مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سپاہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے جدید ترین جاسوسی سمارٹ سمندری ڈرون کو کامیابی کے ساتھ سالم حالت میں اپنے قبضے میں لیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے واقعے کے فوری بعد کہا کہ مذکورہ ڈرون پرانا تھا، فنی خرابی کا شکار ہوگیا تھا اور اس میں کوئی حساس معلومات موجود نہیں تھیں۔ تاہم یہ مؤقف غیر متوقع نہیں، کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ دنیا کے حساس ترین بحری علاقوں میں سے ایک میں اس کے ایک عملیاتی نظام کے قبضے میں لیے جانے کو ایران کے لیے اہم انٹیلی جنس اور تکنیکی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے۔
دوسری جانب امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اس واقعے کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں سمارٹ نظاموں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کا استعمال سمندری تہہ کی نگرانی، بارودی سرنگوں سے نمٹنے اور بحری علاقوں کی نگرانی جیسے اہم مشنز کے لیے کیا جاتا ہے۔
امریکہ کی نئی زیر آب حکمت عملی
زیرِ آب سمارٹ نظام محض تجرباتی یا غیر اہم آلات نہیں، بلکہ امریکی بحری نگرانی، معلومات جمع کرنے اور عملیاتی برتری کی نئی صلاحیت کا حصہ ہیں۔ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کا سمندری علاقہ کوئی عام بحری راستہ نہیں۔ یہ دنیا کے اہم ترین توانائی اور تجارتی راستوں میں شامل ہے اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی اقتصادی اور سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسی وجہ سے امریکہ نے جنگی بحری جہازوں، آبدوزوں اور گشتی طیاروں کی روایتی موجودگی کے ساتھ ساتھ سمارٹ نظاموں کو بھی نگرانی اور معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
زیرِ آب ڈرون اس حکمت عملی میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ فضائی ڈرونز کے مقابلے میں ان کی موجودگی کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ سمندری ماحول، زیر آب تہہ، بحری راستوں اور بعض فوجی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بحری جنگ اور مقابلے میں اس نوعیت کی معلومات انتہائی اہم ہوتی ہیں، کیونکہ کسی بھی بحری طاقت کے لیے اپنے عملیاتی ماحول کو درست طور پر سمجھنا بنیادی ضرورت ہے۔
ایران کے ہاتھ لگنے والا قیمتی نمونہ
اس زیر آب ڈرون کی اہمیت کا اندازہ صرف اس کی مالی قیمت سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اگر اس کی مالیت تقریباً 25 لاکھ ڈالر بھی ہو تو اس کی اصل قدر اس ٹیکنالوجی اور معلومات میں ہے جو اس کی تیاری اور عملی استعمال میں موجود ہیں۔
کسی عملیاتی فوجی نظام کا حقیقی نمونہ حاصل ہونے سے اس کے ڈیزائن، جسمانی ساخت، پیشران کے نظام، سینسرز، مواصلاتی آلات، توانائی کے انتظام اور مجموعی ساخت کا تفصیلی مطالعہ ممکن ہوسکتا ہے۔
ایسے حقیقی نظام کا مطالعہ ان ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی تیار کررہے ہیں۔ اس سے تکنیکی حل، نظام کی خوبیاں اور کمزوریاں اور عملیاتی مشکلات سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری کا عمل زیادہ تیز اور مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
زیر آب ٹیکنالوجی کے معروف تجزیہ کار ایچ آئی ساتن کے مطابق یہ ڈرون ایران کے تیار کردہ کئی نمونوں سے زیادہ پیچیدہ ہے اور ایران کا اس تک پہنچنا زیر آب بغیر پائلٹ کے نظاموں کی ٹیکنالوجی کے مطالعے اور مزید ترقی کے لیے ایک اہم موقع ہوسکتا ہے۔
اس طرح معاملہ محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہتا۔ پینٹاگون اگر اس نظام کی انٹیلی جنس اہمیت کم بھی قرار دے، تب بھی ایک حقیقی فوجی ٹیکنالوجی کے نمونے تک رسائی بذاتِ خود ایک اہم تکنیکی موقع ہے۔
پینٹاگون کی وضاحت پر سوال
پینٹاگون کا یہ کہنا کہ ڈرون پرانا تھا اور فنی خرابی کے باعث ضائع ہوا، ممکن ہے کسی حد تک درست ہو، کیونکہ کوئی بھی فوجی نظام فنی خرابی سے محفوظ نہیں ہوتا۔ بغیر پائلٹ کے نظام بالخصوص ایسے ماحول میں کام کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں جہاں ان کے ضائع ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
ڈرون تیار کرنے والی کمپنی آندوریل بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ ڈائیو ایل ڈی کو خطرناک نوعیت کے مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ لیکن کسی نظام کا خطرناک مشنز میں استعمال ہونا یا اس کے ضائع ہونے کا امکان ہونا، اسے غیر اہم ثابت نہیں کرتا۔
بغیر پائلٹ کے نظاموں کا بنیادی مقصد ہی ایسے مشنز انجام دینا ہے جن میں زیادہ مہنگے آلات استعمال کرنا یا انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا مناسب نہ ہو۔ اس لیے کسی نظام کا ضائع کیے جانے کے خطرے کے ساتھ تیار کیا جانا اس کی عملیاتی اہمیت کو ختم نہیں کرتا۔
اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز جیسے انتہائی حساس علاقے میں جدید زیر آب ٹیکنالوجی استعمال کی، جبکہ اس پورے جغرافیائی ماحول سے ایران بخوبی واقف ہے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں بحری مقابلہ اب صرف جنگی جہازوں، آبدوزوں اور ساحل سے سمندر تک مار کرنے والے میزائلوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ بغیر پائلٹ کے ٹیکنالوجی اور معلومات کے حصول کی جنگ بھی اس کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
ایران کے لیے اس واقعے کی اہمیت دوہری ہے۔ ایک طرف اس نے ایسے حساس ماحول میں ایک امریکی زیر آب نظام کا سراغ لگانے اور اسے قبضے میں لینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جہاں امریکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی نگرانی بڑھانا چاہتا ہے، اور دوسری طرف اسے اس نظام کے مطالعے کے ذریعے اپنی زیرِ آب ٹیکنالوجی اور ایسے ہی نظاموں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔
اسی لیے امریکہ کی جانب سے اس واقعے کو ایک پرانے اور کم اہم نظام کے ضائع ہونے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کو اس کے سیاسی اور اطلاعاتی اثرات محدود کرنے کی حکمت عملی بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ ایک امریکی عملیاتی نظام تک ایران کی رسائی کو بڑی بحری اور تکنیکی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے۔
آخرکار اس زیر آب ڈرون کی اہمیت کا اندازہ صرف اس کی قیمت سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ ایران نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے عملیاتی ماحول میں امریکہ کے زیر استعمال ٹیکنالوجی کا ایک حقیقی نمونہ حاصل کیا ہے۔
ممکن ہے یہ نظام نئے اور زیادہ جدید نمونوں کے مقابلے میں پرانا ہو اور ممکن ہے اس میں موجود حساس مشن سے متعلق معلومات تک رسائی بھی ممکن نہ ہو، لیکن اس کی ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور عملی کارکردگی کو سمجھنے کا موقع پھر بھی قابل قدر ہے۔
واشنگٹن کہتا ہے کہ یہ نظام پرانا اور غیر اہم تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی غیر اہم تھا تو امریکہ نے اسے دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، میں اپنی بحری کارروائیوں کے دوران استعمال کیوں کیا؟
یہی سوال اس واقعے کو محض ایک عام بحری نقصان کے بجائے ایک اہم بحری اور تکنیکی واقعہ بنا دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ