مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن کریم قیامت کو "فیصلے کے دن" کے طور پر بیان کرتا ہے، جب حق اور باطل الگ ہو جائیں گے اور ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق جواب دہ ہوگا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ آخرت کی تیاری کو اپنی زندگی کا اہم مقصد بنائیں۔
احمد خاتمی نے جنگی حالات میں پیغمبر اسلام (ص) کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامیابیوں کا سہرا افراد یا گروہوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کے فضل کو دینا چاہیے۔ انہوں نے جنگ بدر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی اللہ کی مدد اور استقامت کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کو مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور مخالف قوتیں اپنے متعدد اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی، دفاعی صلاحیتوں کو ختم کرنے، جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانے اور ملک میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا ایک انچ رقبہ بھی کم نہیں ہوا اور نہ ہوگا، جبکہ عوامی اتحاد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاعی صلاحیتیں برقرار ہیں اور ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
خطیب جمعہ نے فلسطین اور حزب اللہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت نے ایسے نتائج حاصل کیے جو دہائیوں کے مذاکرات سے حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق صرف جنگ یا صرف صلح کی پالیسی درست نہیں، بلکہ طاقت اور سفارت کاری کے امتزاج سے ہی قومی مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔
انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے صرف مذاکرات اور صلح پر زور دینے کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تاریخ اور مذہبی متون کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے جہاں ضرورت پڑی جنگ بھی کی اور مناسب مواقع پر معاہدے اور جنگ بندی بھی اختیار کی۔
احمد خاتمی نے اربعین میں لاکھوں افراد کی شرکت کو مذہبی شعائر سے وابستگی اور قومی یکجہتی کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ عوامی اجتماعات معاشرتی اتحاد کو مضبوط بناتے ہیں۔
انہوں نے مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت میں حالیہ تقرریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئی قیادت ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے عوامی اجتماعات اور قومی یکجہتی کو بھی ملک کی طاقت قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ