مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز اس سوچ کے ساتھ کیا تھا کہ امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ تہران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا اور وہ ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست صدر کے طور پر اپنی تصویر قائم رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جنگ کے کئی ماہ بعد سامنے آنے والی صورتحال اس ابتدائی اندازے سے بہت مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ اسی بدلتی ہوئی صورتحال کی ایک دلچسپ مثال ٹرمپ کا خفیہ سفر ہے، جس کی تفصیلات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کی ہیں۔
ٹرمپ کو چھپانے کے لیے کیٹرنگ کیرئیر کا استعمال
رپورٹ کے مطابق، ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو اجلاس ختم ہونے کے بعد ٹرمپ بظاہر معمول کے مطابق صدارتی طیارے میں سوار ہوئے۔ صحافیوں اور بعض اعلیٰ امریکی حکام کو بھی یہی تاثر دیا گیا کہ صدر اسی طیارے کے ذریعے روانہ ہوں گے۔ لیکن چند ہی منٹ بعد صورتِ حال بدل گئی۔ ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر کھانا منتقل کرنے والی ایک گاڑی کے ذریعے خفیہ طور پر ایک چھوٹے فوجی طیارے تک پہنچایا گیا اور وہ اسی طیارے کے ذریعے برطانیہ روانہ ہوگئے۔
دوسری جانب صدارتی طیارہ صحافیوں اور امریکی حکام کے ساتھ روانہ ہوا۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی اسی طیارے میں موجود تھے۔ یوں یہ طیارہ بظاہر صدر کے سفر کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے ’’چارہ‘‘ طیارے کے طور پر استعمال ہوا۔ بعد میں ٹرمپ برطانیہ کے میلدن ہال فوجی اڈے پہنچے، جہاں وہ دوبارہ صدارتی طیارے میں سوار ہوگئے۔
ٹرمپ کے سفر کا خفیہ منصوبہ، خطرہ کتنا سنگین تھا؟
رائٹرز نے بھی ٹرمپ کی خفیہ منتقلی کو ایک قابل اعتبار خطرے سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خدشہ تھا کہ ٹرمپ کے طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے کسی میزائل کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس واقعے کی تصدیق تو کی، لیکن اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف وہی کیا جو امریکی خفیہ سروس نے انہیں کرنے کو کہا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے روایتی انداز میں یہ بھی کہا کہ بااثر صدور کو بہت سے خطرات کا سامنا رہتا ہے اور شاید وہ خود سب سے زیادہ بااثر صدر ہیں۔
لیکن اصل سوال ٹرمپ کے بیان کا نہیں بلکہ امریکی سکیورٹی اداروں کے فیصلے کا ہے۔ اگر خطرہ سنجیدہ نہیں تھا تو امریکی صدر کو ایک غیر ملکی ایئرپورٹ پر اپنے سرکاری طیارے سے خفیہ طور پر کیوں اتارا گیا؟ انہیں کھانا منتقل کرنے والی ایک گاڑی کے ذریعے دوسرے طیارے تک کیوں پہنچایا گیا؟ اور صدر کے اصل طیارے کو بطور قربانی استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ظاہر ہے، ایسے پیچیدہ حفاظتی انتظامات کسی معمولی خدشے کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔ تاہم یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ایران کی طرف سے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگانا، اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ تہران نے واقعی ٹرمپ پر حملے کا فیصلہ کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والا یہ خدشہ اپنے آپ میں ایرانی حملے کے فیصلے کو ثابت نہیں کرتا۔ لیکن اس بحث سے قطع نظر ایک حقیقت واضح ہے: امریکی سکیورٹی اداروں نے ممکنہ خطرے کو اتنا سنجیدہ ضرور سمجھا کہ صدر کو محفوظ رکھنے کے لیے طیارہ تبدیل کرنے اور باقاعدہ فریب پر مبنی حفاظتی کارروائی کا سہارا لیا گیا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کی سکیورٹی بڑھانے کے حوالے سے ایسے ہی اقدامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ نیو جرسی کے بیڈمنسٹر میں ٹرمپ کے گالف کلب کے قریب فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی بھی اسی بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشے کی ایک اور علامت سمجھی جا رہی ہے۔
طویل جنگ اور ایران کے بارے میں ٹرمپ کے غلط اندازے
ٹرمپ اپنی تقریروں میں خود کو ایک ایسے بے خوف رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں جو حالات کو مکمل طور پر اپنے قابو میں رکھتا ہے، لیکن اب مختلف مقامات پر ان کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یقینا صدر کی حفاظت کرنا امریکی سکیورٹی اداروں کی معمول کی ذمہ داری ہے اور محض سخت حفاظتی انتظامات کو کمزوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ایران اور امریکہ کی جنگ کے تناظر میں ان مناظر کا سیاسی مطلب مختلف ہوجاتا ہے۔
ٹرمپ نے جنگ کا آغاز امریکی طاقت کے مظاہرے کے لیے کیا تھا، مگر جنگ نے امریکی طاقت کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوریاں اور محدودیتیں بھی نمایاں کر دی ہیں۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران پر حملہ کرکے وہ ایسا کام کر سکتے ہیں جس میں گزشتہ کئی دہائیوں کے امریکی صدور ناکام رہے تھے یعنی تہران کے حساب کتاب کو تبدیل کرنا اور واشنگٹن کی مرضی ایران پر مسلط کرنا۔
یہ جنگ ٹرمپ کے لیے محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی برانڈ بنانے کا موقع بھی تھی۔ وہ خود کو ایسے صدر کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے جو اپنے پیش روؤں کے برعکس پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں اور جو معاملات کو کسی بھی قیمت پر انجام تک پہنچا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے ٹرمپ کے بنائے ہوئے اس منصوبے کو کامیاب ہونے نہیں دیا۔
چالیس روزہ جنگ واشنگٹن کی توقع کے مطابق نہ تو جلد ختم ہوئی اور نہ ہی کم قیمت ثابت ہوئی۔ اس کے برعکس، ایران کے ردعمل نے امریکہ کے کئی اندازوں پر سوال کھڑے کر دیے۔ ایران نے شدید فوجی دباؤ کے باوجود مزاحمت جاری رکھنے، جواب دینے اور مخالف فریق پر لاگت مسلط کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ نتیجتاً جو جنگ ابتدا میں محدود فوجی کارروائی اور واضح اہداف کے حصول کے لیے شروع کی گئی تھی، وہ ایک پیچیدہ اور طویل جنگ میں تبدیل ہوتی گئی۔
اب امریکہ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ایسی جنگ کا اختتام کب اور کیسے ہوگا، اس کی پیش گوئی آسان نہیں رہی۔ ٹرمپ نے جس جنگ کو امریکی طاقت کے مظاہرے اور فوری فتح کا ذریعہ سمجھا تھا، وہ اب واشنگٹن کے لیے ایک ایسے بحران میں تبدیل ہوچکی ہے جس کے انجام پر خود امریکی قیادت بھی مکمل یقین سے بات نہیں کرسکتی۔
ایران کے ساتھ جنگ ماضی کی ان جنگوں سے مختلف ہے جن میں واشنگٹن نے فضائی برتری اور بڑے پیمانے پر فوجی طاقت استعمال کرکے مختصر وقت میں جنگ کا رخ اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی۔ ایران کے معاملے میں امریکہ کو ایک کہیں زیادہ پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔
ایران کا وسیع جغرافیہ، مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے بنیادی ڈھانچے، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں، کئی دہائیوں سے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کا تجربہ اور ایسی دفاعی صلاحیتیں جن کے بارے میں مخالف فریق کو مکمل معلومات حاصل نہیں، کسی نئی جنگ کی منصوبہ بندی کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں۔ ایران ایسا ملک نہیں جسے نقشے پر چند فوجی اہداف کی نشاندہی کرکے جنگ ختم کرنے کا تصور کیا جاسکے۔
جنگ کا دائرہ ایران سے باہر تک پھیل سکتا ہے
ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کی صورت میں اس کے اثرات صرف ایرانی سرزمین تک محدود نہیں رہیں گے۔ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، توانائی کی ترسیل کے راستے، خلیج فارس کی سلامتی، آبنائے ہرمز اور حتی کہ عالمی معیشت بھی اس جنگ سے متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی فیصلہ صرف میدان جنگ سے متعلق فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ کئی علاقائی اور عالمی نتائج بھی جڑے ہوں گے۔
دوسری جانب جنگ کو جاری رکھنے کی قیمت خود امریکہ کو بھی بھاری پڑ رہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ پہلے ہی رپورٹ کر چکا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات نے امریکی محکمہ دفاع کے مالی وسائل اور ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے بڑھتے اخراجات کے باعث فوجی سازوسامان کی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے مختص بعض بجٹ بھی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔
یوں ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے صرف یہ سوال نہیں کہ وہ کتنی فوجی طاقت استعمال کرسکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت اور اس کے غیر یقینی نتائج کو کتنی دیر تک برداشت کرسکتا ہے۔
ٹرمپ کی ترجیح فتح نہیں، جنگ کا خاتمہ
امریکہ ایک بڑی فوجی طاقت ضرور ہے، لیکن اس کے فوجی وسائل لامحدود نہیں۔ ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی فوجی صلاحیتوں کے ایک ایسے حصے کو تھکا سکتی ہے جن کی ضرورت واشنگٹن کو چین، روس اور دیگر عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی ہے۔
اسی لیے اب امریکہ کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں رہا کہ ایران کو کیسے شکست دی جائے؟ بلکہ اس سے زیادہ اہم سوال یہ بن چکا ہے کہ اس صورتحال سے نکلا کیسے جائے؟
یہیں سے دلدل کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ دلدل کا مطلب لازماً فوجی شکست نہیں۔ ایسی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فوری فتح ممکن نہ رہے، جنگ جاری رکھنے کی قیمت مسلسل بڑھتی جائے اور اس سے نکلنا بھی اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے۔ ٹرمپ اس وقت اسی مشکل صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں۔
اگر جنگ جاری رکھتے ہیں تو انہیں مزید بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی اور تنازع کے پھیلنے کا خطرہ بھی قبول کرنا ہوگا۔ اگر پیچھے ہٹتے ہیں تو ایک ناقابل شکست صدر کی حیثیت سے بنائی گئی ان کی سیاسی تصویر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اور اگر مذاکرات کی طرف جاتے ہیں تو ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کے لیے اختیار کی گئی اپنی پالیسی کو سیاسی رعایتوں میں تبدیل کرنا پڑے گا۔
اسی لیے ایک طرف ٹرمپ کی جانب سے کھلے عام دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف سفارت کاری کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا جا رہا۔ یہ تضاد محض اتفاق نہیں۔ فوجی دھمکی مذاکرات کی میز پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے، لیکن جب مخالف فریق یہ ثابت کر دے کہ وہ دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں اور جواب دینے کے ساتھ ساتھ مخالف پر قیمت بھی عائد کرسکتا ہے تو محض دھمکی کی تاثیر کم ہونے لگتی ہے۔
ایران نے اس جنگ میں یہی دکھانے کی کوشش کی ہے کہ طاقت صرف جنگی طیاروں، طیارہ بردار بحری جہازوں اور بڑے دفاعی بجٹ کا نام نہیں۔ اصل طاقت مزاحمت کرنے، جواب دینے اور سب سے بڑھ کر مخالف کے حساب کتاب کو غلط ثابت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کا کیٹرنگ کیرئیر کے ذریعے خفیہ سفر محض ایک حفاظتی واقعہ نہیں رہتا، بلکہ ایک علامتی تصویر بن جاتا ہے؛ ایسی تصویر جس میں جنگ شروع کرنے والا طاقتور صدر اب اس جنگ سے محفوظ راستہ تلاش کرنے کی مشکل میں گھرا دکھائی دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ