11 ستمبر، 2026، 10:22 PM

اہلِ یمن: مقاومت کا ایک پہاڑ

اہلِ یمن: مقاومت کا ایک پہاڑ

دنیا میں کچھ قومیں دریا کی مانند ہوتی ہیں۔ وہ راستہ تلاش کرتی ہیں، چٹانوں کو کاٹتی ہیں، رکاوٹوں کے درمیان بہتی ہیں۔ کچھ قومیں ہوا کی مانند ہوتی ہیں۔ وہ سرحدوں سے بے نیاز ہوتی ہیں، آتی ہیں، گزرتی ہیں اور اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ اور کچھ قومیں پہاڑ ہوتی ہیں۔ وہ اپنی جگہ کھڑی رہتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، پروفیسر تنویر حیدر نقوی: پہاڑ کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ محض پتھروں کا ایک بلند ڈھیر ہے؟ کیا وہ زمین کے سینے سے ابھری ہوئی کوئی بے حس چٹان ہے؟ کیا وہ صرف بلندی، سنگینی اور خاموشی کا نام ہے؟ نہیں! پہاڑ دراصل ثبات کا استعارہ ہے، استقامت کی علامت ہے، خاموش قوت کی تصویر ہے۔ وہ وقت کے سامنے کھڑا رہتا ہے اور وقت اس کے سامنے سے گزر جاتا ہے۔ موسم بدلتے رہتے ہیں، بادل آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، برف پڑتی ہے، دھوپ اترتی ہے، آندھیاں چلتی ہیں، بجلیاں گرتی ہیں، مگر پہاڑ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ وہ بولتا نہیں، مگر اس کی خاموشی میں صدیوں کی داستان ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی پہاڑ کو محض ایک جغرافیائی وجود کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کی نظم ’’ہمالہ‘‘ میں پہاڑ ایک زندہ کردار بن کر سامنے آتا ہے، ایسا کردار جس کی خاموشی بھی گویا ایک زبان ہے اور جس کے سینے میں تاریخ کے راز محفوظ ہیں۔ اقبال کہتے ہیں:

” اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں

چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

 یہ صرف ہمالہ کی تعریف نہیں، یہ بلندی کے ایک فلسفے کی تشکیل ہے۔ پہاڑ زمین پر کھڑا ہے مگر اس کی پیشانی آسمان کو چھوتی ہے۔ اس کا وجود زمین سے وابستہ ہے مگر اس کی نگاہ بلندی کی طرف ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں پہاڑ اور مقاومت ایک دوسرے کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ پہاڑ وہ ہے جو جھکتا نہیں۔ اور مقاومت وہ ہے جو ظلم، جبر، تسلط اور طوفان کے سامنے اپنی جگہ سے ہٹنے سے انکار کر دے۔ اسی معنی میں اگر آج مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر کسی قوم کو ایک زندہ پہاڑ کی تمثیل میں دیکھا جائے تو اہلِ یمن کا نام نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ یمن: جہاں پہاڑ صرف زمین پر نہیں، مزاج میں بھی ہیں۔ یمن کی سرزمین کو دیکھئے تو محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اس قوم کے مزاج کو اس کے جغرافیے میں پہلے ہی لکھ دیا تھا۔ یہاں پہاڑ ہیں، گہری وادیاں ہیں، دشوار گزار راستے ہیں اور چٹانی بستیاں ہیں۔ شاید اسی لیے یمن کی تاریخ بھی سیدھی، ہموار اور بے مزاحمت شاہراہ نہیں رہی۔ اس سرزمین نے قدیم تہذیبوں کو جنم دیا، سلطنتوں کو بنتے اور مٹتے دیکھا، بیرونی اقتدار برداشت کیا، عثمانی دور دیکھا، برطانوی استعمار کا سامنا کیا، شمال و جنوب کی تقسیم دیکھی، اتحاد دیکھا اور پھر داخلی جنگوں کی آگ بھی دیکھی۔ یمن کی جدید تاریخ میں 1839 میں عدن پر برطانوی قبضہ، 1918 میں شمالی یمن سے عثمانی اقتدار کا خاتمہ، 1962 کا شمالی یمنی انقلاب اور خانہ جنگی، اور 1967 میں جنوبی یمن کی آزادی ایسے بڑے موڑ ہیں جنہوں نے اس قوم کے سیاسی شعور کو تشکیل دیا۔ یوں یمن کی تاریخ کے اوراق پلٹتے جائیں تو ہر چند صفحات کے بعد ایک لفظ نمایاں ہوتا دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے ”مزاحمت“۔ مزاحمت کبھی استعمار کے خلاف،کبھی بیرونی اقتدار کے خلاف، کبھی داخلی کشمکش میں، اور کبھی اپنے وجود اور خودمختاری کے دفاع میں۔ یہی وجہ ہے کہ یمنی مقاومت کو صرف آج کے چند برسوں کی عسکری تاریخ میں محدود کر دینا اس کی پوری معنویت کو سمجھنے سے محرومی ہوگی۔ پہاڑ کی اصل طاقت اس کی جڑوں میں ہوتی ہے۔ پہاڑ کی بلندی دیکھنے والا صرف اس کی چوٹی دیکھتا ہے، مگر اس کی اصل طاقت وہاں ہوتی ہے جہاں نگاہ نہیں پہنچتی۔

اس کی بنیاد چٹانوں کے اندر ہوتی ہے۔ قوموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ کسی قوم کی مزاحمت صرف اس کے ہتھیاروں سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے تاریخ ہوتی ہے، تہذیب ہوتی ہے، حافظۂ اجتماعی ہوتا ہے، عقیدہ ہوتا ہے، محرومیوں کی یاد ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی شناخت کے تحفظ کا جذبہ ہوتا ہے۔ یمن کی موجودہ مقاومت کو بھی اسی تاریخی تسلسل میں دیکھنا چاہیے۔

” انصار اللہ“ کی تحریک 1990ء کی دہائی کے مذہبی و سیاسی ماحول سے ابھری، 2000ء کی دہائی میں شمالی یمن کی جنگوں سے گزری اور 2014ء میں صنعاء پر اپنے کنٹرول کے بعد یمن کے سیاسی منظرنامے کا مرکزی فریق بن گئی۔ 2015ء میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کے بعد تنازع ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد برسوں تک فضائی حملے، زمینی لڑائیاں، محاصرہ، معاشی بحران اور انسانی المیہ یمن کی زندگی کا حصہ بنے رہے۔ مگر پہاڑ کی طرح یمن بھی کھڑا رہا۔زخمی ہوا، مگر گرا نہیں۔

اقبال کے ”ہمالہ“ کی سب سے بڑی خوبی صرف اس کی بلندی نہیں، اس کی خاموشی ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

 یوں زبانِ برگ سے گویا ہے اس کی خامشی

دستِ گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی

اور پھر:

    کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا 

    کنجِ خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مرا

یہاں خاموشی، خاموشی نہیں رہتی۔ وہ ایک بیان بن جاتی ہے۔ پہاڑ کی خاموشی دراصل اس کی تاریخ کی آواز ہوتی ہے۔ اور یمن کی خاموشی بھی ایسی ہی ہے۔ دنیا نے اس کے شہروں پر بم گرتے دیکھے، اس کے بچے مرتے دیکھے، اس کے گھر اجڑتے دیکھے، اس کے راستے بند ہوتے دیکھے۔ لیکن شاید دنیا نے اس خاموشی کو ہمیشہ صحیح طور پر نہیں پڑھا۔

وہ خاموشی جسے کمزوری سمجھا گیا، اس کے اندر ایک شور پل رہا تھا۔ وہ شور جو کبھی نعروں میں ظاہر ہوا، کبھی میدانِ جنگ میں، کبھی میزائلوں اور ڈرونز کی صورت میں، کبھی بحیرۂ احمر کے پانیوں پر اور کبھی عالمی سفارت کاری کے میز پر۔ پہاڑ خاموش تھا، مگر بے خبر نہیں تھا۔ طوفان آیا تو پہاڑ اور نمایاں ہوگیا۔ پہاڑ کی عظمت کا اندازہ صاف موسم میں نہیں ہوتا۔ پہاڑ کی اصل قامت طوفان میں دکھائی دیتی ہے۔ جب آسمان سیاہ ہوجائے، جب بجلیاں کوندیں، جب ہوائیں چٹانوں سے ٹکرائیں اور جب بارش پتھروں کو پیٹنے لگے، تب معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ کتنا مضبوط ہے۔ یمن کے لیے بھی گزشتہ ایک دہائی ایک طویل طوفان رہی ہے۔ فضائی حملے ہوئے۔ شہر تباہ ہوئے۔ معیشت بکھری۔لاکھوں انسان انسانی بحران کی زد میں آئے۔

لیکن اس سب کے باوجود یمن کی مزاحمتی قوت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: مزاحمت کی طاقت اور جنگ کی تباہی ایک چیز نہیں۔ جنگ انسانوں کو تباہ کرتی ہے؛ مقاومت بعض اوقات اسی تباہی کے درمیان اپنی بقا کا راستہ تلاش کرتی ہے۔ اسی لیے یمن کے بارے میں لکھتے ہوئے صرف میزائلوں، ڈرونز اور جنگی کارروائیوں کا ذکر کافی نہیں۔ اصل کہانی اس انسان کی ہے جو ملبے کے درمیان بھی اپنے گھر کی شناخت نہیں بھولتا۔ اصل کہانی اس ماں کی ہے جو اپنے بچے کو خوف کے باوجود امید سکھاتی ہے۔ اصل کہانی اس قوم کی ہے جو مسلسل بحران کے باوجود اپنے وجود کو ختم ہونے نہیں دیتی۔ یمن کی جغرافیائی اہمیت نے اس کی مقاومت کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک معنی بھی دے دیا ہے۔

بحیرۂ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع ” باب المندب“ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں یمن کا پہاڑ سمندر سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہاں جغرافیہ سیاست بن جاتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹے ملک کا ساحل عالمی تجارت کے بڑے راستوں سے جڑ جاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بعد انصار اللہ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں نے عالمی جہاز رانی پر اثر ڈالا اور کئی کمپنیوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑا۔ یوں یمن نے دنیا کو یہ یاد دلایا کہ نقشے پر چھوٹا دکھائی دینے والا ملک ہمیشہ سیاسی وزن میں بھی چھوٹا نہیں ہوتا۔ کبھی ایک پہاڑ کا سایہ بہت دور تک جاتا ہے۔ پہاڑ راستہ بھی ہوتا ہے اور رکاوٹ بھی۔ یہ پہاڑ کی ایک عجیب صفت ہے۔

وہ خود راستہ نہیں بدلتا، مگر دوسروں کو راستہ بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس کے دامن سے گزرنے والے مسافر اس کی وادیوں کو اختیار کرتے ہیں، اس کے دروں سے راستہ تلاش کرتے ہیں، اس کی چٹانوں کو دیکھ کر اپنی سمت متعین کرتے ہیں۔ یمن نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ جس ملک کو برسوں تک عالمی طاقتوں نے ایک کمزور، جنگ زدہ اور محتاج ملک سمجھ کر دیکھا، اسی ملک نے اپنی جغرافیائی حیثیت اور مزاحمتی قوت کے ذریعے عالمی سیاست کو اپنے وجود کا حساب رکھنے پر مجبور کیا۔ یہاں کامیابی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کون سا شہر کس کے قبضے میں ہے۔ کامیابی کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ جس وجود کو نظرانداز کیا جا رہا تھا، وہی وجود فیصلہ سازی کا ایک ناگزیر فریق بن جائے۔ مقاومت کی تاریخ میں یمن کا موجودہ باب اچانک نہیں کھلا۔ اس کے پیچھے طویل تجربہ ہے۔ پہاڑوں کی طرح نسلیں گزری ہیں مگر یادیں باقی رہی ہیں۔ ایک نسل نے جو دیکھا، دوسری نسل نے اسے روایت میں منتقل کی۔ جو دکھ ایک نسل نے برداشت کیا، دوسری نے اسے اپنی شناخت کا حصہ بنایا۔ اسی لیے مقاومت صرف ایک عسکری تنظیم یا ایک سیاسی جماعت کا نام نہیں رہتی۔ وہ ایک اجتماعی ذہنیت بن جاتی ہے۔ یہاں اختلافات بھی ہیں، داخلی تقسیم بھی ہے، سیاسی تنازع بھی ہے اور یمن کے اندر مختلف قوتوں کےاپنے اپنے مفادات بھی ہیں۔ لیکن ان تمام پیچیدگیوں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ یمن نے گزشتہ برسوں میں علاقائی طاقت کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ آج یمن کی صورتِ حال ایک مرتبہ پھر خطرناک موڑ پر ہے۔ لڑائی کے نئے مرحلے، مغربی ساحلی علاقوں میں عسکری کشیدگی، بحیرۂ احمر کی صورتِ حال اور سعودی سرحدی علاقوں سے متعلق حملوں کی اطلاعات نے پورے خطے کو ایک مرتبہ پھر اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ مگر اس منظر کو صرف جنگی نقشے پر دیکھنا کافی نہیں۔

اس کے پیچھے ایک بڑا سوال موجود ہے: کیا طاقت صرف وہ ہے جو بڑی فوجوں، جدید طیاروں اور وسیع وسائل کے پاس ہوتی ہے؟

یا طاقت وہ بھی ہے جو ایک قوم کو برسوں کے دباؤ کے بعد بھی اپنے موقف پر قائم رکھ سکے؟ یمن نے اس سوال کو عملی صورت میں دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ پہاڑ جھکتا نہیں، مگر اپنے دامن میں زندگی چاہتا ہے۔ یہاں ادب کو ایک لمحے کے لیے جنگ کے شور سے باہر نکلنا ہوگا۔ کیونکہ پہاڑ صرف مزاحمت کی علامت نہیں؛ وہ پناہ کی علامت بھی ہے۔ اس کے دامن میں بستیاں آباد ہوتی ہیں چرواہے اپنے ریوڑ لے کر آتے ہیں۔ مسافر سایہ تلاش کرتے ہیں۔ پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ اور بچے کھیلتے ہیں۔ اس لیے یمن کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہونی چاہیے کہ اس نے کتنے میزائل داغے یا کتنے حملے روکے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہونی چاہیے کہ ایک دن اس کے پہاڑوں کے دامن میں، بندوق کی آواز کے بجائے بچوں کی ہنسی سنائی دے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مقاومت انسانی مقصد سے جڑتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ادب جنگ کے شور سے بلند ہو کر انسان کی طرف لوٹتا ہے۔ اقبال کا ہمالہ اپنی جگہ کھڑا ہے۔ اس کی پیشانی کو آسمان چومتا ہے۔ اس کی خاموشی ایک افسانہ ہے۔ اس کے سینے میں زمانوں کے راز ہیں۔ اور یمن کے پہاڑ بھی آج دنیا سے کچھ ایسا ہی کہہ رہے ہیں: ہم نے طوفان دیکھے ہیں۔ ہم نے حملے دیکھے ہیں۔

ہم نے تباہی دیکھی ہے۔ مگر ہم نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اقبال کے یہ الفاظ ایک اور سطح پر پہنچا دیتے ہیں:

     اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں 

   چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

پہاڑ کی پیشانی آسمان سے ملتی ہے، کیونکہ اس کا سر جھکنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اور شاید یہی مقاومت کا سب سے خوبصورت استعارہ ہے: سر کٹ سکتا ہے، مگر اصول نہیں جھکتا۔

دنیا میں کچھ قومیں دریا کی مانند ہوتی ہیں۔ وہ راستہ تلاش کرتی ہیں، چٹانوں کو کاٹتی ہیں، رکاوٹوں کے درمیان بہتی ہیں۔ کچھ قومیں ہوا کی مانند ہوتی ہیں۔ وہ سرحدوں سے بے نیاز ہوتی ہیں، آتی ہیں، گزرتی ہیں اور اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ اور کچھ قومیں پہاڑ ہوتی ہیں۔ وہ اپنی جگہ کھڑی رہتی ہیں۔

اہلِ یمن آج اسی پہاڑ کا استعارہ بن چکے ہیں۔

ان کے جسم پر جنگ کے زخم ہیں، مگر روح میں شکست کا اعتراف نہیں۔ ان کے شہروں پر ملبہ ہے، مگر تاریخ میں ان کا وجود مٹ نہیں گیا۔ ان کے سامنے طاقتور مخالفین ہیں، مگر ان کے اندر اپنے وجود کے تحفظ کا عزم زندہ ہے۔ یہی پہاڑ ہے۔ یہی مقاومت ہے۔ اور یہی یمن کا استعارہ ہے۔ پہاڑ طوفان سے لڑنے کے لیے چلتا نہیں۔ وہ صرف کھڑا رہتا ہے۔

طوفان آتا ہے۔ گزر جاتا ہے۔ بادل چھٹ جاتے ہیں۔ آسمان صاف ہوجاتا ہے۔ اور پہاڑ؟ وہ وہیں ہوتا ہے۔ اسی جگہ۔ اسی قامت کے ساتھ۔ شاید کچھ نئی دراڑوں کے ساتھ، کچھ نئے زخموں کے ساتھ، مگر پہلے سے زیادہ گہری تاریخ کے ساتھ۔ اور یمن بھی شاید آج دنیا سے یہی کہہ رہا ہے: ہمیں مٹانے کی کوشش میں ہماری چٹانوں پر اپنے حملوں کی تاریخ لکھتے جاؤ، ہم اپنی نسلوں کے حافظے میں اپنی استقامت کی تاریخ لکھتے رہیں گے۔ کیونکہ پہاڑوں کی ایک عجیب عادت ہوتی ہے، وہ موسموں سے نہیں ڈرتے۔ وہ زمانوں کا انتظار کرتے ہیں۔

News ID 1941306

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha