5 اکتوبر، 2026، 10:35 PM

آرمینیائی وزیرخارجہ کادورۂ تہران؛ آرمینیا اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا

آرمینیائی وزیرخارجہ کادورۂ تہران؛ آرمینیا اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے آرمینیا کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں کہا کہ قفقاز کو بیرونی طاقتوں کی جغرافیائی سیاسی رقابت کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آرمینیا کے وزیر خارجہ آرارات میرزویان نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔

ڈاکٹر قالیباف نے ملاقات کے آغاز میں حالیہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون اور یکجہتی پر آرمینیا کے عوام اور حکومت کے مؤقف اور اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک ہمسایہ قوم کی جانب سے اس تعاون نے ہمارے ذہنوں میں ایک اچھی یاد چھوڑی ہے۔

انہوں نے آرمینیا میں کامیاب انتخابات کے انعقاد اور ایروان میں نئی پارلیمنٹ اور حکومت کی تشکیل پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قطعی پالیسی یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ فوری اور تزویراتی سطح پر تعلقات کو فروغ اور مستحکم کیا جائے اور بلاشبہ آرمینیا ہمارے ملک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع میں سے ایک ہے۔

قالیباف نے امید ظاہر کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور آرمینیا کے درمیان تزویراتی تعاون کا معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کرے گا۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے علاوہ قفقاز کے علاقائی مسائل، بشمول مواصلاتی راستوں کے موضوع پر بھی اسلامی جمہوریہ ایران اور آرمینیا باہمی گفتگو کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس وقت قفقاز کا خطہ پہلے سے کہیں زیادہ امن و سکون کا محتاج ہے اور یہ امر سرکاری سرحدوں کو مستحکم کرنے کے ذریعے ہونا چاہیے، مزید کہا کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت عدم تحفظ کا باعث بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر خلیج فارس کے خطے میں دیکھا جا رہا ہے کہ بیرونی طاقتیں یہاں آئیں اور بعض ممالک نے تصور کیا کہ ان کی موجودگی ان کے لیے سلامتی کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اس کا نتیجہ عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ یہ طاقتیں صرف خطے کے ممالک کی صلاحیتوں اور وسائل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور اپنے مفادات مدنظر رکھتی ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مستقل اور آگے بڑھنے والے تبادلۂ خیال اور تعاون سے ٹرانزٹ، توانائی اور دیگر شعبوں میں مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور یہ تعاون مؤثر ثابت ہوگا۔

ایرانی اسپیکر نے مختلف امور میں امریکیوں کے ناقابلِ اعتماد ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں فوجی میدان میں اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سیاسی میدان میں بھی انہوں نے مفاہمت نامے پر عمل درآمد کے معاملے میں بدعہدی کی اور اس میدان میں بھی اپنی ساکھ کو ایک اور دھچکا پہنچایا۔

اس موقع پر آرمینیا کے وزیرِ خارجہ آرارات میرزویان نے نیز اپنے ملک کے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان تعاون اس تعلق کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوستی اور پائیدار تعلقات مشکلات کے دوران ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے وجود میں آتے ہیں؛ درحقیقت مشکل دنوں میں دوستی تعلقات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

میرزویان نے مزید کہا: خطے کے ممالک نقل و حمل، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں بے نظیر صلاحیتوں کے حامل ہیں، لہٰذا ہمیں اپنے تعاون کو وسعت اور فروغ دینا چاہیے۔ اسی لیے آرمینیا اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مواصلاتی راستوں کو ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

آرمینیا کے وزیر خارجہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ  ہمارا ملک اپنی سرزمین سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دے گا؛ کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے خطے کے ممالک کی سرحدوں میں ناقابلِ تغیر ہونے کے اصول پر زور دینا ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

News ID 1941898

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha