مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو فیصلہ کن انتخابات سے چند ہفتے قبل عالمی سطح پر تنہائی کی نئی اور بے مثال سطح کا سامنا ہے۔
اخبار نے موجودہ صورتحال کو نتن یاہو اور اسرائیل کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدھ تک نتن یاہو کے نیویارک کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ نتن یاہو جمعرات کو نیویارک پہنچیں گے اور رات قیام کیے بغیر براہ راست مقبوضہ علاقوں میں واپس جائیں گے۔
اسی حوالے سے امریکی ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز میں امریکہ اور مشرق وسطی کے تعلقات کے ماہر محقق جسی وائنبرگ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ حقیقت کہ نتن یاہو کا دورہ صرف ایک روز پر مشتمل ہے اور ٹرمپ بھی ان سے ملاقات نہیں کریں گے، اس پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس میں اسرائیل اور اس کی قیادت اس وقت گرفتار ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے نشاندہی کی کہ یہ تنہائی اچانک سامنے نہیں آئی۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نتن یاہو کی آمد کے بعد 50 سے زائد ممالک کے 100 سے زیادہ سفارت کار احتجاجاً اجلاس ہال سے باہر نکل گئے تھے، جسے اخبار نے ایک شدید اور غیر معمولی احتجاج قرار دیا۔
اخبار نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر شدید تنقید، مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع پر بڑھتے ہوئے عالمی غم و غصے اور وہاں اسرائیلی آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات کے باعث حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی عالمی حیثیت مزید تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔
اسی سلسلے میں برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 12 یورپی ممالک نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیاں عائد کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنیسٹ انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی نتن یاہو کے اندرونی ناقدین انہیں اور ان کی کابینہ میں شامل انتہا پسند عناصر کو اسرائیل کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح پیو انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے، جس کے نتائج اپریل میں جاری کیے گئے، میں بتایا گیا کہ 60 فیصد امریکی بالغ افراد اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں اور امریکی قانون سازوں میں اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد میں بنیادی تبدیلیوں کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے مزید کہا کہ یورپی ممالک میں اسپین اور اٹلی نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد ابتدائی ہفتوں ہی میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت محدود کرنے کے مطالبات شروع کر دیے تھے۔ فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد دیگر یورپی ممالک نے گزشتہ ایک سال کے دوران فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا ہے۔
ثقافتی سطح پر بھی اسرائیل کے خلاف تناؤ اور بائیکاٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ آئرلینڈ نے اعلان کیا کہ وہ یوروویژن مقابلے میں اسرائیل کی شرکت کے احتجاج میں اس مقابلے کا بائیکاٹ کرے گا۔ نیدرلینڈز، آئس لینڈ، سلووینیا اور اسپین نے بھی 2026 کے یوروویژن مقابلے کے بائیکاٹ میں آئرلینڈ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ