21 جولائی، 2026، 6:38 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

مفاہمت سے ٹکراؤ تک؛ تہران اور واشنگٹن کے سامنے تین ممکنہ منظرنامے

مفاہمت سے ٹکراؤ تک؛ تہران اور واشنگٹن کے سامنے تین ممکنہ منظرنامے

آنے والے ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن کا نفع و نقصان کا تخمینہ ہی یہ طے کرے گا کہ خطہ کشیدگی میں کمی کی جانب بڑھے گا یا محاذ آرائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: 18 جون کو ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے؛ ایک ایسا معاہدہ جو عملی طور پر تاریخ کے مختصر ترین سفارتی معاہدوں میں سے ایک ثابت ہوا۔ علاقائی ممالک کی ثالثی سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی مفاہمت کے اعلان کو ابھی چند ہی ہفتے گزرے ہیں کہ زمینی حقائق اور دونوں فریقین کے متقابل فیصلوں نے اس راستے کے مستقبل کو شدید ابہام کا شکار کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ، جسے کشیدگی میں کمی کے آغاز اور وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بننا تھا، اب ایک ایسے کڑے امتحان کی زد میں ہے جس کا نتیجہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات، بلکہ پورے خطے کی سیکیورٹی کی مساوات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اسلام آباد معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ بے اعتمادی کا گہرا بحران ہے۔ ایران کی نظر میں یہ بے اعتمادی محض حالیہ اختلافات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں امریکہ کے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے ماضی کے طریقہ کار میں پیوست ہیں۔ تہران کا ماننا ہے کہ موجودہ مفاہمت اس وقت تک عملدرآمد کی راہ پر گامزن تھی جب تک امریکی فریق اپنے وعدوں پر قائم رہا، لیکن وعدوں سے روگردانی کے واشنگٹن کے اقدام نے اس تشویش کو تقویت دی کہ کوئی بھی نیا معاہدہ، عملی اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کے بغیر ماضی کے تجربات دہرائے جانے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔ اس سلسلے میں امریکہ کا سابقہ وعدوں سے نکل جانا، لبنان میں مکمل جنگ بندی کی خلاف ورزی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سیکیورٹی سے متعلق انتظامات پر حالیہ اختلافات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ تہران کے نزدیک، سفارتی عمل کو جاری رکھنے کا اصل مسئلہ صرف مذاکرات کی میز پر واپس آنا نہیں، بلکہ اس بات کا اطمینان حاصل کرنا ہے کہ فریقِ مخالف وعدے قبول کرنے کے بعد انہیں یکطرفہ طور پر نہیں توڑے گا۔

آج جو کچھ دیکھا جا رہا ہے، وہ محض ایک مفاہمتی یادداشت کی چند شقوں پر اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ وعدے کے مفہوم، معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار، اور امریکہ کی پابندی کی حد کے حوالے سے ایک گہرا اختلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سفارت کاری اسی وقت پروان چڑھ سکتی ہے جب سیاسی ارادے کے ساتھ ساتھ فریقین کے درمیان کم از کم بنیادی اعتماد بھی موجود ہو۔ لیکن حالیہ واقعات کا تسلسل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بے اعتمادی کی خلیج اب بھی کسی بھی معاہدے کے استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بے اعتمادی کا شکار سفارت کاری

حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اصل اختلاف صرف معاہدے کے متن پر نہیں، بلکہ وعدوں پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور فریق مخالف کے اقدامات کی ترتیب کے بارے میں ہے۔ تہران اس بات پر زور دیتا ہے کہ وعدوں کی کسی بھی قسم کی پاسداری وعدے پر عمل کے بدلے وعدے پر عمل کے اصل اصول پر مبنی ہونی چاہیے، اور امریکہ کی طرف سے کوئی بھی یکطرفہ اقدام، اس معاہدے کے اعتبار کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، واشنگٹن اب بھی ایک ہی وقت میں دو مختلف راستوں پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے؛ ایک طرف سفارتی رابطوں کے راستے کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف آنے والے ممکنہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے سیاسی، معاشی اور فوجی دباؤ میں اضافہ کرنا۔

اسی دوہرے رویے نے بنیادی معاہدے کو، اس سے پہلے کہ اسے عمل میں لانے کا موقع ملتا، ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں اور ردِعمل کے ایک ایسے چکر میں دھکیل دیا ہے جس نے اعتماد کی بحالی کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار بنا دیا ہے۔

سفارت کاری پر بارود کا سایہ

موجودہ بحران کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ملٹری مساواتیں اب بھی سیاسی فضا پر سایہ فگن ہیں۔ خطے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی، امن و امان کی کشیدگی کا تسلسل، جوابی حملے اور تصادم کے دائرے میں وسعت کا خدشہ، اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کوئی بھی فریق ابھی تک بحران کے پائیدار حل کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی محض سفارت کاری پر بھروسا کر کے اپنی امن و امان کی ترجیحات کو طے کرنے پر تیار ہے۔

اس صورت حال نے ایک بڑا تضاد پیدا کر دیا ہے؛ دونوں فریق مذاکرات کی بات تو کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے ممکنہ منظرنامے کے لیے بھی خود کو تیار کر رہے ہیں۔ ایسی فضا میں، ذرا سی بھی غلط فہمی یا غلط حساب کتاب ایک ایسے بحران کا روپ دھار سکتا ہے جسے سنبھالنا ثالثوں کے بس میں بھی نہ رہے۔

علاقائی ثالث: حل کے نہیں، صرف بچاؤ کے منتظر

قطر اور پاکستان اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں انہیں دونوں فریقوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پر کرنا ہے؛ ایک ایسا مشن جو ابتدائی معاہدے کی تشکیل سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ محدود جنگ بندی، بحری جہاز رانی کے راستوں کی بحالی اور کشیدگی بڑھنے سے پہلے کی صورتحال پر واپسی جیسے منصوبے، ایک حتمی حل بننے کے بجائے، بحران کو مکمل طور پر ہاتھ سے نکل جانے سے روکنے کی کوششیں زیادہ نظر آتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی، عرب ممالک خصوصاً مصر، سعودی عرب اور خطے کے دیگر اہم کھلاڑیوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے شدید مشاورتی رابطے بھی کسی سیاسی نظریاتی تبدیلی کے بجائے، جنگ کا دائرہ پھیلنے کے نتائج سے متعلق ان کے مشترکہ خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس بحران کا تسلسل انرجی کی سیکیورٹی، سمندری تجارت اور خطے کی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

موجودہ بحران اور تین ممکنہ منظرنامے

موجودہ حالات کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ اس بحران کے مستقبل کا تجزیہ تین اہم منظرناموں کے تحت کیا جا سکتا ہے۔

پہلا منظرنامہ: سفارت کاری کی تدریجی بحالی

اس صورت میں، ثالث ایک عارضی جنگ بندی قائم کرنے اور براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس سناریو کی تکمل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچیں کہ کشیدگی کو برقرار رکھنے کا نقصان اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔ بالخصوص امریکہ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ فوجی و معاشی دباؤ کا آپشن نہ صرف بے سود ہے، بلکہ اس سے وائٹ ہاؤس کے بند گلی میں پھنسنے کا خطرہ اور بڑھ رہا ہے۔ اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے بھی کھلے الفاظ میں امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جنگ کے بڑھتے ہوئے انسانی اور سیاسی نقصان کا ذکر کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی تجزیہ کار اس صورتحال کو دونوں فریقوں کے لیے ایک خطرناک گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔

دوسرا منظرنامہ: کشیدگی کا مسلسل پھیلاؤ

اس صورتحال میں، فوجی کارروائیوں میں اضافہ، نئے فریق کی شمولیت اور علاقائی رقابتوں کی شدت بحران کو ایک زیادہ خطرناک اور پرہزینہ مرحلے میں داخل کر سکتی ہے؛ ایک ایسا مرحلہ جس کا کنٹرول کسی بھی فریق کے لیے آسان نہیں رہے گا۔

تیسرا منظرنامہ: نہ جنگ، نہ امن

مختصر مدت میں سب سے زیادہ ممکنہ آپشن اسی صورتحال کا جاری رہنا ہے، جو نہ تو مکمل جنگ ہے اور نہ ہی پائیدار امن۔ اس سناریو میں مذاکرات مکمل طور پر بند نہیں ہوں گے، لیکن کوئی قابل ذکر پیش رفت بھی حاصل نہیں ہوگی اور خطہ مسلسل ہائی الرٹ کی حالت میں رہے گا۔ اگرچہ یہ صورتحال جنگ کے مقابلے میں کم خرچ ہے، لیکن طویل مدت میں یہ تمام فریقین کے لیے شدید ترین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کا باعث بنے گی۔

واقعیت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ان ٹویٹس کے باوجود جن سے اکثر امریکیوں کی معاہدے کی حمایت کا تاثر ملتا ہے، ایک دوہرے جال میں پھنس چکے ہیں۔ ایک طرف علاقائی اتحادیوں اور امریکی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی مجبوری ہے، تو دوسری طرف ایک غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے لیے عوام کا دباؤ ہے—جو کہ آنے والے مڈ ٹرم انتخابات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایران نے بھی اس تضاد کو سمجھتے ہوئے سفارت کاری کے ساتھ دفاع کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ جیسا کہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بقول نہ سفارت کاری دفاع کی نفی کرتی ہے اور نہ ہی دفاع سفارت کاری سے متصادم ہے۔

نفع و نقصان کا تخمینہ: فیصل کن عنصر

بالآخر جس چیز سے آئندہ کے راستے کا تعین ہوگا، وہ محض معاہدوں کے متن یا ثالثوں کی تجاویز نہیں، بلکہ تہران اور واشنگٹن کی طرف سے نفع اور نقصان کا حتمی تخمینہ ہوگا۔ امریکہ کو اندرونی سیاسی خدشات، علاقائی اتحادیوں کے دباؤ اور اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی ضرورت کا سامنا ہے؛ جبکہ دوسری طرف، ایران بھی اپنی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کے راستے کو مکمل طور پر بند نہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہی حساب کتاب کی وجہ سے دونوں میں سے کوئی بھی فریق نہ تو سفارت کاری کو مکمل طور پر خیرباد کہنے کو تیار ہے، اور نہ ہی باہمی مراعات حاصل کیے بغیر پہلا قدم اٹھانے پر راضی ہے۔

خاموشی کے ماحول میں سفارت کاری

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ نئے مذاکرات کے بارے میں سامنے آنے والی تازہ ترین قیاس آرائیوں میں، سعودی نیوز نیٹ ورک الحدث نے بھی ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ 10 دن سے لے کر دو ہفتوں تک کے لیے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز اس وقت زیر غور اور بحث میں ہے۔

موجودہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ نہ تو سفارت کاری کی حتمی ناکامی کی بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کی کامیابی کی۔ مذاکرات کی کھڑکی اب بھی ایک درمیانی اور خاموش پوزیشن پر برقرار ہے؛ ایک ایسی صورتحال جہاں کوئی بھی زمینی پیش رفت یا سیاسی فیصلہ اسے معاہدے یا تصادم کی طرف موڑ سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں، تمام چیزوں سے بڑھ کر، دونوں فریقوں کی طرف سے نفع اور نقصان کا تخمینہ ہی یہ طے کرے گا کہ خطہ کشیدگی میں کمی کی طرف بڑھے گا یا محاذ آرائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔

امریکہ سخت اور مہنگے فیصلوں کے موڑ پر

اس وقت خطہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نہ تو بحران کے خاتمے کی بات کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی ہمہ گیر جنگ کے آغاز کی حتمی خبر دی جاسکتی ہے۔ جس چیز کی اہمیت اس وقت سب سے زیادہ ہے، وہ وہ فیصلے ہیں جو آنے والے ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن میں کیے جائیں گے؛ ایسے فیصلے جو مشرق وسطی کا رخ کشیدگی میں کمی یا محاذ آرائی کے ایک زیادہ پیچیدہ مرحلے کی طرف موڑ سکتے ہیں۔

اگرچہ اس پوری جنگ کے دوران جو چیز مسلسل اور مستحکم رہی ہے، وہ آبنائے ہرمز کے انتظامی امور اور تمام محاذوں پر جنگ بندی جیسے سرخ لکیروں کے حوالے سے ایرانی حکام کا موقف ہے۔ اب واشنگٹن سخت اور مہنگے فیصلوں کی دو راہے پر پھنس چکا ہے۔

News ID 1940391

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha