6 اکتوبر، 2026، 8:32 PM

دفاعی سازوسامان کی پیداوار، جنگ سے پہلے کی نسبت 2.5 گنا بڑھ گئی ہے، جنرل طلائی

دفاعی سازوسامان کی پیداوار، جنگ سے پہلے کی نسبت 2.5 گنا بڑھ گئی ہے، جنرل طلائی

ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل طلائی نیک نے کہا ہے کہ ملک میں مقامی اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی پیداواری صلاحیت، رمضان دفاع مقدس کے آغاز سے قبل کے مقابلے میں ڈھائی گنا بڑھ گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان اور مسلح افواج کے معاون نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم رمضان دفاع مقدس کے سات ماہ سے زائد عرصے کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور دشمن کی مکمل شکست کے مرحلے میں ہیں۔ یہ کامیابیاں عوام، مسلح افواج کے جوانوں، رہبرِ انقلابِ اسلامی کی رہنمائی اور نظام کے مختلف ارکان کے تعاون سے حاصل ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں عوام کی میدان میں موجودگی، دفاعی طاقت میں اضافے اور قومی استقامت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ امریکی و صیہونی دشمنوں کی کسی بھی جارحیت یا شرارت کا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور دشمن کو بھاری شکست کا سامنا ہوگا۔

جنرل طلائی نیک نے مزاحمت اور قومی طاقت کو دشمن کی مکمل شکست اور ایرانی قوم کے حقوق کے حصول کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے سے امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور صیہونی حکومت کی شرارتوں کا خاتمہ حالیہ دفاع مقدس کی اہم کامیابیوں میں شامل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی و صیہونی قاتلوں اور دہشت گردوں کو سزا دینا اسلامی جمہوریہ ایران کا قطعی عزم ہے اور دشمن کے ہاتھوں شہید امام، بچوں، طلبہ اور دیگر متاثرین کے خلاف کیے گئے جرائم کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

وزارتِ دفاع کی گزشتہ سات ماہ کی کارکردگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میجر جنرل پائلٹ شہید نصیرزادہ کی شہادت کے بعد وزارتِ دفاع بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر ابن الرضا کی سرپرستی میں چلائی گئی۔ اس عرصے میں وزارت نے مسلح افواج کی ضروریات، بالخصوص جنگ کے دوران اہم دفاعی ضروریات پوری کرنے میں مؤثر اور اسٹریٹجک کردار ادا کیا۔

طلائی نیک نے کہا کہ تین ماہ قبل مقامی اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی پیداوار جنگ سے قبل کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب یہ صلاحیت ڈھائی گنا تک پہنچ چکی ہے۔ بعض دفاعی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ تین گنا سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

انہوں نے پیداواری صلاحیت میں اس اضافے کو علم پر مبنی کمپنیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے اور ملکی دفاعی صنعت کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ مقامی دفاعی پیداوار اور اسلحے کی فراہمی کی اسٹریٹجک گہرائی قومی طاقت کے اہم عناصر ہیں اور دشمن کے مقابلے میں ملک کی استقامت بڑھاتے ہیں۔
دفاعی نظریے میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق سوال کے جواب میں طلائی نیک نے کہا کہ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز اور مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی رہنمائی میں، فوج، سپاہ پاسداران اور پولیس کی ضروریات کے مطابق تحقیق، ترقی اور دفاعی سازوسامان و اسلحے کی پیداوار کے پروگرام جنگی حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے دفاعی نظریے کے مطابق جارحانہ اسلحے کی صلاحیتوں میں اضافہ بھی وزارت دفاع میں فعال طور پر جاری ہے۔ وزارت دفاع اور اس کے شراکت دار اداروں کے پیداواری نظام میں ایک ہزار سے زائد نظام، اسلحہ، سازوسامان اور گولہ بارود شامل ہیں، جن میں سے بعض کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ان کی پیداوار بھی بڑھائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دشمن ماضی کی غلطیوں کو دہراتے ہوئے دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جدید اسلحے اور پہلے سے زیادہ شدید ردعمل کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ممکنہ نئی جارحیت کی صورت میں کارروائی کے لیے مطلوبہ اہداف تیار ہیں اور میزائل، ڈرون، فضائی دفاع اور دیگر فضائی نظاموں میں جدید اسلحہ و ٹیکنالوجی مسلح افواج کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا دشمن کی کسی بھی غلط حساب کتاب کا نتیجہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ بھاری شکست ہوگا۔

News ID 1941919

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha