مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس میں طلباء کے احتجاجی مظاہروں کے بعد حکومت کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ سختی کی جارہی ہے۔
فرانسیسی اخبار لو فیگارو نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے آغاز سے اب تک 6 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
فرانس کے وزیر تعلیم نے بھی طلبہ کے احتجاج کے جاری رہنے کے بعد اعلان کیا کہ پولیس کی انسداد فسادات فورسز اور ہائی اسکول کے طلبہ کے درمیان ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں کے باعث 400 سے 500 ہائی اسکول بدستور جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں گے۔
ادوار ژفری نے کہا کہ ان بدامنی کے باعث اسکولوں میں تدریس مکمل یا جزوی طور پر معطل رہے گی۔
فرانسیسی طلبہ کے احتجاج کا آغاز تقریباً 10 روز قبل پیرس کے نواحی علاقوں کے اسکولوں سے ہوا تھا۔ طلبہ بہتر تعلیمی حالات، اساتذہ کی کمی اور کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
یہ احتجاج مختصر عرصے میں ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگیا اور اب سینکڑوں اسکولوں کی بندش کے ساتھ ساتھ طلبہ، اساتذہ اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں، جبکہ پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں نے بھی احتجاج کی شدت میں اضافہ کردیا ہے۔
آپ کا تبصرہ