9 ستمبر، 2026، 3:49 PM

ویانا، امریکی و اسرائیلی حملے ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم نہیں کرسکتے، ایرانی وفد

ویانا، امریکی و اسرائیلی حملے ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم نہیں کرسکتے، ایرانی وفد

ویانا میں ایرانی وفد نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں اور سائنس دانوں کی شہادت کے باوجود جوہری صلاحیتیں برقرار رہیں گی، کیونکہ یہ عمارتوں اور مشینوں تک محدود نہیں بلکہ علم، عزم اور ماہر انسانی وسائل پر قائم ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنی جوہری صلاحیتوں کے برقرار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور سائنس دانوں کو قتل کرنے سے ملک کی جوہری مہارت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں صرف عمارتوں یا مشینوں تک محدود نہیں ہیں۔

بیان کے مطابق 2025 اور 2026 میں ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں سے پرامن جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا اور بعض اہم شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی متاثر ہوئی، تاہم ایران کی بنیادی جوہری صلاحیتیں علم، عزم اور ماہر انسانی وسائل پر قائم ہیں۔

ایرانی وفد نے کہا کہ تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور سائنس دانوں کو شہید کیا جاسکتا ہے، لیکن جب علم معاشرے کے لوگوں میں جڑ پکڑ لیتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا بلکہ آگے بڑھتا اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جوہری سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت مسلسل سرمایہ کاری، جمع شدہ سائنسی علم، ماہر افرادی قوت اور مقامی آلات و بنیادی ڈھانچے کی تیاری کا نتیجہ ہے۔ ان کوششوں کے باعث ایران نے ایک پائیدار اور مستحکم سائنسی و تکنیکی صلاحیت حاصل کی ہے جو ملک کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کو پورا کرتی ہے۔

ایرانی وفد نے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ ایران میں اس ٹیکنالوجی سے زراعت، ماحول کے تحفظ، فصلوں کی بہتری، کیڑوں اور بیماریوں پر قابو پانے، خوراک محفوظ رکھنے اور پانی و کھاد کے مؤثر استعمال میں مدد لی جارہی ہے۔

بیان کے مطابق ایران نے ریڈیوآئسوٹوپس کی تیاری و استعمال، شعاعوں کے ذریعے صفائی اور جراثیم کشی، جبکہ طب اور صنعت میں تابکاری پر مبنی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی صلاحیتیں حاصل کی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے لیے تابکاری سے تحفظ، نگرانی، پیمائش اور شناخت کے نظام بھی تیار کیے گئے ہیں۔

News ID 1941252

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha