مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے 7 اکتوبر، تاریخی اور تزویراتی آپریشن طوفان الاقصیٰ کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں اس کاروائی کو صیہونیت کے خاتمے اور غاصب صیہونی فوج کی ناقابلِ شکست ہونے کی داستان کے خاتمے کا آغاز، نیز ایک مستقبل ساز اور قدس شریف پر قابض نسل پرست حکومت کے یقینی زوال کی رفتار تیز کرنے والا واقعہ قرار دیا ہے۔
بیانیہ کا متن مندرجہ ذیل ہے:
7 اکتوبر 2023ء کو تین سال ہو چکے ہیں؛ وہ دن جب فلسطین کے مزاحمتی مجاہدین اور حماس کے بہادر جوانوں نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور مظلوم فلسطینی عوام کے فولادی عزم کے ساتھ تاریخِ مزاحمت کی سب سے بڑی کاروائیوں میں سے ایک انجام دی اور غاصب صیہونی حکومت کے سیکیورٹی ڈھانچے کو تہس نہس کر دیا۔
اس عظیم اور ناقابلِ فراموش تاریخی واقعے کو تین سال گزرنے کے بعد خطے کی تزویراتی مساوات مزاحمتی محاذ کے حق میں تبدیل ہو چکی ہیں اور غاصب صیہونی حکومت اپنے اصل حامی امریکہ کے ساتھ بڑے بحرانوں اور پے در پے شکستوں کی دلدل میں پھنس چکی ہے۔
طوفان الاقصیٰ آپریشن، شہید رہبر حضرت امام سید علی خامنہ ای کی تعبیر کے مطابق، ایک ’’مستقبل ساز واقعہ‘‘ تھا کہ جس نے غاصب صیہونی حکومت کے یقینی زوال کی راہ کو ہموار کیا۔ اس کاروائی نے نہ صرف صیہونی فوج کی ناقابلِ شکست ہونے کی داستان کو ہمیشہ کے لیے منہدم کردیا، بلکہ پورے خطے میں مزاحمتی محاذ کو ایک ناقابلِ انکار تزویراتی حقیقت میں تبدیل کردیا۔ غزہ سے لبنان تک، یمن سے عراق اور شام تک اور اسلامی ایران سے لے کر مقبوضہ علاقوں کے قلب تک، سب نے ایک متحد اور مربوط صف بندی میں صیہونی دشمن اور اس کے امریکی و علاقائی حامیوں کو چیلنج کیا۔
اس بیان میں، آج کے جنگی محاذوں کی حقیقتوں اور امریکہ و غاصب صیہونی حکومت اور ان کے علاقائی پیادہ دستوں کی جانب سے مسلط کردہ خطرات، سازشوں اور جنگوں کا مقابلہ کرنے میں مزاحمتی محور کی بامعنی ہم آہنگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے: خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ ترین پیش رفت میں مزاحمتی محاذ نے دقیق اور کاری کاروائیوں کے ذریعے صیہونی حکومت اور امریکہ کے ڈھانچے پر مہلک ضربیں لگائی ہیں۔
بیان میں امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی مسلط کردہ دوسری اور تیسری جنگوں اور اس کے بعد اسلامی ایران کے خلاف ’’نصر‘‘ اور ’’تنبیہِ متجاوز‘‘ آپریشنز میں ان کی تزویراتی شکست کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا جاتا ہے: امریکہ نے غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کی بھرپور حمایت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بار بار دھمکیوں کے باوجود نہ صرف اپنے اعلان کردہ مقاصد میں سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا، بلکہ عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنی کھوکھلی ہیبت بھی کھو دی۔ ایران کے خلاف مسلط کردہ دوسری اور تیسری جنگوں کا سامنا مسلح افواج کے فیصلہ کن اور پشیمان کن جواب سے ہوا اور اس بات کو ثابت کر دیا کہ بے قیمت دھمکیوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خطے میں حالیہ پیش رفت اور واقعات امریکہ، غاصب صیہونی حکومت اور ان کے علاقائی و بیرونی حامیوں کے شیطانی محاذ کے مقابلے میں مزاحمت کی مکمل طاقت کی عکاسی کرتے ہیں، واضح کیا جاتا ہے: اسلامی ایران کے خلاف کسی بھی غلط اندازے یا نئی جنگ اور جارحیت کی کوشش کا نتیجہ جارح کے لیے دردناک اور تباہ کن جواب کی صورت میں نکلے گا۔
اس بیان میں صیہونی حکومت کے اقتصادی، سیاسی اور بین الاقوامی زوال اور بالخصوص اسلامی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور اس پر فیصلہ کن انتظامی کنٹرول کے بعد امریکہ میں پیدا ہونے والے کچل دینے والے چیلنجز کو وائٹ ہاؤس اور تل ابیب پر قابض مجرمانہ ٹولے کے لیے تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا جاتا ہے: مزاحمتی محور اپنے بلند مرتبہ کمانڈروں کی شہادت اور شدید دباؤ کے باوجود بدستور قائم اور مضبوطی سے کھڑا ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کے اعتراف کے مطابق، امریکہ اور صیہونی حکومت تمام محاذوں پر شکست کھا چکے ہیں اور اپنے اہم ترین مقصد یعنی علاقائی طاقت کی حیثیت سے ایران کو کمزور، شکست خوردہ اور تقسیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اپنے بیان کے اختتام پر شہید اسماعیل ہنیہ، شہید یحییٰ سنوار، محمد الضیف اور اس سرزمین کے دیگر مجاہدین کی یاد اور گراں قدر قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تاکید کرتی ہے: مزاحمت کا راستہ قدس شریف کی آزادی اور غاصب صیہونی حکومت کی مکمل نابودی تک جاری رہے گا اور اللہ کے فضل سے قرآن کا سچا وعدہ پورا ہوگا۔ شہید قائدِ امت خامنہ ای عزیز (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی بشارت کے مطابق فلسطین نہر سے بحر تک آزاد ہوگا؛ اور بلاشبہ آج مزاحمتی محور پہلے سے کہیں زیادہ متحد، طاقتور اور آمادہ ہے۔ اسلام اور انسانیت کے دشمن جان لیں کہ خطے کی آزاد اقوام کے مقدس عزم کے سامنے کوئی بھی مورچہ انہیں نجات دلانے کی سکت نہیں رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ