14 اگست، 2026، 3:38 PM

شرائط قبول کریں ورنہ عالمی طاقت کا توازن بدل دیں گے، مشیر رہبر معظم

شرائط قبول کریں ورنہ عالمی طاقت کا توازن بدل دیں گے، مشیر رہبر معظم

رہبر معظم کے مشیر نے واضح کر دیا ہے کہ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں جنگ کو دفاعی مرحلے سے جارحانہ مرحلے میں منتقل کیا جائے گا جس سے عالمی طاقت کا توازن بدل جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے مشیر اور معاون محمد مخبر نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ کو جارحانہ مرحلے میں منتقل کرنے کی رہبر انقلاب کی حکمت عملی دنیا میں طاقت کے توازن کے موجودہ معادلات کو یقینی طور پر تبدیل کر دے گی۔

محمد مخبر نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ میں امریکہ کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا آئندہ اقدام خطے میں طاقت کے نئے توازن کی تشکیل کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ایران کی شرائط پوری نہ کی گئیں تو جنگ کو جارحانہ مرحلے میں منتقل کرنا رہبر انقلاب کی قطعی حکمت عملی ہے، جو بلاشبہ دنیا میں طاقت کے توازن کے معادلات کو تبدیل کر دے گی۔

واضح رہے کہ 30 اپریل کو خلیج فارس ڈے کے موقع پر اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنی پالیسی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

رہبر انقلاب نے کہا تھا کہ خطے میں دنیا کی بڑی طاقتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اور جارحیت اور اپنے منصوبوں میں امریکہ کی ناکامی کے بعد، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران خلیج فارس کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ کے غلط استعمال کا خاتمہ کرے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا نیا انتظام خطے کے تمام ممالک کے لیے امن و ترقی اور معاشی فوائد کا باعث بنے گا۔

محمد مخبر نے کہا کہ ایران کا اگلا قدم اس بات پر منحصر ہوگا کہ تہران کی پیش کردہ شرائط پوری کی جاتی ہیں یا نہیں۔

ایران کی شرائط میں ایران کے خلاف دھمکیوں اور اس کی مذہبی و قومی اقدار کی توہین کا خاتمہ، ایران اور لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ و جارحیت کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔

ایران نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایران کے گرد موجود اپنی بحری و فضائی افواج واپس بلائے، ایران کے خلاف ہونے والی دو جنگوں میں پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے، ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کے منجمد اثاثے غیر مشروط طور پر آزاد کیے جائیں۔

مخبر نے مزید کہا کہ خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں امریکہ کی ناکامی نے واشنگٹن کی فوجی ضمانتوں سے آزاد ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام کی بنیاد فراہم کر دی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ میں امریکہ کی ناکامی کے بعد خطے میں ایک نئے اور پائیدار نظام کی تشکیل کا بہترین راستہ آبنائے ہرمز کے اقتصادی و سکیورٹی نظام کا قیام ہے، جو واشنگٹن کی فوجی ضمانتوں سے آزاد ہو۔

News ID 1940672

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha