سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر یمنی ڈرون حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر یمنی فورسز کے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر یمنی فورسز کے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ سعودی عرب میں تیل کے کنوؤں اور پلانٹس پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی عالمی رسد میں پانچ فیصد کمی ہوگئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 10.68 فیصداضافہ ہوگیا اور یورپی آئل مارکیٹوں میں برینٹ خام تیل 11.77فیصدمہنگا ہوگیا۔ تیل کی عالمی منڈی میں امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 60.71 ڈالر اور برینٹ کروڈ کے دام 67.31ڈالر فی بیرل ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تنصیبات سے تیل کی رسد مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں جس کے باعث اتنے ہی عرصے تک قیمتوں میں اضافہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

ہفتے کے روز سعودی عرب میں تیل کی دو بڑی اور اہم تنصیبات پریمنی فورسز نے ڈرون حملے کئے  تھے جس کے نتیجے میں ان مقامات پر آگ لگ گئی اور کافی مالی نقصان ہوا۔ یمنی فورسز اس سے قبل اعلان کرچکی تھیں کہ وہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہیں۔

News Code 1893793

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 8 =