مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عاشورۂ حسینی کے موقع پر حسینیہ ہدایت میں خطاب کرتے ہوئے شیخ حسین انصاریان نے پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ کی روایات کی روشنی میں حق و باطل کی دائمی کشمکش اور امام حسینؑ کی نجات بخش شخصیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ کے فرمان کے مطابق انسان کی زندگی میں یا خدا کی حاکمیت ہوتی ہے یا شیطان کی۔ شیطان صرف ابلیس کا نام نہیں بلکہ ہر وہ گمراہ کرنے والی، بے رحم اور فریب کار قوت ہے جو انسان کی دینی، اخلاقی اور انسانی اقدار کو تباہ کرنے کے درپے رہتی ہے۔ قرآن کریم کے مطابق شیطان مختلف شکلوں، چہروں اور ذرائع کے ساتھ ہر دور میں موجود رہتا ہے اور اس کا اصل ہدف انسان کو راہِ حق سے دور کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی زندگی میں یا نور کا غلبہ ہوتا ہے یا ظلمت کا۔ نور سے مراد اللہ تعالیٰ، انبیائے کرامؑ، عقل، آسمانی کتاب اور معصوم امام ہیں، جبکہ ان سے دوری ظلمت اور گمراہی کا راستہ ہے۔ اگر توحید، نبوت، قرآن اور امامت کا نور انسان کی زندگی میں طلوع نہ ہو تو شیطانی تاریکیاں اس پر مسلط ہو جاتی ہیں۔
شیخ انصاریان نے سورۂ قصص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مؤمنین نے قارون کو نصیحت کی تھی کہ اپنی دنیا کو آخرت سنوارنے کا ذریعہ بناؤ، لیکن اس نے یہ نصیحت قبول نہیں کی۔ مؤمن دنیا کو مستقل قیام گاہ نہیں بلکہ ایک مسافر خانے کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور اسے آخرت کی کامیابی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے رسول اکرمؐ کا یہ فرمان بھی نقل کیا کہ جو شخص جنت اور جہنم کا انکار کرے وہ کافر ہے۔
انہوں نے واقعۂ کربلا کے ایک ایمان افروز منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عاشورا سے ایک رات پہلے ایک شخص نے حضرت مسلم بن عوسجہؑ کو غیر معمولی خوشی کی حالت میں دیکھا اور اس کی وجہ پوچھی۔ مسلم بن عوسجہؑ نے جواب دیا میں خوش کیوں نہ ہوں، ہمارے اور جنت کے درمیان صرف ایک رات کا فاصلہ باقی ہے، اور حسینؑ ہمیں کل فردوس تک پہنچا دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ جب حضرت مسلم بن عوسجہؑ میدانِ کربلا میں زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے تو امام حسینؑ خود ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، ان کا سر اپنے دامن میں رکھا اور انہیں تسلی دی۔ شیخ انصاریان کے مطابق امام حسینؑ کا یہ دامن صرف مسلم بن عوسجہؑ کے لیے نہیں بلکہ تمام اہلِ حق اور اہلِ نور کے لیے پناہ گاہ ہے۔
انہوں نے حضرت مسلم بن عوسجہؑ کی آخری وصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب حبیب بن مظاہرؑ نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی وصیت کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے خون آلود ہاتھ اٹھا کر امام حسینؑ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: "أوصیک بهذا الرجل" (میں تمہیں اس مردِ خدا کی سفارش کرتا ہوں)۔
شیخ انصاریان نے کہا کہ یہ وصیت صرف حبیب بن مظاہرؑ کے لیے نہیں تھی بلکہ پوری امت کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا: "أوصیکم بالحسین"؛ میں بھی تمہیں امام حسینؑ کی سفارش کرتا ہوں۔ خداوند عالم نے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کی کنجی امام حسینؑ کو عطا کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ "کل خیر فی الحسین"۔ آج کے پُر فتن دور میں انسان ہر چیز سے الگ ہو سکتا ہے، لیکن امام حسینؑ سے جدائی سب سے بڑا خسارہ اور تباہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام حسینؑ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ انبیائے الٰہی بھی آپؑ کے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں رجوع کرتے ہیں۔ انہوں نے رسول اکرمؐ کی رحلت کے وقت کا واقعہ نقل کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرتؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا تھا کہ حسینؑ کو میرے سینے پر بٹھا دو، جو اس بات کی دلیل ہے کہ خود رسول خداؐ بھی اپنی آخری گھڑیوں میں امام حسینؑ سے توسل فرماتے تھے۔
خطاب کے اختتام پر شیخ انصاریان نے حضرت مسلم بن عوسجہؑ اور امام حسینؑ کے وداع کے دردناک لمحے بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلمؑ گریہ کر رہے تھے تو امام حسینؑ نے فرمایا: "گریہ نہ کرو"، مگر مسلمؑ نے جواب دیا: "میں اپنی مصیبت پر نہیں رو رہا، مجھے اس بات کا غم ہے کہ اس وقت آپ میرا سر اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہیں، لیکن کچھ ہی دیر بعد آپ کا سر کس کی آغوش میں ہوگا؟"
آپ کا تبصرہ