مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے سفیر اور اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندے غلام حسین درزی نے یمن کے حوالے سے امریکی نمائندے کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کو ایک خط ارسال کیا، جس میں انہوں نے یمن سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف امریکی الزامات کا جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بعض دیگر ارکان کی جانب سے 13 اگست 2026 کو مشرق وسطی کی صورتحال، یمن کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات قابل اعتماد ثبوت پر مبنی نہیں ہیں۔
ایرانی سفیر نے خصوصی طور پر امریکی نمائندے کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران یمن میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے یا ایران سے صنعا جانے والی تجارتی پروازوں کو فوجی اہلکاروں اور سازوسامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیا گیا، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کی خلاف ورزی ہو۔
درزی نے کہا کہ یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کے ثبوت کے طور پر کوئی معتبر شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ امریکہ ایک بار پھر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے، اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے اور یمن و خطے میں اپنے اقدامات کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کی جانب سے یہ الزامات عائد کرنا افسوسناک ہے جو خود ماضی میں متعدد بار غیرقانونی طاقت کے استعمال اور ایسے جارحانہ اقدامات میں ملوث رہا ہے جن کے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔
درزی کے مطابق، ایران کی جانب سے صنعا کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی نوعیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش، سخت پابندیوں اور محاصرے نے یمنی عوام پر انتہائی تباہ کن انسانی اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2016 میں باقاعدہ تجارتی پروازوں کی معطلی کے بعد لاکھوں یمنی باشندے آزادانہ آمدورفت اور ضروری خدمات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان میں بیرون ملک ضروری طبی علاج، تعلیم اور روزگار کے مواقع، خاندانوں سے دوبارہ ملنے اور انسانی امداد تک رسائی جیسے بنیادی معاملات شامل ہیں۔
درزی کے مطابق یمنی عوام تقریباً ایک دہائی سے تباہ کن تنازع، طویل محاصرے اور اہم شہری و غیر فوجی بنیادی ڈھانچے پر عائد پابندیوں کے نتائج بھگت رہے ہیں، جبکہ ان حالات کو امریکی سیاسی اور فوجی حمایت نے ممکن بنایا۔
انہوں نے یمن کے انسانی بحران کو دنیا کے سنگین ترین بحرانوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور ان کا مؤثر احتساب نہیں ہو رہا۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ امریکہ نے یمن میں سیاسی عمل کو کمزور کرنے میں بھی براہ راست کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق مارچ 2025 میں یمن کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی تھیں اور اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ ان اقدامات نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں جاری سیاسی عمل کی راہ میں مزید رکاوٹیں پیدا کیں۔
آپ کا تبصرہ