مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: اردن کے مشرقی صوبے الزرقاء میں واقع موفق السلطی ایئربیس، جو عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے، گزشتہ چند برسوں کے دوران مشرق وسطی میں امریکہ کے اہم ترین فضائی مراکز میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ اڈہ 1970 کی دہائی میں قائم ہوا جبکہ 1981 میں باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا، اور اس وقت اردن کی شاہی فضائیہ کے متعدد اسکواڈرن اسی اڈے سے کام کرتے ہیں۔
امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی شام میں کارروائیوں کے آغاز کے بعد موفق السلطی ایئربیس امریکی فضائیہ کے 407ویں ایئر ایکسپیڈیشنری گروپ کا اہم مرکز بن گیا۔ واشنگٹن نے گزشتہ برسوں میں اس اڈے پر کروڑوں ڈالر خرچ کرکے رن ویز، مضبوط شیلٹرز، کنٹرول ٹاور اور دیگر لاجسٹک سہولیات کو وسعت دی، تاکہ اسے مستقل فضائی آپریشنز کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
اسٹریٹجک اہمیت
اس اڈے کی اہمیت اس کے جغرافیائی محلِ وقوع سے جڑی ہے۔ اردن، شام اور عراق کے سنگم کے قریب واقع ہونے کے باعث یہ امریکہ کو شام، صحرائے بادیہ اور مغربی عراق کی فضائی نگرانی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح یہ اسرائیل کے دفاعی نظام کی اگلی صف میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے جنگی طیارے اور ڈرون خطے میں مختلف کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔
تعینات امریکی فوجی سازوسامان
رپورٹ کے مطابق اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے جدید F-15E Strike Eagle، F-16 Fighting Falcon اور بعض اوقات A-10 Thunderbolt II طیارے تعینات رہے ہیں۔ اس کے علاوہ MQ-9 Reaper ڈرون، KC-135 Stratotanker ایندھن بردار طیارے، C-130 Hercules ٹرانسپورٹ طیارے اور Patriot فضائی دفاعی نظام بھی یہاں موجود ہوتے ہیں۔
ایرانی حملے
رپورٹ کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور مزاحمتی گروہوں نے اس اڈے کو متعدد مرتبہ میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس اڈے سے امریکی اور اردنی جنگی طیارے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے پرواز کرتے تھے، اسی لیے اسے ایرانی اہداف کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
نقصانات
رپورٹ کے مطابق حالیہ حملوں میں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز نے اڈے کے مضبوط شیلٹرز، مرکزی رن وے اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں سے متعدد F-15E جنگی طیارے، ڈرونز اور رن وے کو نقصان پہنچا جبکہ بعض امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
اسٹریٹجک اثرات
ان حملوں سے امریکہ کے فضائی دفاعی نظام اور خطے میں اس کی کارروائیوں کو دھچکا پہنچا، اسرائیل کے دفاعی حصار کی پہلی لائن کمزور ہوئی اور میزبان ممالک کے لیے امریکی افواج کی میزبانی کے سیاسی و سکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی مہنگے جنگی سازوسامان کی تباہی سے امریکی فضائی صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔
نتیجہ
موفق السلطی ایئربیس کبھی خطے میں امریکہ کا ناقابلِ تسخیر فضائی مرکز سمجھا جاتا تھا، وہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد یہ پیغام دے چکا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے اب محفوظ نہیں رہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگر کسی پڑوسی ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کی گئی تو وہ فوجی تنصیبات بھی جوابی کارروائی کی زد میں آئیں گی۔
آپ کا تبصرہ