مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک_پروفیسر تنویر حیدر نقوی: خانۂ کعبہ کسی سلطنت کی جاگیر نہیں، کسی بادشاہ کا محل نہیں، کسی سیاسی جماعت کا دفتر نہیں اور کسی فوجی اتحاد کا مورچہ نہیں۔ وہ ایک ایسا گھر ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز کے لیے رخ کرتے ہیں۔ اس کی عظمت کسی حکومت کے فرمان سے نہیں، صدیوں سے جاری ایک ایمانی نسبت سے قائم ہے۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ انسان نے اکثر خدا کے گھر کو بھی اپنی سیاست سےمحفوظ نہیں رہنے دیا۔ کبھی مکہ کو بچانے کے نام پر جنگ کی گئی، کبھی مکہ کو خطرے میں دکھا کر فوجیں بلائی گئیں، کبھی حرمین کے تحفظ کو کسی حکومت کی بقا کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور کبھی مخالف فریق پر یہ الزام لگا کر کہ وہ مقدس مقامات کے لیے خطرہ ہے، عوامی جذبات کو متحرک کیا گیا۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ مکہ کو خطرہ ہے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ مکہ کے نام کو سیاسی دلیل کیوں بنایا جاتا ہے؟ 2 اگست 1990ء کو صدام حسین کی عراقی فوج نے کویت پر حملہ کیا۔
اس کے بعد سعودی عرب کے لیے صورتحال واقعی سنگین ہوگئی، کیونکہ عراق کی فوج کویت کے بعد سعودی سرحد کے قریب پہنچ چکی تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب میں بڑی تعداد میں فوجیں بھیجنا شروع کردیں۔ اس آپریشن کو بعد میں Operation Desert Shield کہا گیا۔ لیکن اس وقت ایک عجیب و پیچیدہ مذہبی صورت حال پیدا ہوئی۔ ایک طرف سعودی حکومت کو عراق سے فوجی خطرہ تھا، دوسری طرف امریکی فوجوں کی سرزمینِ حجاز میں آمد ایک انتہائی حساس مذہبی مسئلہ بن گئی۔خود صدام حسین نے امریکی فوجوں کی سعودی عرب میں موجودگی کو مکہ اور اسلامی مقدسات کی توہین کے طور پر پیش کیا اور عرب و مسلمان عوام کو مکہ کے دفاع کے نام پر متحرک کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ رابطۂ عالم اسلامی کے علماء کا خصوصی اجلاس مکہ میں ہوا، جس میں سعودی عرب کی طرف سے غیر مسلم امریکی فوجیں بلانے کے شرعی جواز پر بحث ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 350 علماء، مفکرین اور مذہبی رہنما اس بحث میں شریک تھے۔ یعنی مسئلہ صرف فوجی نہیں رہا تھا، جنگ کا میدان مذہبی تصور اور مقدس جغرافیہ تک پھیل چکا تھا۔ پاکستان سمیت کتنے ملک سعودی عرب گئے؟ یہاں بھی ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ خلیج فارس جنگ کے لیے بننے والے امریکی زیرقیادت اتحاد میں صرف امریکہ نہیں تھا۔
ایک معتبر امریکی نیشنل اکیڈمیز کے ریکارڈ کے مطابق جنگ کے عروج پر سعودی عرب میں یا خلیج فارس جنگ کے تھیٹر میں پاکستان کے تقریباً 4900 فوجی موجود تھے، مصر کے تقریباً 33600، شام کے 14500، مراکش کے 13000، عمان کے 6300، متحدہ عرب امارات کے 4300، قطر کے 2600 اور بنگلہ دیش کے 2200 فوجی بھی شامل تھے۔ برطانیہ کے تقریباً 45400 اور فرانس کے 14600 اہلکار تھے۔ امریکی GAO کی ایک دوسری رپورٹ پاکستان کی تعداد تقریباً 5000 بتاتی ہے اور بنگلہ دیش کی تعداد تقریباً 6000 تک بیان کرتی ہے، یعنی مختلف سرکاری/تحقیقی ذرائع میں اعداد میں کچھ فرق ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عراقی فوج سعودی سرزمین تک پہنچ بھی جاتی تو کیا اس کا لازمی مطلب یہ تھا کہ وہ خانۂ کعبہ کو نقصان پہنچاتی؟ بلکہ ہونا یہ تھا کہ وہ اس خانہء خدا کا طواف کرتی۔ وہ جیسی بھی تھی آخر اس فوج کے سپاہی کلمہ گو تو تھے ہی۔
کسی فوج کا کسی ملک پر حملہ کرنا اور کسی مقدس مقام کو تباہ کرنا دو الگ دعوے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی جذبات سیاست کا سب سے طاقتور ہتھیار بن جاتے ہیں۔ ایک عام مسلمان کے سامنے جب کوئی کہتا ہے: “مکہ خطرے میں ہے” تو وہ شخص فوجی نقشہ نہیں دیکھتا، وہ اپنے ایمان کا سب سے مقدس استعارہ دیکھتا ہے۔ اور جب جذبات اس مقام تک پہنچ جائیں تو سوال کرنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “خطرہ خانۂ کعبہ کو ہے” جیسا جملہ کسی بھی فوجی اتحاد کے لیے محض دفاعی دلیل نہیں رہتا، بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی ڈھال بن سکتا ہے۔ یمن کی جنگ میں یہ مسئلہ ایک نئے انداز سے سامنے آیا۔ 2016ء میں سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ انصاراللہ نے مکہ کی سمت بیلسٹک میزائل داغا۔ سعودی موقف کے مطابق میزائل مکہ سے تقریباً 40 میل کے فاصلے پر روکا گیا،جبکہ حوثیوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہدف جدہ کا ہوائی اڈا تھا اور ان کا مقصد مقدس مقامات کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
2017ء میں بھی سعودی حکومت نے مکہ کی طرف مبینہ میزائل حملے کو حج کے موسم کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔ سعودی کابینہ نے اسے نہایت سنگین مذہبی حملہ قرار دیا۔ یہاں ایک اہم بات ہے: کسی میزائل کا سعودی سرزمین کی طرف آنا ایک فوجی واقعہ ہے لیکن اسے “خانۂ کعبہ پر حملہ” قرار دینا ایک اضافی سیاسی و مذہبی تعبیر ہے، جسے ثبوت کے معیار پر الگ سے پرکھنا ضروری ہے۔ یہ فرق صحافت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ مقدس مقام سب سے طاقتور سیاسی علامت کیوں بن جاتا ہے؟ اس کی وجہ بہت گہری ہے۔
مقدس مقام دلیل کو جذبات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر حکومت کہے: “ہمیں اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے” تو عوام سوال کر سکتے ہیں: کیوں؟ کتنا خطرہ ہے؟ دشمن کی فوج کہاں ہے؟ کیا سفارتی راستہ موجود ہے؟
لیکن اگر کہا جائے: “مکہ خطرے میں ہے” تو سوال اچانک عقیدت کے سمندر میں ڈوبنے لگتا ہے۔ یہاں ریاست اور مذہب کے درمیان ایک نفسیاتی رشتہ پیدا ہوتا ہے: ریاست کہتی ہے: میں مقدسات کی محافظ ہوں۔ پھر آہستہ آہستہ ایک اور تصور جنم لیتا ہے: جو ریاست کے خلاف ہے، وہ مقدسات کے خلاف ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست خطرناک ہوجاتی ہے۔ کیونکہ حکومت کی مخالفت اور خدا کے گھر کی مخالفت کو ایک ہی چیز بنا دیا جاتا ہے۔ جب سیاست دان کو اپنے موقف کے لیے اخلاقی بلندی درکار ہوتی ہے تو وہ مقدس علامت تلاش کرتا ہے۔ مکہ، مدینہ، کربلا، نجف، قدس، مسجد اقصیٰ اور مقدس مقامات پوری انسانی تاریخ میں سیاسی اور مذہبی شعور کے طاقتور مراکز رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مقدس مقام خود سیاست نہیں کرتا، انسان اس کے نام پر سیاست کرتا ہے۔ اور یہی اس مضمون کا سب سے بڑا سوال ہے۔
اگر یمن کا کوئی جنگجو سعودی سرحد پار کرتا ہے تو یہ سعودی ریاست کے خلاف فوجی کارروائی ہے۔ اگر وہ کسی فوجی اڈے کو نشانہ بناتا ہے تو یہ ایک فوجی ہدف ہے۔ اگر وہ شہری آبادی کو نشانہ بناتا ہے تو یہ ایک الگ اور سنگین انسانی و قانونی مسئلہ ہے۔
لیکن ان سب واقعات کو ایک ہی چھتری کے نیچے لا کر یہ کہنا کہ: “خانۂ کعبہ خطرے میں ہے” ایک ایسا جذباتی چھلانگ ہے جسے قبول کرنے سے پہلے ثبوت کے ترازو پر رکھنا چاہیے۔
خدا کے گھر کی حفاظت کس کے ہاتھ میں ہے؟
خانۂ کعبہ کی حفاظت کسی بادشاہ کی
سیاسی ملکیت نہیں۔ قرآن نے اس گھر کو “بَیْتِیَ” کہا یعنی میرا گھر۔ یہ نسبت کسی حکومت کی نہیں، خدا کی طرف ہے۔ اس لیے اگر کوئی حکمران اپنے سیاسی مخالف کے خلاف لڑتے ہوئے کہے کہ “میں خدا کے گھر کا محافظ ہوں” تو سوال پیدا ہوتا ہے: کیا خدا کے گھر کی حرمت کو سیاسی جنگ کی سند بنایا جا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ مقدسات کی سیاست کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب کسی حکومت کو مقدس مقام کی محافظ اور حکومت کے دشمن کو مقدس مقام کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اختلاف رائے غداری بن سکتا ہے۔ تنقید گستاخی بن سکتی ہے۔ سیاسی مخالفت مذہبی دشمنی بن سکتی ہے۔ اور یوں جنگ “مقدسات کے دفاع” کے نام پر اخلاقی جواز حاصل کرسکتی ہے۔ ستمبر 2026ء میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
”انصارللہ“ کے جوابی حملوں کے نتیجے میں سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ مکہ دفاعی معاہدہ بھی اس نئے بحران کے تناظر میں زیر بحث آیا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کی پابندی کی تصدیق کی ہے، لیکن 10 ستمبر کو پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ فوری طور پر کسی فوجی کارروائی پر بات نہیں ہوئی۔ یہاں تاریخ جیسے خود کو دہرا رہی ہے: لیکن یہاں ایک فرق ہے۔
پہلے جارح عراق تھا، آج مدافع یمن ہے۔ لیکن سوال یہاں بھی ایک ہی ہے : کیا مقدسات امن کا حصار ہیں یا جنگ کا بیانیہ؟ لیکن آج یہاں ایک سوال بھی جنم لے رہا ہے۔ صدام حسین کی دھمکیوں کے مقابلے میں جب سعودی عرب نے حرم کے تحفظ کے نام پر حرم کی سرزمین پر اپنے اتحادی ملکوں کا ایک لشکر جمع کر لیا تھا تو اس وقت کے وہ مذہبی طبقات جو صدام حسین کو اپنا ہیرو سمجھتے تھے، وہ سعودی عرب کے اس بیانیے کو تسلیم نہیں کرتے تھے لیکن یمن کے معاملے میں آج وہی طبقہ سعودی عرب کے اسی پرانے اور گھسے پٹے بیانیے کو اپنا بیانیہ کیوں بنائے ہوئے ہیں؟
آپ کا تبصرہ