مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات آئندہ 27 اکتوبر کو ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب طوفان الاقصی آپریشن کو تین سال مکمل ہوچکے ہوں گے۔ انتخابات سے قبل صہیونی سیاسی حلقوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر گہری خلیج موجود ہے۔ فلسطینی مزاحمت کے اچانک حملے کے بعد یہ اختلافات وقتی طور پر کم ضرور ہوئے تھے، لیکن کچھ عرصے بعد سیاسی تقسیم اور باہمی الزامات دوبارہ شدت اختیار کر گئے۔
طوفان الاقصی کا صہیونی انتخابات پر اثر
صہیونی اپوزیشن جماعتیں اپنی انتخابی مہم میں 7 اکتوبر کے واقعات کو نتن یاہو کی سربراہی میں قائم دائیں بازو کی حکومت کی بڑی ناکامی قرار دے رہی ہیں۔ وہ موجودہ اتحاد کو "7 اکتوبر کی کابینہ" کا نام دے کر اسے اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔
دوسری جانب نتن یاہو اپنی سیاسی مہارت اور تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے اس ناکامی کی ذمہ داری سے خود کو الگ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انتخابی میدان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔
داخلی دو قطبی صورتحال؛ صہیونی حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ
صہیونی معاشرے کی صورتحال پر جاری ایک سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عوام کے اندر سیاسی تقسیم ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 55 فیصد اسرائیلی شہری داخلی دو قطبی صورتحال کو اپنے لیے سب سے خطرناک مسئلہ سمجھتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر 10 میں سے 6 صہیونیوں کو خدشہ ہے کہ اندرونی اختلافات شدت اختیار کر کے تشدد اور ممکنہ طور پر خانہ جنگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح سیکولر طبقے کے ایک بڑے حصے کا صہیونی حکومت کے مستقبل پر اعتماد کم ہوا ہے اور تقریباً نصف افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس سرزمین کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور مناسب مقام نہیں سمجھتے۔
انتخابی سروے اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی
صہیونی ٹی وی چینلز کے انتخابی سروے بھی سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا رہے ہیں۔ اپوزیشن کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے مطابق مخالف اتحاد 61 نشستوں کے قریب پہنچ رہا ہے اور نتن یاہو کے اتحاد کو شکست دینے کی پوزیشن میں ہے۔
سروے کی بنیاد پر اپوزیشن کے کئی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ نتن یاہو کا سیاسی دور ختم ہونے والا ہے اور ان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی مشکل ہے۔ تاہم اگر نتائج اس کے برعکس آئے تو اپوزیشن کا بڑا حصہ حکومتی اتحاد پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگا سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے، خصوصاً چینل 14، نیتن یاہو اور دائیں بازو کے اتحاد کی کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کامیاب ہوئی تو وہ انتخابات کو دائیں بازو کی حکومت گرانے کے لیے متاثر کرنے کا الزام عائد کریں گے۔
انتخابات کے بعد انتشار کا خدشہ
اگر اپوزیشن کی برتری اور حکومتی جماعتوں کی کمزوری سے متعلق سروے درست ثابت ہوئے اور نتن یاہو حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو دائیں بازو کے اتحاد کے بہت سے حامی اسے قبول کرنے سے انکار کرسکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی صورتحال میں سخت گیر عناصر سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے حامیوں یا سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
بعض صہیونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نتن یاہو شکست تسلیم نہ کریں تو مقبوضہ علاقوں میں داخلی بحران انتہائی شدت اختیار کرسکتا ہے۔ بعض ماہرین خاص طور پر اپوزیشن کی کامیابی کی صورت میں خانہ جنگی جیسے حالات کے امکان کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتے، کیونکہ حکومتی اتحاد کے بعض حلقے اپنے مخالفین کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہیں۔
انتخابات اور اسرائیل سے ہجرت میں اضافہ
نتن یاہو کی ممکنہ کامیابی بھی اپوزیشن کے حامیوں کے لیے شدید مایوسی کا سبب بن سکتی ہے۔ بہت سے مخالفین اسے ایسی صورتحال سمجھ سکتے ہیں جس میں اسرائیل ان کے لیے مستقبل میں رہنے کے قابل جگہ نہیں رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق طوفان الاقصی کے بعد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3 لاکھ افراد اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔
دوسری جانب اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو دائیں بازو اور انتہا پسند صہیونی حلقے اسے اپنے لیے ایک وجودی خطرہ تصور کرسکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں صورتوں میں، چاہے اپوزیشن کامیاب ہو اور حکومتی اتحاد نتائج مسترد کرے یا نیتن یاہو اتحاد دوبارہ اقتدار میں آئے، پیدا ہونے والی سیاسی بے چینی اور مایوسی مزید صہیونی شہریوں، خصوصاً اشرافیہ اور اپوزیشن کے حامیوں کو مقبوضہ علاقوں سے ہجرت پر مجبور کر سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ