5 اکتوبر، 2026، 4:27 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

فرانس میں طلبہ تحریک کی بنیاد رکھنے والے 19 سالہ ریاض رانی کون؟

فرانس میں طلبہ تحریک کی بنیاد رکھنے والے 19 سالہ ریاض رانی کون؟

فرانسیسی تعلیمی نظام میں شدید امتیازی سلوک اور پولیس کے جابرانہ اقدامات کے نتیجے میں شدت اختیار کرنے والی طلبہ تحریک نے ایک 19 سالہ نوجوان کو سماجی احتجاج کی علامت بنا دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے بعد 19 سالہ فرانسیسی نوجوان ریاض رانی، ہائی اسکول کے طلبہ کے شعبے میں سرگرم کارکن سے ترقی کرکے بین الاقوامی سطح کی نمایاں شخصیات میں شامل ہوگیا ہے۔ رانی ہائی اسکول طلبہ کی یونین کی سربراہی کر رہا ہے؛ یہ یونین موجودہ تحریکوں کی حمایت کرتی ہے اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی حالات بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

رانی فرانس کے شمالی شہر روآن میں پیدا ہوا۔ گزشتہ جنوری میں اپنی والدہ کی اچانک وفات سے قبل وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ ریاض کے والد الجزائری نژاد فرانسیسی شہری ہیں، جنہوں نے کئی سال تک فنی اور دستی نوعیت کے پیشوں میں کام کیا ہے۔

والدہ کے انتقال کے بعد وہ لیل کے قریب واقع شہر واترو منتقل ہوگیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے ذاتی تجربے نے اسے کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات، بالخصوص اشیائے خورونوش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے اثرات کے تناظر میں، ان کے مسائل کا احساس کرنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

رانی نے حال ہی میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی ہے۔ آخری سال میں اس نے بصری فنون، تاریخ، جغرافیہ، سیاسی جغرافیہ اور سیاسی علوم جیسے مضامین پڑھے اور اسکول کی سماجی کونسل کا رکن بھی رہا۔ گزشتہ ستمبر میں واترو کے «ایمیل زولا» اسکول میں اضافی تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد اس نے ڈپلومہ حاصل کیا۔

رانی نے گزشتہ اپریل میں ہائی اسکول طلبہ کی یونین کی سربراہی سنبھالی۔ یہ یونین 2023ء میں قائم ہوئی تھی اور فرانس کی بائیں بازو کی یونینوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس یونین کے مؤقف میں فاشزم کی مخالفت، خواتین کے حقوق کی حمایت، ماحولیاتی شعبے میں سرگرمی اور سماجی مسائل کی حمایت شامل ہے۔ اس کے طلبہ یونینوں اور جنرل کنفیڈریشن آف لیبر کے ساتھ بھی روابط ہیں۔

ذرائعِ ابلاغ میں نمایاں ہونے کے بعد ریاض رانی کو دھمکیاں

ذرائعِ ابلاغ میں رانی کی نمایاں حیثیت اس کے لیے ذاتی مشکلات کا باعث بھی بنی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ طلبہ تحریکوں کے آغاز سے اب تک اسے قتل کی سینکڑوں دھمکیوں اور نسل پرستانہ توہین آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس کی سربراہی میں کام کرنے والی طلبہ یونین جہاں احتجاجی مظاہروں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، وہیں رانی خود کو ایک ایسی بحث کے مرکز میں پاتا ہے جو تعلیمی اداروں کے مطالبات سے آگے بڑھ کر فرانس کی سماجی اور سیاسی تحریکوں میں نوجوانوں اور طلبہ کے کردار تک پہنچ چکی ہے۔

فرانس میں طلبہ احتجاج کے آغاز کی وجہ

ان احتجاجی مظاہروں میں وہ ہائی اسکول بھی شامل ہیں جہاں فرانسیسی نوجوان اپنی تعلیم کے آخری سال گزارتے ہیں۔ طلبہ کو متعدد شکایات ہیں، تاہم ان میں سب سے اہم شکایات میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز کے نامناسب حالات، نصاب کے بھاری اوقات اور تعلیمی دن کا طویل دورانیہ شامل ہے۔ تعلیمی دن صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہتا ہے، جسے بعض طلبہ حد سے زیادہ طویل سمجھتے ہیں۔

فرانس کی ماہرِ عمرانیات والری پیکے کا کہنا ہے کہ ہائی اسکول کے طلبہ، بالخصوص کم آمدنی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نسبتاً کم معیار کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

فرانس میں طلبہ تحریک کی بنیاد رکھنے والے 19 سالہ ریاض رانی کون؟

یہ احتجاج دو ہفتے قبل، 17 ستمبر کو پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے کریتی میں واقع ہائی اسکول «سانت اگزوپری» میں شروع ہوا۔ یہ تحریک ان اساتذہ کی حمایت میں شروع کی گئی تھی جنہوں نے عملے اور وسائل کی کمی کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ یہ تحریک بتدریج زور پکڑتی گئی اور گزشتہ ہفتے کے دوران پورے فرانس میں پھیل گئی۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فرانس کے دیگر علاقوں میں کشیدگی بڑھنے کے باوجود ہائی اسکول «سانت اگزوپری» کی صورت حال تعلیمی حکام کی جانب سے مزید عملہ بھرتی کرنے، جن میں نائب سربراہ اور نرس بھی شامل ہیں، پر رضامندی کے بعد معمول پر آگئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس میں ان احتجاجی مظاہروں پر کوئی سیاسی لیبل نہیں لگایا گیا، بلکہ مظاہرین درحقیقت معاشرے کے کمزور طبقات کے ابتر سماجی اور اقتصادی حالات پر تنقید کر رہے ہیں۔

مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں؟

تقریباً 10 روز قبل، متعدد ہائی اسکولوں کی بندش شروع ہونے کے بعد سے طلبہ یونین نے طلبہ تحریکوں کے پھیلاؤ کی حمایت کی ہے۔
ان احتجاجی مظاہروں کے بنیادی مطالبات میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور ان پر تعلیمی دباؤ کے مسئلے سے نمٹنا، ہر کلاس میں طلبہ کی تعداد اور تدریسی اوقات کم کرنا، غیر حاضر اساتذہ کی جگہ دوسرے اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنانا، اسکولوں کی پرانی عمارتوں کی تعمیرِ نو اور تعلیمی اداروں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا شامل ہیں۔

احتجاجی مظاہروں کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی رانی فرانسیسی ذرائعِ ابلاغ میں اس تحریک کے نمایاں ترین ترجمانوں میں شامل ہوگیا ہے۔

فرانس میں طلبہ تحریک کی بنیاد رکھنے والے 19 سالہ ریاض رانی کون؟

احتجاجی تحریک کی تشکیل میں سوشل میڈیا کا کردار

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بالخصوص «ٹک ٹاک» پر شائع ہونے والی مؤثر تصاویر اور ویڈیوز نے احتجاجی مظاہروں کو بھڑکانے میں مدد دی ہے۔ طلبہ اپنے موبائل فونز کے ذریعے کوڑے دانوں کو آگ لگانے یا پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال جیسے واقعات کی ویڈیوز بناتے ہیں۔

ماہرِ عمرانیات والری پیکے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انہیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ واقعات کے قریب تر اور روایتی ذرائعِ ابلاغ کی پیش کردہ تصویر سے مختلف بیانیہ سامنے لائیں؛ ایسا بیانیہ جو پہلے سے تیار شدہ نہ ہو۔

سماجی عدم مساوات

اگرچہ فرانس میں ہر کسی کو ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے، تاہم ان اسکولوں کے معیار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے؛ ان میں فنی و پیشہ ورانہ اسکولوں سے لے کر انتہائی معتبر تعلیمی ادارے تک شامل ہیں۔

فرانس میں طلبہ تحریک کی بنیاد رکھنے والے 19 سالہ ریاض رانی کون؟

تنوع کو فروغ دینے کی کوششوں کے باوجود معتبر تعلیمی اداروں میں اب بھی زیادہ تر سفید فام اور خوشحال خاندانوں کے طلبہ داخلہ لیتے ہیں، جن کے والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔
پیکے کا کہنا ہے کہ مختلف طلبہ اور اسکولوں کے درمیان انتہائی گہرے اختلافات موجود ہیں اور یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔

سیاسی الزامات

ان احتجاجی مظاہروں نے سیاسی رنگ بھی اختیار کرلیا ہے۔ صدارتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی حکومت نے ژاں لوک میلینشوں کی قیادت میں سرگرم بائیں بازو کی انتہا پسند جماعت «فرانس اِن سابورڈینیٹ» (LFI) پر اس تحریک کے پس پردہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس جماعت کے رہنماؤں میں سے ایک مینوئل پومبار نے اس کے برعکس حکومت پر سازشی نظریات کا شکار ہونے کا الزام لگایا۔
میلینشوں نے بھی احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے پُرامن اقدامات کی اپیل کی اور اس تحریک کی حمایت کی ہے۔

فرانس میں طلبہ تحریک کی بنیاد رکھنے والے 19 سالہ ریاض رانی کون؟

فرانسیسی پولیس کی کاروائیاں

مظاہرین نے اسکولوں کے راستے بند کرکے، کوڑے دانوں کو آگ لگا کر اور پولیس کی جانب اشیا پھینک کر کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ پولیس نے بھی احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے۔

فرانسیسی پولیس کے جابرانہ اقدامات کے نتیجے میں شہر تور میں ایک نوجوان کی دائیں آنکھ کی بینائی ضائع ہوگئی ہے۔

سوشل میڈیا پر طلبہ کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے سخت رویے اور تشدد کی متعدد ویڈیوز بھی شائع ہوئی ہیں۔

News ID 1941892

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha