2 اگست، 2026، 7:32 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

جنگ میں وقفہ یا نئی چال؟ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے؟

جنگ میں وقفہ یا نئی چال؟ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے؟

ٹرمپ انتظامیہ ایک جانب مذاکرات کی بات کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب فوجی دباؤ برقرار رکھ کر ایران کو امریکی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے پائیدار معاہدے کے امکانات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں باہمی عدم اعتماد، بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں اور غیر یقینی سفارتی ماحول نے خطے کو ایک نئی بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات پابندیوں، دھمکیوں، نامکمل مذاکرات اور بالواسطہ محاذ آرائی کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ اگرچہ 2015 کا جوہری معاہدہ وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے الگ کرنے اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی اپنانے نے دونوں ممالک کے درمیان موجود محدود اعتماد کو بھی ختم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو تہران مکمل اعتماد کے ساتھ قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔

دباؤ اور سفارت کاری ساتھ ساتھ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفارت کاری کو مستقل اور باہمی اعتماد پر مبنی عمل کے بجائے سیاسی اور فوجی دباؤ کے ساتھ استعمال ہونے والے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک طرف وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی بات کرتے ہیں، تو دوسری جانب سخت فوجی کارروائی اور شدید بمباری کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ طرز عمل سفارتی روایات کے برعکس ہے، کیونکہ کسی بھی کامیاب مذاکراتی عمل کے لیے اعتماد، لچک اور برابری کی بنیاد ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ٹرمپ انتظامیہ مسلسل یہ تاثر دیتی رہی ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت کامیاب تصور کیے جائیں گے جب ایران امریکی شرائط کو قبول کرے۔ اسی وجہ سے تہران بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں حقیقی مذاکرات ممکن نہیں ہوتے۔

مشرق وسطی میں نئی صف بندی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات صرف جوہری تنازع تک محدود نہیں بلکہ خطے میں ایک نئی سیاسی و عسکری صف بندی قائم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہیں۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل اور بعض عرب ممالک، کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کے علاقائی کردار کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

اسی تناظر میں واشنگٹن کی جانب سے صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ ایران کے دفاعی نظام، میزائل پروگرام، علاقائی تعلقات اور خارجہ پالیسی پر بھی نئی شرائط عائد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ مطالبات کسی ایک معاہدے کے بجائے ایران کی مجموعی تزویراتی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش ہیں، جس کے باعث تہران میں شکوک و شبہات مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ کا اصل ہدف کیا ہے؟

تجزیے کے مطابق صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح ایک ایسا فوری معاہدہ ہے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر محفوظ ہو، خطے میں کشیدگی کم ہو اور امریکہ خود کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویدار بنا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سخت فوجی کارروائی کی دھمکی کو بھی بطور دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایران امریکی شرائط کے مطابق مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوجی کارروائی کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا بلکہ اسے وقتی طور پر روک کر مذاکرات کے ذریعے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایک طرف جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی اخراجات سے بچنا اور دوسری جانب دباؤ کی فضا برقرار رکھنا ہے۔

امریکی داخلی سیاست بھی اس پالیسی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی دباؤ نے وائٹ ہاؤس کو یہ احساس دلایا ہے کہ طویل جنگ سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے سفارت کاری کو وقتی طور پر دوبارہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

علاقائی بحران مزید پیچیدہ

ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا۔ عراق، بحیرۂ احمر، اردن، خلیج فارس اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ مختلف محاذوں پر سرگرم مزاحمتی گروہوں اور امریکی افواج کے درمیان تناؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، بین الاقوامی تجارت اور سمندری راستے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے متعدد ممالک بھی اس بحران کے جلد خاتمے کے خواہاں ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے دباؤ اور مذاکرات کو ایک ساتھ چلانے کی حکمت عملی اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

پائیدار معاہدہ کن شرائط پر؟

اگرچہ جنگی کارروائیوں میں وقتی کمی آئی ہے، لیکن تاریخی بداعتمادی، معاہدوں کی خلاف ورزی کے سابقہ تجربات اور سفارت کاری کو فوجی دباؤ سے جوڑنے کی پالیسی نے مستقل معاہدے کی راہ کو اب بھی دشوار بنا رکھا ہے۔ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے قابلِ عمل ضمانتیں، واضح قانونی طریقۂ کار اور تعہدات پر حقیقی عمل درآمد ناگزیر ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن واقعی کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے دھمکیوں اور یکطرفہ مطالبات کے بجائے باہمی احترام، مساوی حیثیت اور قابلِ اعتماد سفارتی طریقۂ کار کو ترجیح دینا ہوگی۔ بصورت دیگر جنگ میں عارضی وقفہ صرف ایک مختصر مہلت ثابت ہوگا اور خطہ دوبارہ کسی نئے بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

News ID 1940522

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha