مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے سی جی ٹی این نیوز نیٹ ورک کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حملے سے پہلے تمام تنصیبات تک رسائی موجود تھی، لیکن ایران کے خلاف حملے اور جارحیت ہی نے موجودہ صورتحال پیدا کی ہے؛ لہٰذا اس کا الزام ایران پر عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ اس وقت معائنہ کاروں کے ایران جانے اور بوشہر پاور پلانٹ کا دورہ اور معائنہ کرنے کا پروگرام موجود ہے؛ لہٰذا تعاون جاری ہے۔ تاہم جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، ان کے حوالے سے ضروری ہے کہ خطے میں تمام دشمنانہ کاروائیاں ختم کی جائیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی میں ایرانی نمائندے نے کہا کہ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک قرارداد منظور ہونے کے بعد جارحیت اور فوجی کاروائی کی گئی۔ یہ امریکہ اور یقیناً اس کے اتحادیوں کی عادت رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف نہایت اصولی ہے۔ ہم ہر ممکن ذریعے سے اپنے قومی مفادات کا تحفظ جاری رکھیں گے۔ ایرانی عظیم قوم کبھی بھی ان کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی اور ہم انہیں اپنا تیل لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میرا یقین ہے کہ ایرانی قوم کا پیغام یہ ہے کہ ہم آخر تک دفاع کرتے رہیں گے۔
آپ کا تبصرہ