10 ستمبر، 2026، 10:15 PM

یمنی فورسز کی برق رفتاری سے پیش قدمی؛ المخا مزاحمتی جوانوں کے کنٹرول میں

یمنی فورسز کی برق رفتاری سے پیش قدمی؛ المخا مزاحمتی جوانوں کے کنٹرول میں

یمنی مزاحمتی فورسز نے سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے خلاف جاری لڑائی میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے المخا بندرگاہ سمیت کئی اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی مزاحمتی فورسز نے سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے خلاف جاری لڑائی میں اہم پیش رفت رقم کر دی ہے۔

مختلف ذرائع کے مطابق، یمنی مسلح افواج اور انصار اللہ نے المخا بندرگاہ کو آزاد کروانے کے بعد بحرِ احمر کے جزرِ زُقَر میں سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں اور باب المندب کے علاقے میں ایک بڑے حملے سے حنیش الکبریٰ اور صغریٰ کو بھی آزاد کروا دیا ہے۔

المخا کی آزادی سے خطے میں امریکی و اسرائیلی سازش ناکام ہوگئی

یمنی نائب وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ المخا بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کرکے یمنی عوام کامیاب ہوگئے اور سعودی عرب کے وہم و گمان کے ساتھ خطے میں امریکی و صیہونی سازش بھی ناکام ہوگئی۔

انہوں نے العہد نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ المخا کو دوبارہ حاصل کرنے سے اسرائیل اور امریکہ کا خطے میں منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

المنصور نے کہا کہ یمن ہماری سرزمین ہے اور المخا کی آزادی سے پہلے بھی باب المندب یمنی مسلح افواج کے کنٹرول میں تھا۔ یمنی مسلح افواج پورے یمن کو آزاد کروانے اور یمنی عوام کے حقوق واپس دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عرب حکومتیں ناقابلِ بیان خوف میں مبتلا ہیں اور خود کو غاصب صیہونی حکومت کے آلۂ کار کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔

یمنی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ یمن کی جانب سے جاری محاصرہ اسی وقت ختم ہوگا جب اماراتی اور سعودی قابض افواج پسپائی اختیار کریں گی۔

یمن کے نائب وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ابوظہبی اور ریاض کے درمیان جاری خفیہ کشمکش بھی کھل کر سامنے آگئی ہے اور الحدیدہ میں فتح پورے محورِ مزاحمت کی فتح ہے۔

صنعاء کے وزیرِ دفاع کا حالیہ آزاد کروائے گئے علاقوں کا دورہ؛ یمن کی آزادی کے لیے جنگ جاری رکھنے کا عزم

یمن کے وزیرِ دفاع محمد ناصر العاطفی نے یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حالیہ آزاد کروائے گئے علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو آزاد کروانے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی سرزمین کی مکمل آزادی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

العاطفی کی جنگی علاقوں میں موجودگی کی تصاویر سامنے آنے کے بعد گزشتہ روز سے ان کے قتل کے بارے میں گردش کرنے والی خبریں بھی سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔

الجزیرہ: یمن کا المخا پر کنٹرول کیوں اہم ہے؟

یمن کی مسلح افواج کی حالیہ کاروائیوں کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی حمایت یافتہ خود ساختہ حکومت کی فورسز سے اسٹریٹجک شہر المخا کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ اس شہر پر کنٹرول کی صورت میں انصاراللہ کے مجاہدین باب المندب کے اطراف اپنے اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں، جو عالمی بحری آمدورفت اور تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

یمنی فورسز کی برق رفتاری سے پیش قدمی؛ المخا مزاحمتی جوانوں کے کنٹرول میں

یمنی مسلح افواج سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں کی رسد کے راستے بھی منقطع کرنا چاہتی ہیں، جن میں المخا اور تعز کے درمیان شاہراہ، المخا کے جنوب میں واقع رسدی راستے اور بندرگاہ المخا کے ذریعے رسد کی ترسیل شامل ہے۔

یہ بندرگاہ یمن کے مغربی ساحل پر ان فورسز کے اہم رسدی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اگر المخا پر قبضہ مستحکم ہوجاتا ہے تو سعودی حمایت یافتہ فورسز اپنی فوجی اور رسدی صلاحیت کا ایک اہم حصہ کھو دیں گی، جبکہ اس کے مقابلے میں یمنی مسلح افواج کی باب المندب کے قریب پوزیشن مزید مضبوط ہوجائے گی۔

رپورٹس کے مطابق، اس پیش قدمی کو معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ سعودی حمایت یافتہ جنگجو اپنے مورچوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

یمن: حملے رکنے تک سعودی جارحیت کا جواب جاری رہے گا

یمنی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر جاری جارحیت کے باعث اس کا جواب دینا ناگزیر ہے اور یہ سلسلہ جارحیت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی مسلح افواج ملک کی خودمختاری کے دفاع، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

یمنی وزارتِ خارجہ نے سعودی حکومت کی حالیہ فوجی سرگرمیوں میں اضافے کو یمن کے جوابی اقدامات کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمنی عوام کے خلاف سینکڑوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یمن کبھی کسی کے لیے خطرے کا ذریعہ نہیں رہا اور نہ بنے گا۔ یمن باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے اور علاقائی سلامتی کے نظام کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے مسلسل جھوٹے بیانیوں کا سہارا لے رہا ہے۔

یمنی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے اور سعودی عرب کو یمن پر حملے، اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اس کے وسائل کی لوٹ مار روکنے پر مجبور کرے۔

عبدالسلام کی سعودی عرب کی پالیسی اور کشیدگی میں اضافے پر تنقید

صنعاء کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد عبدالسلام نے حالیہ کشیدگی پر سعودی عرب کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کو کشیدگی بڑھانے اور جرائم کے ارتکاب کے بجائے صنعاء کی امن کی اپیل کا جواب دینا چاہیے تھا۔

سعودی عرب کا یمن کے 6 صوبوں پر 70 فضائی حملہ

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق، سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر ۷۰ فضائی حملے کیے۔

اس رپورٹ کے مطابق، تعز، الجوف، مأرب، الحدیدہ، صعدہ اور البیضاء کے مختلف علاقوں کو سعودی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا۔

News ID 1941279

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha