مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے طریقہ کار کے غلط استعمال پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفارت کار نے ماہرین کے پینل کو دوبارہ فعال کرنے کی امریکی کوشش کو سیاسی محرکات پر مبنی، قانونی بنیاد سے محروم اور منافقانہ کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
انہوں نے سلامتی کونسل میں چین اور روس کے ویٹو کو اصولی اور ضروری اقدامات قرار دیا اور کہا کہ ان دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی سالمیت و اختیار کے دفاع کے لیے یہ اقدام کیا، تاکہ کونسل کے اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔
درزی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور اپنے طریقہ کار کو سیاسی بنانے یا ان میں جوڑ توڑ کی کوششوں کو مسترد کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے محدود سیاسی ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل کے طریقہ کار اور اختیارات کا بارہا غلط استعمال کرتے رہے ہیں۔
ایرانی نمائندے نے ایران کے جوہری معاملے کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کی جانب سے 2025 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری، یورپی تین ممالک کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنے اور اس کے بعد ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ایران نے نیک نیتی کے ساتھ سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تو امریکہ نے جارحیت کا راستہ چنا۔
درزی نے ایران کی جوہری سرگرمیوں میں فوجی انحراف کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا بیانیہ اور ایک بڑا جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ پہلی مرتبہ 2003 میں صہیونی حکومت نے یہ جھوٹ گھڑا تھا اور اس کے بعد سے امریکہ اور بعض یورپی ممالک اسے بار بار دہراتے رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صہیونی حکومت کے برعکس ایران 1970 سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا ذمہ دار رکن ہے اور تقریباً 25 برس سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی وسیع نگرانی میں ہے۔ اس کے باوجود ایران کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل کو مسلسل وسیع حمایت حاصل ہے۔
درزی نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس ایران پر الزامات عائد کرنے کے لیے کوئی قانونی، سیاسی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ خود جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ 17 ستمبر کو سلامتی کونسل ایران پر 2025 میں نام نہاد اسنیپ بیک میکانزم کے ذریعے دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں توسیع سے متعلق قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی تھی۔ قرارداد کے حق میں 11 ووٹ آئے، جبکہ چین اور روس نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا اور دو ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
آپ کا تبصرہ