔

احتجاج کے پھیلاؤ کے ردعمل میں فرانس کے وزیراعظم سیباسٹین لوکورنو نے اعلان کیا ہے کہ فرانس کے بعض علاقوں میں ہائی اسکولوں کی کلاسیں ہفتے کے اختتام تک معطل رہیں گی تاکہ طلبہ کو اسکولوں کے اندر اپنے مطالبات پیش کرنے اور حکومت سے بات چیت کا موقع مل سکے تاہم طلبہ یونینوں نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

طلباء کے اہم مطالبات میں تعلیمی بجٹ میں اضافہ، مزید اساتذہ اور عملے کی بھرتی، کلاسوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنا، اسکولوں کی عمارتوں اور سہولیات کی حالت بہتر بنانا، اسکول میں طویل قیام کے اوقات کم کرنا، یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام میں اصلاحات اور اسکولوں میں صحت و فلاحی سہولیات میں اضافہ شامل ہیں۔

احتجاجی اجتماعات میں بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کی سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جبکہ پولیس نے بعض علاقوں میں آنسو گیس کا استعمال کیا۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق، منگل کے روز تقریباً 500 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس کے 43 اہلکار زخمی ہوئے۔

اس تحریک کے آغاز سے اب تک 6 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں ایک بڑی تعداد نابالغوں کی ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور متعدد نوجوانوں کے زخمی ہونے پر بھی تنقید سامنے آئی ہے۔

بدھ 7 اکتوبر فرانسیسی حکومت کے لیے ایک فیصلہ کن دن قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت طلبہ کو دوبارہ کلاسوں میں واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ طلبہ اور طلبہ یونینیں اسکولوں کی بندش جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

News ID 1941943

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha