7 اکتوبر، 2026، 5:08 PM

فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور پولیس کی پرتشدد کاروائیاں؛ کیمروں کی آنکھ سے

فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور پولیس کی پرتشدد کاروائیاں؛ کیمروں کی آنکھ سے

فرانسیسی حکومت احتجاج کرنے والے طلباء کو طاقت کے ذریعے دبانے، گرفتار کرنے اور بڑی تعداد میں زخمی کرنے کے علاوہ، انہیں ہونے والے نقصانات کے عوض بھاری مالی معاوضہ ادا کرنے کا پابند بنانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان دنوں فرانس بھر میں دسیوں ہزار طلباء سڑکوں ہیں۔ انجمنیں اور اساتذہ بھی ہائی اسکول کے طلبہ کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں، جو کئی روز سے پرتشدد کاروائیوں کے دوران اپنے تعلیمی حالات بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور پولیس کی پرتشدد کاروائیاں؛ کیمروں کی آنکھ سے

فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی صبح تک ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں 86 ہزار افراد نے شرکت کی۔ تاہم، جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (CGT) نے مظاہرین کی تعداد 2 لاکھ 60 ہزار بتائی ہے۔

6 ہزار سے زائد مظاہرین گرفتار

فرانسیسی پولیس کی جانب سے طلبہ کے خلاف کارروائیوں میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پیر کی رات اعلان کیا کہ پولیس نے احتجاج شروع ہونے کے بعد سے پولیس تشدد سے متعلق شکایات کی تحقیقات کے لیے 10 داخلی تحقیقات شروع کی ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق، اس تحریک کے آغاز سے اب تک 24 اسکولوں میں آگ لگنے یا انہیں حملوں اور توڑ پھوڑ کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 6 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے 87 فیصد قانونی عمر کو نہیں پہنچے۔

فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور پولیس کی پرتشدد کاروائیاں؛ کیمروں کی آنکھ سے

انسدادِ فسادات فورس کی کارروائی؛نوجوان کا ہاتھ کٹ گیا

پیر کے روز شمالی شہر «لانس» (Lens) میں ایک 15 سالہ نوجوان انسدادِ فسادات فورس کی جانب سے فائر کیے گئے صوتی دستی بم کی زد میں آ کر اپنا ایک ہاتھ کھو بیٹھا۔

طلبہ نے ستمبر کے آواخر سے سینکڑوں ہائی اسکولوں کے داخلی راستے بند کر رکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی کمی، حد سے زیادہ بھاری نصاب، خستہ حال کلاس رومز اور ایسی عمارتیں جہاں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، ان کے تعلیمی مسائل میں شامل ہیں۔

فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور پولیس کی پرتشدد کاروائیاں؛ کیمروں کی آنکھ سے

اگرچہ بہت سے مظاہرے پُرامن رہے ہیں، تاہم بعض مظاہرین نے آگ لگانے، بس اسٹاپس کو نقصان پہنچانے اور انسدادِ فسادات پولیس کے ساتھ جھڑپیں کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے لاٹھیوں، آنسو گیس اور ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والے فائرنگ کے ہتھیاروں کے ذریعے مظاہرین کو دبانے کی کوشش کی ہے۔

فرانسیسی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اس تحریک کے آغاز سے اب تک 215 طلبہ اور پولیس کے 715 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ انجمنوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور طلبہ نے سکیورٹی حکام پر سرکوبی اور ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور پولیس کی پرتشدد کاروائیاں؛ کیمروں کی آنکھ سے

فرانس کے وزیر اعظم سباستین لیکورنو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی عملے کے 85 ارکان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ فرانسیسی حکومت قانونی طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تحریک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت ایک قانونی مسودہ منظور کروانے کے درپے ہے، جس کے تحت ان اقدامات کو سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ قرار دیا جائے گا اور مظاہرین کو مرمت کے اخراجات ادا کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

News ID 1941936

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha