مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، صیہونی ٹی وی چینل 12 نے گذشتہ ہفتے کابینہ کے اجلاس میں مذاکراتی ٹیم کے پیش کردہ منصوبے کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔
صیہونی رژیم نے جمعرات کی شب ثالثی کرنے والے فریقوں سے ایک منصوبہ حاصل کیا اور ہفتے کی شام کو اپنی تجاویز پیش کیں۔
اس مجوزہ منصوبے میں 10 زندہ قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی میں 11 مردہ قیدیوں کی لاشیں حوالہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
صیہونی رژیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ثالثی فریقوں کے سامنے پیش کیے گئے منصوبے پر حماس کے جواب کا انتظار کر رہی ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مذکورہ منصوبے میں مستقل جنگ بندی اور قیدیوں کے جامع تبادلے کے لیے ضروری معیارات کا فقدان ہے۔
دریں اثنا، حماس کے تجویز کردہ منصوبے میں امریکی قیدی "ایڈن الیگزینڈر" سمیت 5 یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔ تاہم صیہونی حکومت نے دھمکی دی ہے کہ حماس کی جانب سے تل ابیب کی تجاویز قبول نہ کرنے کی صورت میں فوجی دباؤ بڑھایا جائے گا!
آپ کا تبصرہ