مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی وزارت انصاف کی جانب سے جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں قیدیوں کی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جو ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ فرانس کی جیلوں میں مجموعی طور پر صرف 63 ہزار افراد کی گنجائش ہے، جس کے مقابلے میں موجودہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران فرانس میں گرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث جیلوں کی گنجائش مکمل ہوچکی ہے۔ یہ ریکارڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس کے جیل نظام کی صورتحال پر عالمی سطح پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی پیرس سے جیلوں میں بڑھتے ہوئے ازدحام کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب فرانس میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران بھی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ فرانسیسی فورسز نے ملک بھر میں 1949 مظاہرین کو گرفتار کیا۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر پر پولیس اہلکاروں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس اور ژاندارمری کے 305 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ احتجاج کے باعث تقریباً 400 اسکول بند رہے اور ان میں تعلیمی سرگرمیاں صرف آن لائن طریقے سے جاری رہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔
فرانس کے وزیراعظم نے اس بحران کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل 600 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ فرانسیسی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے آگ لگانے اور پولیس اہلکاروں پر حملے کی کوشش کی تھی۔
جمعرات کی صبح طلبہ کا احتجاج یونیورسٹیوں تک بھی پھیل گیا۔ فرانس میں طلبہ کے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ تعلیمی وسائل کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور اساتذہ کی قلت کے خلاف جاری ہے۔
یہ احتجاج گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا اور لیون، لیل اور سین دینی سمیت مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر مظاہرین نے اسکولوں کے داخلی راستے بند کیے، جبکہ بعض علاقوں میں کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے اور اشیا پھینکنے کے واقعات بھی پیش آئے۔
آپ کا تبصرہ