11 ستمبر، 2026، 12:11 PM

سلامتی کونسل کے اختیارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ایران

سلامتی کونسل کے اختیارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ایران

اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندہ دفتر نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کا حالیہ اجلاس بعض رکن ممالک کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کونسل کے طریقہ کار اور اختیارات کے غلط استعمال کی ایک اور مثال ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران نے سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ تین یورپی ممالک کی جانب سے نام نہاد اسنیپ بیک طریقہ کار کو معتبر طور پر فعال نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ ممالک جامع ایٹمی معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی اپنی ذمہ داریوں پر خاطر خواہ عمل نہیں کر رہے تھے۔

ایرانی نمائندہ دفتر نے کہا کہ قرارداد 2231، 18 اکتوبر 2025 کو اپنی مدت پوری کر چکی ہے اور اس کے بعد جوہری معاملے سے متعلق تمام دفعات، اقدامات اور پابندیاں مستقل طور پر ختم ہوچکی ہیں، لہٰذا قرارداد 1737 سے متعلق کمیٹی کی سرگرمیوں کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

ایران نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس اور طریقہ کار کا مقصد بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ اس کو سیاسی اہداف کو آگے بڑھانے یا غیر قانونی اقدامات کے لیے جواز فراہم کرنے کا آلہ نہیں بنانا چاہیے۔

10 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں 11 ارکان نے قرارداد کی حمایت جبکہ روس اور چین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ پاکستان و صومالیہ نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ اجلاس میں کوئی قرارداد منظور نہیں ہوئی اور کوئی عملی نتیجہ بھی سامنے نہیں آیا۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کی جانب سے کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ ایران کا نمائندہ بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

قرارداد 1737 کے تحت قائم ہونے والی پابندیوں کی کمیٹی کو ہر 90 دن بعد سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرنا تھی۔ تاہم 2015 کے جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 کے بعد ایران سے متعلق سابقہ پابندیوں کی قراردادیں معطل ہوگئیں، جس کے نتیجے میں 1737 کمیٹی اور اس کی رپورٹنگ کی ذمہ داری عملاً غیر مؤثر ہوگئی۔

News ID 1941288

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha