مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اٹھارہویں برکس سربراہان اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی روانہ ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو تہران سے روانگی کے وقت نائب صدر اول محمدرضا عارف، دفتر مقام معظم رهبری کے بین الاقوامی امور کے معاون حجت الاسلام والمسلمین محسن قمی اور حکومتی عہدیداروں کے ایک گروپ نے رخصت کیا۔
ایرانی صدر اپنے دورہ بھارت کے دوران برکس کے سربراہی اجلاس کے مرکزی اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ برکس کے رکن ممالک کے اقتصادی اجلاس اور "جامع عالمی حکمرانی اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے" کے موضوع پر سربراہان کے بند اجلاس میں بھی خطاب کریں گے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ برکس کے رکن ممالک مجموعی طور پر دنیا کی 45 فیصد سے زیادہ آبادی اور تقریباً 35 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں اور مختلف شعبوں میں اہم صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برکس کے اہم اہداف میں سے ایک عالمی یکطرفہ نظام کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ ممالک اپنی آزادی برقرار رکھتے ہوئے اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دے سکیں۔
ایرانی صدر نے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی لین دین میں ڈالر پر انحصار کم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوشش یہ ہے کہ ممالک ڈالر پر انحصار کے بغیر اقتصادی اور علاقائی ترقی کی راہ ہموار کریں اور بڑی طاقتوں کی یکطرفہ پالیسیوں اور بالادستی کے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں۔
پزشکیان نے برکس سربراہی اجلاس کو اس تنظیم کے بڑے اور مؤثر ممالک کے ساتھ مذاکرات کا اہم موقع قرار دیا اور کہا کہ چین، روس، برازیل، بھارت اور دیگر علاقائی ممالک کی موجودگی باہمی اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے مناسب موقع فراہم کرتی ہے۔
ایرانی صدر اس دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم، ملائیشیا کے وزیراعظم، جنوبی افریقہ کے صدر اور اجلاس میں شریک دیگر رہنماؤں اور حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
آپ کا تبصرہ