28 مارچ، 2025، 10:26 AM

تہران میں جہاد اسلامی فلسطین کے نمائندے کی مہر نیوز سے گفتگو؛

یوم القدس عالمی یکجہتی کا ایک سنہری موقع ہے

یوم القدس عالمی یکجہتی کا ایک سنہری موقع ہے

تہران میں فلسطین کی اسلامی جہاد موومنٹ کے نمائندے نے کہا کہ یوم القدس اتحاد پیدا کرنے کا سنہری موقع ہے، اس دن امت مسلمہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے خدا سے اپنے عہد کی تجدید کرتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، الناز رحمت نژاد: یوم القدس نے خطے میں اسلامی مزاحمت کو متحد اور مضبوط کیا ہے۔ مزاحمت کی تمام شاخیں سنی اور شیعہ دونوں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ القدس اور فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ مقبوضہ فلسطین کے غاصبوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔

  عالمی یوم القدس امریکہ اور صیہونی حکومت کی تمام شرارتوں کو بے نقاب کرنے کا دن ہے اور اس دن ظلم و ستم کے خلاف انسانی ضمیر کو بیدار کیا جاتا ہے۔ بعض اسلامی ممالک کے سربراہان فلسطینی کاز سے لاتعلق ہیں اور اپنی خاموشی سے ظالم اور غاصب صیہونی حکومت کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ امام خمینی (رہ) کے مطابق اگر مسلمان متحد ہو جائیں اور ہر مسلمان ایک ایک بالٹی پانی ڈالے تو صیہونی حکومت ڈوب جائے گی۔

عالمی یوم القدس مسلمانوں کے اتحاد کو ظاہر کرنے کا ایک سنہری موقع ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جائے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
تاہم اس سال کا یوم القدس خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ طوفان الاقصیٰ آپریشن، غزہ جنگ بندی معاہدہ، ٹرمپ کا فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا منصوبہ اور امریکہ اور یورپی ممالک کی صیہونی رژیم کی حمایت کے خلاف ان ممالک کے طلباء کا احتجاج اس سال کے بڑے واقعات ہیں۔

 اس سلسلے میں مہر نیوز کی رپورٹر نے تہران میں فلسطین کی اسلامی جہاد موومنٹ کے نمائندے ناصر ابو شریف سے گفتگو کی ہے جو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:

 اس گفتگو کے آغاز میں ناصر ابو شریف نے کہا کہ بلاشبہ خطے اور دنیا کے پیچیدہ حالات، صیہونی حکومت کے حملوں اور ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے اس سال کا عالمی یوم القدس خاص اہمیت کا حامل ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد، ہم ایک عالمی نظام کا مشاہدہ نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ہمیں ایک قسم کی غنڈہ گردی اور عالمی کشیدگی کا سامنا ہے، ہم ایک بڑے بحران کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو تباہ کر دیا ہے، ہم صہیونی منصوبوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جن کی حمایت امریکہ کی طرف سے کی جاتی ہے۔

ابو شریف نے کہا کہ اس سال کا یوم القدس فلسطینی محور کے گرد تمام کوششوں کو یکجا کرنے کا موقع ہے، تمام نگاہیں قدس پر مرکوز ہونی چاہئیں اور ٹرمپ کی غنڈہ گردی کے خلاف اسلامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ ہم عرب حکومتوں کے ٹوٹنے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جن میں سے کچھ نہ صرف ذلت و رسوائی کے شکار ہیں بلکہ مسئلہ فلسطین سے خیانت کی مرتکب ہوئی ہیں۔

 اسلامی جہاد موومنٹ کے نمائندے نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں عوامی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اپنی طاقت کے اجزاء کو از سرنو مربوط کریں، کیونکہ دنیا میں ہم اکثریت میں ہیں اقلیت میں نہیں۔ ہم امریکی صیہونی منصوبوں کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اندرونی جھگڑوں کے خول سے نکلنا ہوگا، یوم القدس اتحاد پیدا کرنے کا دن ہے۔ یوم قدس کے موقع پر امت مسلمہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے خدا کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرتی ہے۔

 ناصر ابو شریف نے مزید کہا کہ امام خمینی (رح) نے عالمی یوم القدس منانے کا حکم دے کر انسانیت کے سامنے ایک اسلامی منصوبہ پیش کیا، یوم القدس اسلامی فکر پر مبنی دعوت ہے جو زندگی کی رہنمائی کرتی ہے۔ 

  انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سیاسی اور تزویراتی لحاظ سے ایک اہم مسئلہ ہے جو سب کو متحد کر سکتا ہے۔ قدس کوئی عام جغرافیہ نہیں ہے۔ قدس دنیا میں مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اسے مذہبی حیثیت حاصل ہے۔ قدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی جگہ ہے۔ قدس امت اسلامیہ اور صیہونیوں کے درمیان عالمی تنازعات کا مرکز ہے۔ قدس امریکی صیہونی پالیسیوں کے خلاف عالم اسلام کی طاقت کے منتشر عناصر کو یکجا کر سکتا ہے۔

News ID 1931433

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha