12 اگست، 2026، 8:27 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

صداقت و ہمدلی سیرت نبویؐ کا اہم ترین حصہ ہے جس کی آج ہمیں شدید ضرورت ہے

صداقت و ہمدلی سیرت نبویؐ کا اہم ترین حصہ ہے جس کی آج ہمیں شدید ضرورت ہے

موجودہ دور میں انسان اضطراب، معنوی خلا اور سماجی بیگانگی کا شکار ہے، ایسے میں سیرت رسول اکرمؐ سے صداقت، ہمدلی، سادگی، قناعت اور عملی اخلاق کا درس حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰؐ کی سیرت طیبہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی کا مکمل سرچشمہ ہے۔ آپؐ کی حیات مبارکہ میں اخلاق، عدل، رحم، صداقت، امانت اور انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کے ایسے اصول موجود ہیں جو ہر دور کے انسان کی فکری، سماجی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

موجودہ دور میں جہاں تیز رفتار تبدیلیوں، مادہ پرستی، کمزور ہوتے انسانی روابط، سماجی بے اعتمادی اور اخلاقی بحرانوں نے انسان کو اندرونی سکون اور حقیقی تعلقات سے دور کر دیا ہے، وہاں سیرت نبویؐ کی طرف رجوع کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ رسول اکرمؐ کی تعلیمات انسان کو صرف عبادات کی طرف نہیں بلکہ ایک بااخلاق، ذمہ دار اور ہمدرد معاشرے کی تشکیل کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہیں۔

رحلت رسول اکرمؐ کی مناسبت سے سیرت نبویؐ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا اس لیے بھی اہم ہے کہ آج کا انسان آپؐ کے اخلاقی اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے خاندانی، سماجی اور عملی تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے اور صداقت، ہمدلی، قناعت اور عملی اخلاق جیسی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بناسکتا ہے۔ اسی مناسبت سے مہر نیوز کی جانب سے حجۃ الاسلام حسنلو کے ساتھ گفتگو میں رسول اکرمؐ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور معاصر انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں آپؐ کی تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔

مہر نیوز: موجودہ پرآشوب دنیا میں انسان کو سیرت رسول اکرمؐ کے کس پہلو کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور اسے روزمرہ زندگی میں کیسے نافذ کیا جاسکتا ہے؟

حجۃ الاسلام حسنلو: آج کا انسان بے شمار خبروں، معلومات اور تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ الجھن، اضطراب اور معنوی خلا کا شکار ہے۔ جدید دنیا نے حیرت انگیز تکنیکی ترقی کے باوجود انسان کے لیے اندرونی سکون اور زندگی کا واضح مقصد فراہم نہیں کیا۔ ایسے ماحول میں سیرت رسول اکرمؐ محض ایک خشک تاریخی متن کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کے ایک مکمل نظام کے طور پر معاصر انسان کی گہری ضروریات کا جواب دے سکتی ہے۔

سیرت رسول اکرمؐ کا پہلا اور شاید سب سے اہم پہلو جس کی آج ہمیں شدید ضرورت ہے، صداقت اور ہمدلی ہے۔ رسول اکرمؐ نبوت سے پہلے ہی ’’امین‘‘ اور ’’صادق‘‘ کے لقب سے معروف تھے؛ آپؐ دوسروں کی بات سنتے، ان کے دکھ درد کو احساس کرتے اور بیماروں کی عیادت، محروموں کی مدد اور چھوٹے بڑے سب کے احترام کو کبھی فراموش نہیں کرتے تھے۔

ایسی دنیا میں جہاں مجازی رابطوں نے انسانی تعامل کی جگہ لے لی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے اجنبی ہوتے جا رہے ہیں، حقیقی طور پر دوسروں کی بات سننے اور ہمدردی کرنے کی ثقافت کی طرف واپسی بہت سے جذباتی اور سماجی بحرانوں کا بنیادی علاج ہے۔

سیرت نبویؐ کا ایک اور پہلو جو آج بے لگام صارفیت میں گرفتار انسان کے لیے نہایت اہم ہے، قناعت، سادگی اور میانہ روی ہے۔ رسول اکرمؐ اگرچہ معاشرے کی قیادت اور انتظام کی ذمہ داری رکھتے تھے، لیکن انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے، زمین پر بیٹھتے، غریبوں کے ساتھ کھانا کھاتے اور تکلف و اسراف کو ناپسند کرتے تھے۔ معاصر انسان جو ’’زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے‘‘ کے نہ ختم ہونے والے چکر میں گرفتار ہو کر اپنا سکون کھو چکا ہے، وہ سیرت نبویؐ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ’’رکھنے‘‘ اور ’’ہونے‘‘ کے درمیان توازن قائم کرسکتا ہے۔

ایک اور اہم ضرورت صرف دعوے تک محدود اخلاق کے بجائے عملی اخلاق ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاق یعنی میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ صرف احکام اور عبادات نہیں، بلکہ انسان کی اخلاقی تربیت بھی بعثت کا ایک مقصد تھا۔ آج جس معاشرے کو بدعنوانی، بے اعتمادی اور ذمہ داری سے فرار جیسے مسائل کا سامنا ہے، وہاں کاروبار، اداروں، عدلیہ اور انفرادی تعلقات میں اخلاق نبویؐ کو عملی جامہ پہناکر سماجی اعتماد کی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

مہر نیوز: سیرت رسول اکرمؐ کو روزمرہ زندگی میں کیسے اپنایا جاسکتا ہے؟

حجۃ الاسلام حسنلو: پہلا قدم گھر اور خاندان سے آغاز کرنا ہے۔ رسول اکرمؐ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان افراد میں سے تھے؛ آپؐ اپنی ازواج کو مسکرا کر دیکھتے، گھر کے کاموں میں مدد کرتے اور اپنی اولاد سے محبت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے خاندانی تعلقات میں رسول اکرمؐ کے محبت بھرے اور مہربان رویے کو جاری کرے تو زندگی کی حقیقی گرمجوشی پورے معاشرے تک پہنچ جائے گی۔

دوسرا قدم ان اخلاق کو کام کی جگہ اور معاشرے تک وسعت دینا ہے۔ لین دین میں سچائی، ذمہ داری میں امانت داری، دوسروں کے حقوق میں انصاف کا خیال رکھنا، ساتھیوں اور مراجعین کا احترام کرنا اور غیبت و تہمت سے پرہیز، یہ سب آج کی زندگی میں سیرت نبویؐ کے عملی نمونے ہیں۔ مجموعی طور پر معاصر انسان کو سب سے بڑھ کر سکون، صداقت، ہمدلی اور عملی اخلاق کی ضرورت ہے اور یہ تمام چیزیں سیرت نبویؐ میں مکمل طور پر موجود ہیں۔

مہر نیوز: خاندان کے ساتھ مہربانی، دوسروں کے احترام اور پرامن بقائے باہمی کے حوالے سے سیرت رسول اکرمؐ آج کے معاشرے کے تعلقات کے بحرانوں کے لیے کیا جواب پیش کرتی ہے؟

حجۃ الاسلام حسنلو: آج کا معاشرہ ہزاروں ذرائع ارتباط رکھنے کے باوجود ایک تلخ تضاد کا شکار ہے: ہم جتنا ایک دوسرے سے زیادہ جڑے ہیں، اتنا ہی ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، والدین اور اولاد کے درمیان جذباتی دوری، لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے تنہائی کا احساس، اور عوامی ماحول میں تشدد اور بے احترامی میں اضافہ، یہ سب انسانی تعلقات کے ایک سنگین بحران کی نشانیاں ہیں۔ ایسے بحرانی ماحول میں سیرت رسول اکرمؐ ایک بے مثال اور قابل عمل نمونہ پیش کرتی ہے۔

خاندانی زندگی کے میدان میں رسول اکرمؐ محبت اور مودت کے کامل ترین نمونہ تھے۔ آپؐ اپنی ازواج کا انتہائی احترام کرتے، گھر کے کاموں میں مدد کرتے، بچوں کے ساتھ کھیلتے اور خاندان کے ساتھ حسن سلوک پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین ہو۔

ایسی دنیا میں جہاں مصروفیات، مجازی دنیا اور اختلافات کے باعث خاندان سرد مہری اور اجنبیت کا شکار ہوگئے ہیں، سیرت نبویؐ یہ درس دیتی ہے کہ گھر محبت، احترام اور حقیقی قبولیت کا پہلا اور سب سے اہم مرکز ہونا چاہیے۔

دوسروں کے احترام کے حوالے سے رسول اکرمؐ کبھی دولت، نسل، قبیلے یا سماجی مقام کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتے تھے۔ آپؐ بچوں کو سلام کرتے، خادموں کا احترام کرتے، غریب اور مالدار کے ساتھ یکساں مہربانی سے پیش آتے اور کسی بھی حالت میں کسی شخص کی توہین یا تحقیر نہیں کرتے تھے۔ ایسے معاشرے میں جو آج طبقاتی تفاخر، فخر و غرور اور حقیقی و مجازی ماحول میں بے احترامی کا شکار ہے، یہ طرزِ عمل ایک شفا بخش دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔

پرامن بقائے باہمی کے میدان میں بھی سیرت رسول اکرمؐ قیمتی اسباق سے بھرپور ہے۔ آپؐ دیگر ادیان کے پیروکاروں، غیر مسلم پڑوسیوں اور حتی کہ مخالفین کے ساتھ بھی عدل، بردباری اور صلح پسندی پر مبنی رویہ اختیار کرتے تھے۔ آپؐ نے مختلف اقوام اور ادیان کے درمیان بقائے باہمی کے لیے میثاق مدینہ قائم کیا، توہین کے مقابلے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو بھی مکارم اخلاق کے ذریعے تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ یہ طرز عمل تعصبات، تفرقے اور شناخت کی بنیاد پر ہونے والی ان جنگوں کے بحران کا براہ راست جواب ہے، جو آج انسانی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔

مہر نیوز: آج کے بحرانوں کے حل کے لیے سیرت رسول اکرمؐ کو کیسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے؟

حجۃ الاسلام حسنلو: خاندان میں اتنا کافی ہے کہ بحث و تکرار کی جگہ گفتگو لے لے، اپنی بات مسلط کرنے کی جگہ باہمی احترام ہو اور ناراضی و بے اعتنائی کی جگہ سچی محبت لے لے۔ عوامی اور مجازی ماحول میں بھی ہمیں احترام اور رواداری کی ثقافت کو زندہ کرنا چاہیے۔ دوسروں کی کردار کشی سے گریز، مخالف آرا کو سننا، توہین کے بجائے منصفانہ تنقید اور ان لوگوں کے ساتھ بھی اخلاق کا مظاہرہ کرنا جو ہم خیال نہیں ہیں، یہ سب سیرت نبویؐ کے عملی نمونے ہیں۔

مہر نیوز: اگر رسول اکرمؐ آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو آپ کے خیال میں اسلامی اور انسانی معاشرے کے لیے آنحضرت کی پہلی نصیحت کیا ہوتی؟

حجۃ الاسلام حسنلو: رسول اکرمؐ کی آج ہمارے درمیان موجودگی کا تصور کرنا ایک فکری مشق ہے، جو بیک وقت نہایت مفید بھی ہے؛ ایسی مشق جو ہمیں سیرت رسول اکرمؐ کو تاریخی پرتوں سے نکال کر آج کے دور کی زبان میں منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر آپؐ آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو بلاشبہ حاشیے کے مسائل میں الجھنے کے بجائے بنیادی اصولوں کی طرف توجہ دلاتے اور آپؐ کی اولین نصیحتیں آج کے معاشرے میں مفقود بنیادی اقدار کے گرد گھومتی ہوتیں۔

آج کے اسلامی معاشرے کے لیے رسول اکرمؐ کی پہلی اور سب سے اہم نصیحت غالباً اتحاد اور تفرقے سے اجتناب ہوتی۔ آپؐ کو قرآن نے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے عنوان سے متعارف کرایا ہے۔ آپ کبھی امت مسلمہ کو باہم متصادم گروہوں اور دھڑوں میں تقسیم نہیں کرتے۔ آج مسلمانوں کے درمیان اختلافات، داخلی جنگوں اور مذہبی تنازعات کو دیکھتے ہوئے بلاشبہ آپؐ کی پہلی صدا اور نصیحت یہ ہوتی کہ ایک امت بن کر رہو، تفرقہ چھوڑ دو اور مشترکہ دشمنوں کے مقابلے میں متحد اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدرد رہو۔

دوسری نصیحت عدل کی پابندی اور ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد ہوتی۔ رسول اکرمؐ نے جاہلی معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف قیام کیا اور عدل کو اپنے بنیادی اصولوں میں شمار کیا۔ اگر آپؐ آج ہمارے درمیان موجود ہوتے اور طبقاتی فاصلے، معاشی بدعنوانی، غیر مساوی تنخواہوں اور کمزوروں کے حقوق پامال ہوتے دیکھتے تو بلند آواز سے اس کے خلاف کھڑے ہوتے اور یاد دلاتے کہ دین کبھی ظلم اور ناانصافی کے ساتھ سازگار نہیں ہوسکتا اور مظلوم کا دفاع بہترین عبادات میں سے ہے۔

تیسری نصیحت تمام امور میں اخلاق اور سچائی کی طرف واپسی ہوتی۔ رسول اکرمؐ، جو خود ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کہلاتے تھے، آج عوامی اور ذرائع ابلاغ کے ماحول میں جھوٹ، فریب، بے بنیاد وعدوں اور ریاکاری کو دیکھتے تو بلاشبہ آپؐ کی پہلی نصیحت صداقت اور امانت داری ہوتی۔ آپؐ ہمیں سکھاتے کہ جس معاشرے میں صداقت کمزور پڑجائے، کوئی دوسرا سرمایہ اس کے اعتماد اور اتحاد کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔

چوتھی نصیحت انسانی تعلقات میں مہربانی اور رحمت کو فروغ دینا ہوتی۔ رسول اکرمؐ، جو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ ہیں، آج انسانوں کے درمیان تشدد، سنگ دلی، نفرت انگیزی اور بے احترامی کو دیکھتے تو یاد دلاتے کہ رحمت، شفقت اور محبت دین اور انسانیت کی روح ہیں۔ آپؐ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان دنیا کے سامنے دین کا ایک سخت، شدت پسند اور دشمنانہ چہرہ پیش کریں، بلکہ آپؐ چاہتے تھے کہ محبت اور رحمت دین کی ترجمان زبان بنے۔

مہر نیوز: نوجوان نسل کیا کرے تاکہ سیرت رسول اکرمؐ کو زیادہ سے زیادہ جان سکے اور اسے اپنی زندگی میں جاری کرسکے؟

حجۃ الاسلام حسنلو: نوجوان نسل کے لیے میری نصیحت امید، آگاہی اور معرفت کی ہے۔ آج کی نوجوان نسل تمام مشکلات اور سماجی دباؤ کے باوجود اس معاشرے کا اصل سرمایہ اور مستقبل ہے اور رسول اکرمؐ بھی ہمیشہ نوجوانوں پر خصوصی توجہ اور محبت فرماتے تھے۔ میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ رسول اکرمؐ کو اصل اور مستند ذرائع سے، تحریف سے پاک ہو کر پہچانیں؛ صرف سطحی تراجم اور نامکمل روایات سے نہیں بلکہ قرآن، معتبر سیرت اور مستند تاریخی و روایتی منابع سے آپؐ کی معرفت حاصل کریں۔

دوسری نصیحت یہ ہے کہ رسول اکرمؐ کو آج کی زندگی کے لیے ایک مکمل اور عملی نمونہ سمجھیں، نہ کہ ایک قدیم زمانے کی ناقابل رسائی تاریخی شخصیت۔ آپؐ پاکیزہ اور امانت دار نوجوان تھے، کام اور تجارت میں سچائی اختیار کرتے تھے، خاندان اور دوستوں سے محبت کرتے تھے، مشکلات کے مقابلے میں صبر کرتے تھے اور ظلم کے سامنے کبھی خاموش نہیں رہتے تھے۔ یہ وہی خصوصیات ہیں جن کی ایک آج کے نوجوان کو اپنی ذاتی، تعلیمی اور سماجی زندگی میں کامیابی کے لیے ضرورت ہے۔

تیسری نصیحت معرفت، محبت اور عمل، ان تین عناصر کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ صرف معرفت کافی نہیں؛ رسول اکرمؐ کی سیرت کو جاننا آپؐ سے محبت اور عقیدت میں تبدیل ہونا چاہیے اور یہ محبت بھی زندگی میں صالح عمل اور درست رویے کا باعث بننی چاہیے۔ اگر یہ تینوں عناصر ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو رسول اکرمؐ صرف ایک قابل احترام شخصیت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں ایک حقیقی رہنما بن جائیں گے۔

چوتھی نصیحت یہ ہے کہ عمل کا آغاز روزمرہ کے چھوٹے سے چھوٹے رویوں سے کیا جائے۔ سیرت نبویؐ کی پیروی کے لیے بڑے اور نعروں پر مبنی کام انجام دینا ضروری نہیں؛ اتنا کافی ہے کہ اپنے تعلقات کو سچائی کے ذریعے بہتر کریں، والدین کا احترام کریں، تعلیم اور کام میں امانت دار رہیں، اپنے ہم عمر افراد اور ہم جماعتوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیں اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں انصاف اور اخلاق کا خیال رکھیں۔

پانچویں نصیحت رسول اکرمؐ اور اسلام کے بارے میں پیش کیے جانے والے غلط اور انتہا پسندانہ تصورات کا مقابلہ کرنا ہے۔ آج اسلام کے دشمن کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا کے سامنے رسول اکرمؐ اور مسلمانوں کی ایک سخت، انتہا پسند اور دین مخالف تصویر پیش کی جائے۔ باشعور نوجوانوں کو سیرت نبویؐ کی گہری اور درست معرفت کے ذریعے ان غلط تصورات کو مسترد کرنا چاہیے اور ثابت کرنا چاہیے کہ رسول اکرمؐ رحمت، محبت، عدل اور اخلاق کے پیغمبر تھے اور آپؐ کی اخلاقی کشش ہی دنیا میں اسلام کے پھیلاؤ کا ایک سبب تھی۔

چھٹی نصیحت یہ ہے کہ سیرت رسول اکرمؐ سے عصر حاضر کی سہولیات کو دانش مندانہ طور پر استعمال کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا جائے۔ آج مجازی دنیا، ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی طاقتور وسائل ہیں۔ جس طرح رسول اکرمؐ دعوت اور آگاہی کے لیے ہر موقع سے استفادہ کرتے تھے، اسی طرح نوجوان نسل بھی ان ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رسول اکرمؐ کی سیرت اور آپؐ کی رحمت و فضائل کو آج کی زبان میں، پرکشش اور مؤثر انداز میں معاشرے اور دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔

آخر میں ایک بنیادی نکتے کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ یہ راستہ تمام ادوار کے لیے روشن راہ کیوں ہے۔ خداوند متعال نے قرآن کریم میں حضرت محمدؐ کو بہترین اور کامل نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی یقیناً تمہارے لیے رسول اللہؐ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رسول اکرمؐ کسی مخصوص دور کے عارضی نمونہ نہیں بلکہ ’’اسوۂ حسنہ‘‘ اور ہر زمانے میں پوری انسانیت کے لیے ابدی سرمشق ہیں۔ آپؐ کی پیروی کسی خاص زمانے اور مقام تک محدود نہیں اور نجات و ابدی سعادت کی راہ اسی سیرت نبویؐ کی پیروی سے وابستہ ہے۔ امید ہے کہ رسول رحمتؐ کی سیرت آپ کے دل اور زندگی میں جاری ہو اور آپ کو کمال و ترقی کی راہ پر رہنمائی فراہم کرے۔

News ID 1940653

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha