مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر کے دفتر کریملن کے ترجمان دیمتری پسکوف نے کہا ہے کہ لیتھوینیا کی جانب سے اپنی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر عائد قانونی پابندی ختم کرنے کی صورت میں لیتھوانیا روسی جوہری ہتھیاروں کی پہنچ میں آجائے گا۔
پسکوف نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ویلنیوس اپنی سرزمین پر جوہری ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو لیتھوینیا کا پورا علاقہ روسی جوہری ہتھیاروں کے دائرۂ اثر میں شامل ہوجائے گا۔
کریملن کے ترجمان نے مزید کہا کہ کسی ملک کی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان ہتھیاروں کو کسی مخصوص فریق کے خلاف استعمال کے لیے ہدف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی کے عمل میں ایک انتہائی خطرناک موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ