مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے حق میں تیسری بار ووٹ دیا اور جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔
گارڈین کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی جنگ پر کم از کم 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور اس کے نتیجے میں امریکی دفاعی میزائلوں کے ذخائر اس حد تک کم ہوگئے ہیں کہ انہیں دوبارہ بحال کرنے میں ممکنہ طور پر پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، قرارداد کے حق میں 220 اور مخالفت میں 204 ووٹ پڑے، جو سابقہ ووٹنگ کے نتائج سے ملتے جلتے ہیں۔ اس بار بھی کئی مزید ریپبلکن ارکان نے زیادہ تر ڈیموکریٹ ارکان کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایوان نمائندگان میں یہ آخری ووٹنگ ہوگی۔ ان انتخابات کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے اثرات اور امریکہ میں بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کا بحران ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان نے پہلی بار جون میں جنگی اختیارات محدود کرنے کی منظوری دی تھی، جبکہ جولائی میں ایک اور ووٹنگ کے ذریعے اس کی دوبارہ توثیق کی گئی۔ دونوں اقدامات کا مقصد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو روکنا تھا۔
امریکی سینیٹ نے بھی ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے حق میں دسویں کوشش میں ووٹ دیا تھا، تاہم اگلے ہی روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید تنقید کے بعد ریپبلکن سینیٹرز اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔
امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کو حاصل ہے، تاہم صدر بھی بعض فوجی اقدامات کی اجازت دے سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ