11 ستمبر، 2026، 7:19 PM

اقتصادی سلامتی، قومی اور علاقائی سلامتی سے الگ نہیں، پزشکیان

اقتصادی سلامتی، قومی اور علاقائی سلامتی سے الگ نہیں، پزشکیان

ایرانی صدر نے کہا کہ اقتصادی سلامتی، قومی اور علاقائی سلامتی سے الگ نہیں ہے اور جب بھی کسی ملک کی تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے یا مالیاتی نظام کو سیاسی و عسکری دباؤ کا سامنا ہو تو اس کے اثرات اس ملک کی سرحدوں سے باہر بھی ظاہر ہوں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہندوستان میں برکس کے سربراہان کے اقتصادی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارے لیے یہ باعثِ حوصلہ اور باعثِ فخر ہے کہ ہم برکس کے ارکان کے درمیان موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسد کی زنجیروں میں خلل اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مختلف ممالک کی اقتصادی سرگرمیوں کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے مقابلے میں برکس کا جواب کیا ہے؟

پزشکیان نے زور دیا کہ ہمارا یقین ہے کہ برکس کی حقیقی طاقت صرف اس کے رکن ممالک کے اقتصادی حجم تک محدود نہیں، بلکہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوگی جب ان صلاحیتوں کو تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ مالی اعانت کے ایک نیٹ ورک میں تبدیل کیا جائے؛ یعنی ممکنہ تعاون سے عملی تعاون کی جانب پیش رفت کی جائے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ماننا ہے کہ تجارتی شراکت داروں، مالی اعانت اور ادائیگی کے راستوں میں تنوع پیدا کیے بغیر اقتصادی لچک ممکن نہیں۔ ایران گزشتہ برسوں کے دوران وسیع پیمانے پر پابندیوں کا سامنا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی فوجی جارحیت کے باعث یہ دباؤ انتہائی مشکل اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جارحیت نے انسانی اور مادی نقصانات کے علاوہ ایک اہم حقیقت کو ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ اقتصادی سلامتی، قومی اور علاقائی سلامتی سے الگ نہیں۔ جب بھی کسی ملک کی تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے یا مالیاتی نظام کو سیاسی و عسکری دباؤ کا سامنا ہو تو اس کے اثرات اس ملک کی سرحدوں سے تجاوز کر جائیں گے اور علاقائی سطح، بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے۔

پزشکیان نے کہا کہ اسی لیے برکس کو اپنے رکن ممالک اور عالمی جنوب کی معیشتوں کے لیے لچکدار سرگرمیوں کو فروغ دے کر ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں کوئی بھی ملک کسی مالیاتی یا ٹیکنالوجی کے ذریعے اجارہ داری قائم کرکے دوسرے ملک کی جائز تجارت میں خلل نہ ڈال سکے۔

انہوں نے کہا کہ برکس کے اندر تجارت بڑھانے کے لیے ہمیں بکھرے ہوئے تعاون سے تجارتی بنیادی ڈھانچے کے بتدریج انضمام کی جانب بڑھنا ہوگا۔ اس سلسلے میں ڈیجیٹلائزیشن، کسٹم کے عمل کو یکجا کرنا، تجارت کو آسان بنانا، ضابطہ جاتی اور انتظامی رکاوٹوں میں کمی، منڈیوں کی ترقی اور نجی شعبے کی مشترکہ سرمایہ کاری کو آسان بنانا اہم اقدامات ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اس کے علاوہ معیار بندی کے شعبے میں تعاون کو بھی مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ برکس خام مال کی خرید و فروخت کی منڈی سے آگے بڑھ کر مشترکہ صنعتی پیداوار اور قدر کی زنجیروں کے ایک نیٹ ورک میں تبدیل ہوسکے۔

پزشکیان نے کہا کہ غذائی سلامتی اور توانائی، اقتصادی سلامتی کے دو بنیادی ستون ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران وسیع توانائی کے ذخائر اور ممتاز جغرافیائی محلِ وقوع کے ساتھ برکس میں توانائی، خوراک اور نقل و حمل کی رسد کی زنجیروں میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہم ترین اقدامات میں سے ایک رکن ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ زرِ مبادلہ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ذرائع بھی تشکیل دیئے جانے چاہییں، کیونکہ موجودہ مالیاتی نظام چند محدود کرنسیوں پر انحصار کے باعث سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں کمزور ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ تجارتی تعاون کو حقیقی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے نیو ڈویلپمنٹ بینک کو خصوصی قرضہ جاتی سہولتوں، مقامی کرنسیوں میں مالی اعانت اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ضمانتی ذرائع کے ذریعے رکن ممالک کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی مالی اعانت کا مرکزی محرک بننا چاہیے۔

پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک اور واضح تجویز یہ ہے کہ برکس کی مشترکہ انشورنس کمپنی قائم کی جائے، جس کا ابتدائی سرمایہ 10 ارب ڈالر ہو۔ یہ کمپنی بڑے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے خطرات کا احاطہ کرے گی اور نجی شعبے کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم مصنوعی ذہانت کی عالمی معیشت میں بنیادی تبدیلی کے دور میں بھی داخل ہوچکے ہیں۔ برکس کو صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے علم کی پیداوار اور ڈیجیٹل معیشت کے معیارات کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اہم بنیادی ڈھانچوں کی سائبر سکیورٹی کو بھی مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ برکس بزنس کونسل مکالمے کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے، جسے اقتصادی تعاون کے عملی محرک میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ماہرین کے ورکنگ گروپس کو واضح اشاریوں، جیسے برکس کے اندر تجارت میں اضافے کی شرح، تجارت میں قومی کرنسیوں کے حصے اور نجی سرمایہ کاری کے حجم کی بنیاد پر قابلِ پیمائش اور مشخص منصوبے وضع کرنے چاہییں۔

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ممتاز جغرافیائی محلِ وقوع اور توانائی کے وسائل کے ساتھ اقتصادی رابطے کی ایک اہم کڑی بننے کے لیے تیار ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ برکس اس وقت عالمی معیشت میں حقیقی قوت بنے گا جب ہمارا تعاون معاہدوں، کارخانوں، بندرگاہوں اور رکن ممالک کے عوام کی اقتصادی زندگی میں نظر آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر وسیع پیمانے پر، زیادہ لچکدار اور زیادہ منصفانہ معیشت کی تشکیل کے لیے کوشش کرنے کو تیار ہے۔

News ID 1941296

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha