11 ستمبر، 2026، 8:24 PM

وینس فلم فیسٹیول میں فلسطینی پرچم بلند؛ غزہ پر دستاویزی فلم کو زبردست پذیرائی

وینس فلم فیسٹیول میں فلسطینی پرچم بلند؛ غزہ پر دستاویزی فلم کو زبردست پذیرائی

غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر بنائی گئی دستاویزی فلم "نازا" کی وینس فلم فیسٹیول میں نمائش کے دوران شائقین نے ریکارڈ 24 منٹ 30 سیکنڈ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور بعض افراد نے فلسطینی پرچم بھی بلند کیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہام اور راشل سزور کی تیار کردہ دستاویزی فلم "نازا" کو 2026 کے ونیس فلم فیسٹیول میں پہلی نمائش کے موقع پر غیر معمولی پذیرائی ملی۔ فلم کی نمائش کے بعد شائقین نے طویل ترین اسٹینڈنگ اوویشن دی، جو ونیز فلم فیسٹیول کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قرار دی جا رہی ہے۔

یہ دورانیہ گزشتہ سال فلم "دی وائس آف ہند رجب" کو ملنے والی 22 منٹ کی پذیرائی سے بھی زیادہ تھا۔ آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز جوناتھن گلیزر، جو اس فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی ہیں، نے بھی دونوں ہدایت کاروں کو گلے لگا کر سراہا۔

فلم "نازا" میں غزہ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مبینہ منظم قتل عام کے نظام کو موضوع بنایا گیا ہے۔

نمائش کے دوران دونوں اسرائیلی ہدایت کار غمگین چہروں اور آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ موجود تھے، جبکہ کئی تماشائی بھی جذباتی ہوگئے۔ بعض افراد نے اس موقع پر فلسطینی پرچم بلند کیے اور غزہ کے لوگوں کی مشکلات کو پردۂ اسکرین پر پیش کرنے پر فلم سازوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

فلم کے سرکاری خلاصے کے مطابق "نازا" غزہ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف منصوبہ بند بڑے پیمانے پر ہونے والی کاروائیوں کے پس پردہ نظام کو تفصیل سے دکھاتی ہے۔

دستاویزی فلم کو خفیہ طور پر رات کے وقت تل ابیب کی چھتوں سے فلمایا گیا، جبکہ اس میں اسرائیلی فوج کے 24 انٹیلی جنس افسران اور اہلکاروں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔

فلم میں استعمال ہونے والا لفظ "نازا" (NAZA) ایک اصطلاح کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جسے اسرائیلی انٹیلی جنس مبینہ طور پر فضائی حملوں میں ممکنہ شہری ہلاکتوں کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

"نازا" کو جولائی میں جاری ہونے والی ونیز فلم فیسٹیول کی ابتدائی فہرست کے ایک ماہ بعد مقابلے کے حصے میں شامل کیا گیا۔ فلم سازوں کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تقریباً تین سال سے اس منصوبے پر کام کر رہے تھے اور آخری مراحل میں فلم مکمل کر رہے تھے۔

یووال ابراہام اور راشل سزور اس سے قبل آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم "نو آدر لینڈ" کے شریک ہدایت کاروں میں شامل تھے، جس میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں سے بے دخلی کے مسئلے کو پیش کیا گیا تھا۔

یووال ابراہام نے کہا کہ اسرائیلی شہری ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے معاشرے کے اندر موجود ان افراد تک رسائی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جو فوج میں شامل رہے ہیں، تاکہ اس نظام کو سمجھا جاسکے۔

"نازا" اس سال ونیز فلم فیسٹیول کے مقابلے میں شامل واحد مکمل طوالت کی دستاویزی فلم ہے، جسے برطانوی اخبار گارڈین، جیمز ولسن فلمز اور جوناتھن گلیزر نے تیار کیا ہے۔

گزشتہ سال بھی ونیز فلم فیسٹیول میں تیونسی ہدایت کار کوثر بن ہنیہ کی فلم "دی وائس آف ہند رجب" نے 22 منٹ کی اسٹینڈنگ اوویشن حاصل کی تھی، جو غزہ میں ایک 6 سالہ فلسطینی بچی کے واقعے پر مبنی تھی۔

News ID 1941302

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha