11 ستمبر، 2026، 7:26 PM

عالمی ایٹمی ایجنسی کو جنگی جواز فراہم کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے، بقائی

عالمی ایٹمی ایجنسی کو جنگی جواز فراہم کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے، بقائی

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایران کے جوہری معاملے میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس ادارے کی ذمہ داری بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ میں مدد کرنا ہے، اسے کبھی بھی جنگ کے بہانے تراشنے کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے ایسی اتھارٹی کی تکنیکی رپورٹس کو، جس کی ساکھ فنی مہارت، غیر جانب داری اور آزادانہ عمل پر قائم ہے، جنگ چھیڑنے کے لیے سیاسی جواز میں تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ایجنسی کی رپورٹس ابہامات دور کرنے کے بجائے کسی ملک کے خلاف خطرے کا بیانیہ، سیاسی اور قانونی مقدمہ تیار کرنے کے لیے مواد فراہم کرنے لگیں تو تکنیکی نگرانی اور فوجی جارحیت کی راہ ہموار کرنے کے درمیان خطرناک حد تک فرق ختم ہو جاتا ہے۔

بقائی نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایجنسی یا اس کے ڈائریکٹر جنرل کی ساکھ کو نقصان پہنچنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا سب سے قیمتی اثاثہ، یعنی ایک غیر جانب دار اور آزاد مرجع کی حیثیت سے اس کی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ایجنسی کی فنی اور ادارہ جاتی ساکھ کو سیاسی ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے تو وہ جارحیت کو جائز اور قابلِ قبول دکھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، جو ایک سنگین ادارہ جاتی ناکامی ہے۔

بقائی نے کہا کہ ایسے حالات میں ایجنسی ایک غیر قانونی جنگ کے لیے سیاسی ماحول پیدا کرنے میں شریک بن جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوجی جارحیت اور جنگی جرائم کی ذمہ داری صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو حملے کا حکم دیتے یا براہِ راست غیر قانونی حملے کرتے ہیں، بلکہ ان افراد کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے جو جان بوجھ کر جارحیت کے لیے سیاسی اور قانونی جواز پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

News ID 1941298

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha