مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران محاصرہ ختم ہونے، منجمد اثاثوں کی رہائی، تیل سے متعلق پابندیوں کے خاتمے، فوجی دھمکیوں اور کارروائیوں کے مکمل خاتمے سمیت معاہدے کی دیگر شقوں پر عملدرآمد سے قبل آبنائے ہرمز کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی حمایت، سفارتی کوششوں، عسکری تیاریوں اور سپریم لیڈر کی رہنمائی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں "اسلام آباد مفاہمتی معاہدے" کی صورت میں امریکہ کی سیاسی اور قانونی ناکامی کی علامت بن چکی ہیں۔
قالیباف نے الزام عائد کیا کہ معاہدہ قبول کرنے کے بعد مخالف فریق نے جلد ہی اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تاکہ اپنی سیاسی ناکامی کا ازالہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اور محاصرے میں نرمی کے نتیجے میں حاصل ہونے والے موقع نے ایران کو اپنی اقتصادی مزاحمت بڑھانے اور دفاعی صلاحیتوں کی بحالی میں مدد فراہم کی۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی نئی کارروائی یا جارحیت کی گئی تو تہران اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ