22 ستمبر، 2026، 3:59 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

مدینہ سے قم تک حضرت معصومہؑ کا سفر؛ ایک ہجرت جس نے تاریخ بدل دی

مدینہ سے قم تک حضرت معصومہؑ کا سفر؛ ایک ہجرت جس نے تاریخ بدل دی

مدینہ سے خراسان کی جانب حضرت فاطمہ معصومہؑ کی ہجرت اگرچہ قم میں ان کی رحلت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، تاہم ان کی آمد نے اس شہر کو شیعہ علمی، دینی اور روحانی مرکز میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: تاریخ میں بعض ایام ایسے ہوتے ہیں جب وقت بھی غم کی کیفیت میں ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور خاندان نبوت کی عظیم ہستیوں کی یاد میں زمین و آسمان سوگوار دکھائی دیتے ہیں۔ حضرت فاطمہ معصومہؑ کی ہجرت بھی تاریخ تشیع کا ایسا ہی ایک اہم واقعہ ہے، جس نے قم کی تاریخ اور شناخت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

حضرت فاطمہ معصومہؑ نے اپنے برادر بزرگوار امام رضا علیہ السلام کی زیارت اور ان سے ملاقات کی غرض سے مدینہ سے خراسان کی جانب سفر کا ارادہ کیا۔ یہ سفر مشکلات اور دشوار حالات کے باوجود انجام پایا اور حضرت معصومہؑ معرفت، ولایت اور اپنے امام سے محبت کے جذبے کے ساتھ خراسان کی طرف روانہ ہوئیں۔

تاریخی روایت کے مطابق اس زمانے میں عباسی حکومت کا دباؤ اہل بیتؑ کے پیروکاروں پر بڑھ رہا تھا اور حکمران خاندان علیؑ سے عوام کی بڑھتی ہوئی عقیدت سے خوفزدہ تھے۔ ایسے حالات میں حضرت معصومہؑ کا سفر استقامت، صبر اور ولایت سے وابستگی کی علامت بن گیا۔

سفر کے دوران بیماری اور رنج و مشقت کے باعث حضرت فاطمہ معصومہؑ قم پہنچیں، تاہم اپنی منزل یعنی اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام سے ملاقات تک نہ پہنچ سکیں۔ قم میں قیام کے صرف سترہ دن بعد وہ دار فانی سے رخصت ہوگئیں۔

حضرت معصومہؑ کی رحلت نے اہل تشیع کے لیے عظیم صدمہ پیدا کیا، لیکن قم میں ان کی تدفین نے اس شہر کی تاریخ کو ایک نئی سمت عطا کی۔ ان کا روضہ آج ایران اور عالم اسلام میں ایمان، عقیدت اور علوم اہل بیتؑ کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور قم دنیا بھر سے زائرین، علما اور اہل علم کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہؑ کی زندگی وفاداری، ولایت پذیری، عبادت، حیا اور صبر کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ ان کی ہجرت اگرچہ بظاہر ایک نامکمل سفر تھا، لیکن اس کے تاریخی اثرات نے قم کو شیعہ علمی اور روحانی مرکز کے طور پر ایک منفرد مقام عطا کیا۔

حضرت معصومہؑ کا علمی و معنوی مقام

حجت الاسلام حاجیان قمی نے مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ معصومہؑ کے علمی اور معنوی مقام کی چار ائمہ معصومینؑ نے مدح و تعریف فرمائی ہے۔ حضرت معصومہؑ کے مزار کی زیارت کے موقع پر پڑھی جانے والی زیارت نامہ بھی امام معصومؑ کی جانب سے منقول ہے اور اس حوالے سے تاریخی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ معصومہؑ سے متعدد روایات بھی منقول ہیں۔ ان سے منقول روایات میں بعض ایسی خواتین بھی شامل ہیں جن کی روایات مجموعی طور پر ’’احادیث فاطمیات‘‘ کے نام سے معروف ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت معصومہؑ نے کم عمری کے باوجود علمی اور شرعی سوالات کے جوابات بھی دیے۔

حجت الاسلام قمی نے کہا کہ تاریخ اسلام میں متعدد ہجرتیں ہوئی ہیں اور بعض مواقع پر آیات و روایات میں ہجرت کی تاکید بھی کی گئی ہے، تاہم ان میں بیشتر ہجرتیں مردوں سے متعلق تھیں۔ ان کے بقول حضرت فاطمہ معصومہؑ کی مدینہ سے خراسان کی جانب ہجرت نے مستقبل میں تشیع اور عالم اسلام میں فکری تبدیلی کی بنیاد فراہم کی۔

عبادت اور حیا کا نمونہ

انہوں نے حضرت فاطمہ معصومہؑ کی عبادت گزاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مختلف روایات موجود ہیں۔ ان کے مطابق حضرت معصومہؑ قم پہنچنے کے بعد موجودہ ’’بیت النور‘‘ میں مقیم ہوئیں اور اپنے سترہ روزہ قیام کے دوران عبادت میں مصروف رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ معصومہؑ کی حیا بھی مثالی تھی اور ہجرت کے آغاز سے قم میں قیام کے آخری ایام تک ان کے چہرہ مبارک کو محارم اور خواتین کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا۔

حجت الاسلام قمی نے حضرت فاطمہ معصومہؑ کی کرامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ متعدد مراجع تقلید اور علمای وارستہ علمی و معنوی امور اور مشکلات کے حل کے لیے آپ سے توسل کرتے رہے ہیں۔

حضرت فاطمہ معصومہؑ کی ہجرت اس اعتبار سے تاریخ تشیع کا ایک اہم واقعہ ہے کہ ان کا سفر قم میں اختتام پذیر ہونے کے باوجود اس شہر کو اہل بیتؑ کی محبت، علوم دینی اور زیارت کے ایک عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا۔

News ID 1941570

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha