3 اکتوبر، 2026، 1:10 PM

ایران یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کے لیے تیار ہے، سینئر نائب صدر

ایران یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کے لیے تیار ہے، سینئر نائب صدر

ایرانی سینئر نائب صدر محمدرضا عارف نے کہا ہے کہ ایران یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی اور علاقائی تعاون بڑھانے میں فعال اور طویل مدتی شراکت دار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے سینیئر نائب صدر محمدرضا عارف نے یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک کے ساتھ فعال کردار ادا کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیلاروس میں یوریشین اکنامک یونین کی بین الحکومتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر عارف کا پیغام ایران کے سفیر نے پڑھ کر سنایا۔ اجلاس میں یونین کے رکن ممالک کے وزرائے اعظم اور اعلی حکام شریک تھے۔

ایرانی نائب صدر نے کہا کہ ایران یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ اقتصادی اور علاقائی تعاون کو وسعت دینے میں ایک فعال، قابل اعتماد اور طویل مدتی شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے سیاسی اور اقتصادی سلامتی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران حقیقی کثیرالجہتی، باہمی احترام اور اقوام کے مساوی حقوق پر یقین رکھتا ہے اور یوریشین اکنامک یونین کو علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔

رضا عارف نے اجلاس کی میزبانی پر بیلاروس کی حکومت اور عوام، خصوصا وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یوریشیائی ممالک کے درمیان ایران کی شرکت موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال اور یونین کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔

ایرانی نائب صدر نے اسلامی جمہوری ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں، اقوام متحدہ کے منشور اور آزاد ریاستوں کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے شہری تنصیبات اور نہتے ایرانی عوام کو پہنچنے والے نقصانات کی طرف بھی اشارہ کیا اور میناب کے ایک پرائمری اسکول میں بچوں کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ضوابط کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔

News ID 1941836

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha