مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: فرانس میں طلبہ کے احتجاج، جو ابتدا میں تعلیمی مطالبات اور اسکولوں کی صورتحال کے خلاف شروع ہوئے تھے، اب وزیراعظم سباستین لوکورنو کی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ تحریک دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں پیرس کے مضافات سے ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل چکی ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں اسکول بند یا متاثر ہوئے ہیں اور بعض علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ اسکولوں میں توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
فرانسیسی روزنامے لوموند نے موجودہ صورتحال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نوجوانوں کے احتجاج کے پھیلاؤ سے حکومت کو ٹھنڈا پسینہ آرہا ہے۔ یہ تعبیر صرف موجودہ احتجاج کے حجم کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ فرانس میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریکوں کے تاریخی تجربے کے تناظر میں بھی اہم ہے۔
ان احتجاجات کی جڑیں تقریباً دو ہفتے قبل اس وقت سامنے آئیں جب پیرس کے مضافات میں ایک ہائی اسکول کے طلبہ نے احتجاج شروع کیا۔ ان کے ابتدائی مطالبات زیادہ پیچیدہ نہیں تھے؛ اساتذہ کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد، تعلیمی عمارتوں کی خستہ حالت، بھاری نصاب اور تعلیمی مستقبل اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام سے متعلق خدشات ان مطالبات میں شامل تھے۔
تاہم جو معاملہ ابتدا میں ایک محدود تعلیمی اور طلبہ کا احتجاج دکھائی دیتا تھا، وہ تیزی سے ایک اسکول کی حدود سے باہر نکل گیا۔ جمعرات کو پورے فرانس میں ایک ہزار سے زیادہ ہائی اسکول ہڑتال، اجتماعات یا احتجاج سے متاثر ہوئے اور ملک کے تقریباً ایک چوتھائی ہائی اسکول کسی نہ کسی طرح ان واقعات کی زد میں آئے۔
جمعہ کو بھی 400 سے زیادہ اسکول بند رہے یا ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ احتجاج یونیورسٹیوں تک بھی پہنچ گیا اور متعدد جامعات میں اجتماعات ہوئے یا ان کے داخلی راستے بند کیے گئے۔
احتجاج کے پھیلاؤ کے ساتھ اس تحریک کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی۔ پرامن اجتماعات اور تعلیمی مطالبات کے ساتھ بعض شہروں میں پولیس سے جھڑپیں، اشیا پھینکنے، کچرے کے ڈبوں اور عمارتوں کو آگ لگانے اور بعض اسکولوں کے داخلی راستوں پر آتش زدگی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نانت میں ایک ہائی اسکول کے داخلی راستے پر آتش زدگی بھی ان واقعات میں شامل تھی جس نے حکومت کی تشویش میں اضافہ کیا۔
بدامنی کا دائرہ؛ گرفتاریاں اور اسکولوں کو نقصان
فرانس میں طلبہ کے احتجاج، جو گزشتہ ہفتے تعلیمی وسائل کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور اساتذہ کی قلت کے خلاف شروع ہوئے تھے، جمعرات کو یونیورسٹیوں تک پھیلنے اور گرفتاریوں میں اضافے کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔
فرانس کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ پیر سے اب تک طلبہ اور اسکول و یونیورسٹی کے احتجاج کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق گرفتار افراد میں تقریباً 85 فیصد نابالغ ہیں اور ان میں زیادہ تر اسکول کے طلبہ شامل ہیں۔ صرف جمعرات کو تقریباً دو ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ بدامنی کے دوران پولیس، ژاندارمری اور فائر بریگیڈ کے سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے۔
بعد کی رپورٹس میں بھی ان احتجاجات کے دوران گرفتاریوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق پولیس اور ژاندارمری کے 305 اہلکار بھی ان واقعات میں زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے باعث تقریباً 400 اسکول بند کیے گئے اور وہاں تعلیمی خدمات صرف آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔ بدامنی کے دوران 170 طلبہ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ بدھ کے روز بھی تقریباً 600 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور فرانسیسی حکام نے ان پر آتش زدگی اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے الزامات عائد کیے۔
لیون، لِل اور سینٹ ڈینس سمیت مختلف شہروں میں اسکولوں کے داخلی راستے بند کیے گئے، جبکہ بعض مقامات پر کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی گئی اور پولیس اہلکاروں کی جانب اشیا پھینکی گئیں۔ دریں اثنا، فرانسیسی وزیراعظم نے جمعرات کو بحران کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
فرانسیسی پولیس کا طلباء پر تشدد
احتجاج کے پھیلاؤ کے ساتھ پولیس کے طرز عمل نے بھی تنازع کو مزید حساس بنا دیا ہے اور بعض حلقوں کی جانب سے نوجوان مظاہرین سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں بدامنی پھیلنے کے ساتھ سیاسی رہنماؤں نے طلبہ کے احتجاج اور ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں مختلف مؤقف اختیار کیے ہیں۔ بعض نے طلبہ کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بعض نے احتجاج کے دوران تشدد کی مذمت کی۔
صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کی تشویش اور غصے کو سمجھ سکتے ہیں، تاہم ان کے بقول ان میں سے کوئی بحث اور کوئی تشویش تشدد کو جائز قرار نہیں دیتی۔
وزیراعظم سباستین لوکورنو نے بھی کہا کہ ہائی اسکولوں کے مسائل کو سنا اور حل کیا جانا چاہیے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کی بلاامتیاز مذمت ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داروں کو اپنے اقدامات کا جواب دینا چاہیے۔
دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی صدارتی امیدوار مارین لوپن نے کہا کہ یہ اب ہائی اسکول کے طلبہ کا احتجاج نہیں رہا بلکہ ایسے فسادات ہیں جنہیں پیشہ ور افراد منظم کر رہے ہیں اور فرانس انسیومیز پارٹی کے نمائندے اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس بائیں بازو کی جماعت فرانس انسیومیز کے رہنما ژان لوک میلانشون نے کہا کہ ان کی جماعت پرامن جدوجہد کے طریقوں کی خواہاں ہے اور حکومت سے مطالبات کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
کیا 1968 کا خوف دوبارہ زندہ ہوگیا؟
ان احتجاجات کو فرانسیسی حکومت کے لیے حساس بنانے والی بات صرف مظاہرین کی تعداد یا جھڑپوں کی شدت نہیں بلکہ نوجوانوں کی تحریکوں سے متعلق فرانس کا تاریخی تجربہ بھی ہے۔
فرانس کی سیاسی یادداشت میں مئی 1968 اب بھی ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت احتجاج کا آغاز یونیورسٹیوں سے ہوا تھا، لیکن یہ بہت جلد مزدوروں کی وسیع ہڑتال اور سیاسی و سماجی بحران میں تبدیل ہوگیا اور صدر شارل دوگل کی حکومت کو اپنے دور کے مشکل ترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔
1968 کا اصل خوف یہی ہے کہ نوجوانوں یا طلبہ کا ایک محدود احتجاج اپنے ابتدائی مطالبات سے آگے بڑھ کر معاشرے کے دوسرے طبقات کو بھی سڑکوں پر لے آئے۔ اسی وجہ سے فرانس میں نوجوانوں کی کسی بھی وسیع احتجاجی تحریک کے حوالے سے حکومت اور سیاسی اداروں میں خاص حساسیت پیدا ہو سکتی ہے، بالخصوص اس وقت جب احتجاج تعلیمی اداروں سے نکل کر دیگر سماجی اور سیاسی گروہوں تک پہنچنے لگے۔
اسی تناظر میں لوموند کی جانب سے استعمال کی گئی ٹھنڈا پسینہ کی تعبیر اہم ہو جاتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتنے اسکول بند ہوئے یا کتنے طلبہ سڑکوں پر آئے، بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ ایک نسلی احتجاج ایسے وقت میں وسیع بحران میں تبدیل نہ ہو جائے جب فرانسیسی معاشرہ پہلے ہی متعدد اقتصادی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہے۔
تعلیمی بحران، سیاسی بحران کے سائے میں
احتجاج کے آغاز کو محض کسی سیاسی جماعت کی سرگرمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیرس کے مضافات میں ابتدائی احتجاج بنیادی طور پر طلبہ کے براہ راست تعلیمی مطالبات سے شروع ہوا، جبکہ سوشل میڈیا نے بھی اس کے تیزی سے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب فرانسیسی حکومت اور بعض سکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس انسیومیز پارٹی اور بائیں بازو کے انتہا پسند گروہ احتجاج کو شدت دینے اور اس کا رخ متعین کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی ان گروہوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم متعلقہ جماعت نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور احتجاج میں سیاسی گروہوں کے منظم کردار کی حد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
اس لیے دو حقائق میں فرق کرنا ضروری ہے؛ ایک طرف تعلیم اور تعلیمی مستقبل سے متعلق طلبہ کے حقیقی مطالبات ہیں اور دوسری طرف مختلف سیاسی گروہوں اور دیگر عناصر کی اس تحریک میں شمولیت ہے، جو احتجاج شروع ہونے کے بعد وسیع شکل اختیار کرگئی۔
ان احتجاجات کے پس پردہ ایک اہم اقتصادی مسئلہ بھی موجود ہے۔ فرانسیسی حکومت ایک طرف تعلیمی اخراجات میں اضافے کے مطالبات کا سامنا کر رہی ہے تو دوسری جانب 2027 کے بجٹ کو اخراجات میں کمی کے ذریعے متوازن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے آئندہ سال دسیوں ارب یورو کی بچت کا ہدف پیش کیا ہے جبکہ فرانس کا سرکاری قرض بھی بہت بلند سطح پر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو ایک ایسے وقت میں تعلیم کے لیے مزید وسائل فراہم کرنے کے مطالبات کا سامنا ہے جب بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے اسے اخراجات میں اضافے کو محدود کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب پولیس کا ردعمل بھی بحران کا ایک حساس پہلو بن چکا ہے۔ حکومت تشدد سے نمٹنے اور اسکولوں اور ان کے عملے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دے رہی ہے، جبکہ ناقدین نوجوان مظاہرین سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کر رہے ہیں۔
فرانسیسی حکومت اب بیک وقت دو راستے اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے؛ ایک طرف تشدد کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ طلبہ، والدین اور تعلیمی یونینوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے۔
حاصل سخن
فرانس کی سڑکوں پر جاری صورتحال کو نہ صرف ایک طلبہ احتجاج قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ایک سیاسی دھڑے تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ تعلیم سے متعلق حقیقی مطالبات بجٹ کے بحران، سماجی بے اطمینانی اور 2027 کے انتخابات سے قبل سیاسی کشمکش کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔
مئی 1968 کے تجربے نے ثابت کیا تھا کہ نوجوانوں کے احتجاج کے حوالے سے فرانسیسی حکومت کی حساسیت بے بنیاد نہیں، کیونکہ ایک محدود احتجاج موزوں حالات میں بہت بڑی تحریک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کا براہ راست موازنہ 1968 کے واقعات سے کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
فرانسیسی حکومت کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا وہ تعلیمی مطالبات کو تشدد اور سیاسی کشمکش سے الگ کر کے حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوتا ہے اور حکومت کا ردعمل بنیادی طور پر سکیورٹی اقدامات تک محدود رہتا ہے تو کلاس رومز سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ تعلیم سے کہیں آگے وسیع بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے، اور یہی وہ صورتحال ہے جو شاید پیرس میں 1968 کی یاد کو دوبارہ تازہ کر رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ