9 ستمبر، 2026، 2:54 PM

خلیج فارس میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی

خلیج فارس میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی

امریکی جارحیت اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، برینٹ خام تیل کے نرخ جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں ہونے والی تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرگئی، جو 24 جولائی کے بعد اس سطح پر پہلی بار پہنچی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں دو فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق آج صبح ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک ڈالر اضافے کے بعد 99.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں قیمت 100 ڈالر کی نفسیاتی حد بھی پار کرگئی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں اگست کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

دریں اثنا، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے آج علی الصبح جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کے دو جنگی تباہ کن جہازوں DDG-119 اور DDG-53 کو، جو کروز میزائلوں اور ایجس دفاعی نظام سے لیس تھے، حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

علاقائی صورتحال میں اس تیزی نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر سپلائی کے خطرات کو نمایاں کردیا ہے، جبکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی مزید کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔

News ID 1941250

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha