مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شہید سید حسن نصر اللہ کے آثار و افکار کے تحفظ اور اشاعت کے ادارے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصر اللہ نے 23 سال کے دوران مزاحمتی محاذ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور عزت، آزادی اور سعادت کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم اور پائیدار ورثہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سید حسن نصر اللہ کے فکری، ثقافتی، سیاسی اور عملی افکار کو محفوظ، مرتب اور منظم کرنا مزاحمتی محاذ کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ان کے تحریری اور زبانی آثار کو جمع کرنے سے محققین، جامعات اور اداروں کو اس فکری ورثے سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا اور مزاحمت کے نظریے کو عوامی اور ابلاغی میدان میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان اور خطے میں اسلامی مزاحمت کے ڈھانچے کا استحکام دو بنیادی اصولوں یعنی اسلام ناب محمدی سے وابستگی اور جہادی ثقافت کی بنیاد پر تربیت پر استوار ہے۔ شہید سید حسن نصر اللہ نے اسلامی معارف کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کرکے نئی نسلوں کی تربیت اور دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے ایک جامع نمونہ پیش کیا۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے عاشورائی جہادی مکتب کو بھی مزاحمتی تربیت کا بنیادی ستون قرار دیا اور کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی فداکاری اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تبلیغ و جدوجہد سے وابستہ یہ مکتب آزاد انسانوں کی تربیت اور معاشرے میں حق کے قیام کی بنیاد ہے۔ شہید سید حسن نصر اللہ نے امام خمینی کے افکار سے بھی استفادہ کرتے ہوئے ثقافت عاشورا کو صرف محرم کے ایام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی پوری جہادی زندگی میں عملی شکل دی۔
انہوں نے ولایت اور ولایت مداری کو بھی اسلامی معاشرے اور مزاحمتی تحریک کے بنیادی اصولوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی اور شہید رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے فکری نظام سے وابستگی نے شہید سید حسن نصر اللہ کے مزاحمتی مکتب کی بنیادی سمت متعین کی۔ ان کے مطابق مہدویت، ثقافت انتظار، امت مسلمہ کی وحدت اور شیعہ سنی بھائی چارہ بھی شہید سید حسن نصر اللہ کی فکر کے اہم پہلو تھے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اگر جدید دور میں مزاحمت کی تعریف کی جائے تو سید حسن نصر اللہ اس کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے دفاع اور مزاحمت کی بنیادیں مضبوط کیں اور دنیا بھر کی مزاحمتی قوتوں کے درمیان اتحاد اور تعاون کے لیے کوشش کی۔
انہوں نے عراق کے عوام، مرجعیت اور عوامی رضاکار فورسز کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی مزاحمت اور قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ وہ اپنی قربانیوں اور استقامت کے ذریعے امریکی قابض افواج کو عراق سے نکلنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
جنوبی لبنان کی صورتحال کے حوالے سے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جنوبی لبنان کی آزادی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور اسرائیل کچھ عرصے بعد بھی جنوبی لبنان میں رہنے کے قابل نہیں ہوگا۔ مزاحمت نے ثابت قدم رہتے ہوئے غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ جب تک جارحیت موجود رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ مسئلے کا حل دشمن اور اسرائیل کے حامی امریکہ کے ذلت آمیز انخلا میں ہے۔
لبنان کے داخلی معاملات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی بیرونی حکم یا مداخلت کے خلاف ہے۔
انہوں نے فلسطین کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے کئی مراحل ہوتے ہیں، تاہم آخری مرحلہ اپنی سرزمین کے حق داروں اور مجاہدین و شہدا کے راستے پر چلنے والوں کا ہوگا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی قربانیوں کو عظیم قرار دیتے ہوئے غزہ، مغربی کنارے اور القدس سمیت فلسطین کی آزادی کے لیے کامیابی کی دعا کی۔
آپ کا تبصرہ